کراچی (نیوز ڈیسک) اسرائیل کی مغربی کنارے کی اراضی کو ریاستی ملکیت رجسٹر کرنے اور نئے ہوائی اڈوں کی منظوری، اقدام 1967میں قبضے کے بعد پہلی مرتبہ کیا جا رہا ہے، مغربی کنارے کے بڑے رقبے کو سرکاری زمین قرار دیا جائیگا۔ نئے ہوائی اڈے زیکلگ اور راموت ڈیوڈ میں ہوں گے، نیتن یاہو کا کہنا ہے اڈے سیاحت و فضائی سفر کی ضرورت پوری کرینگے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کی وسیع اراضی کو ریاستی ملکیت کے طور پر رجسٹر کرنے کی تجویز منظور کرلی. یہ اقدام 1967 میں اسرائیلی قبضے کے بعد پہلی مرتبہ کیا جا رہا ہے. منظور شدہ تجویز کے تحت مغربی کنارے (West Bank) کے بڑے رقبے کو سرکاری زمین قرار دیا جائے گا. تجویز انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزلل سموٹررچ Smotrich نے پیش کی. اس تجویز کی حمایت وزیر انصاف Yariv Levin نے بھی کی وزیر دفاع Israel Katz بھی اس تجویز کے محرکین میں شامل تھے. زیادہ تر فلسطینی اراضی باضابطہ طور پر رجسٹرڈ نہیں. اسرائیل کی کابینہ نے غزہ کی سرحد کے قریب ایک نیا بین الاقوامی ہوائی اڈہ تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ شمال میں لبنان کی سرحد کے قریب ایک اور ہوائی اڈے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہوائی اڈے ملکی سیاحت اور فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی مانگ کا حقیقی جواب فراہم کریں گے۔ نئے ہوائی اڈے زیکلگ اور راموت ڈیوڈ میں ہوں گے، جہاں زیکلگ غزہ سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور راموت ڈیوڈ موجودہ اسرائیلی فضائیہ کے اڈے پر واقع ہے۔ یہ منصوبہ اس دعوے کو تقویت دیتا ہے کہ اسرائیل امریکی ثالثی سے ہونے والے پچھلے سال کے جنگ بندی کے بعد معاشی ترقی کر سکتا ہے۔