• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک اور بیل آؤٹ لینا پڑے گا، پروفیسر اسٹیفن

اسلام آباد (مہتاب حیدر) پروفیسر اسٹیفن کا کہنا ہے کہپاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک اور بیل آؤٹ لینا پڑے گا ، لمز اور اے بی سی کے زیر اہتمام بجٹ ترجیحات پر اہم نشست میں ماہرین نے حکومت کو وارننگ دے دی۔ تفصیلات کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی میں اقتصادی پالیسی کے برطانوی پروفیسر اسٹیفن ڈیرکون نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اسٹرکچرل ریفارمز (بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات) کیےبغیر 4.75 فیصد یا 5 فیصد سے زائد کی شرح نمو کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایسی صورت میں وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف سے ایک اور بیل آؤٹ پیکیج مانگنے کے لیے واشنگٹن کی فلائٹ بک کرانا پڑے گی۔ پروفیسر اسٹیفن ڈیرکون، جو حالیہ برسوں میں معاشی معاملات پر شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت کو مشورے بھی دیتے رہے ہیں، نے ان خیالات کا برملا اظہار اتوار کی شام ایک پالیسی مکالمے میں کلیدی خطاب کے دوران کیا۔ یہ تقریب امریکن بزنس کونسل نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے تعاون سے قومی بجٹ سے قبل ترجیحات کے تعین کے لیے منعقد کی تھی۔ مہمان پروفیسر نے سامعین کو یاد دلایا کہ جنوری 2023 میں پاکستان کو ایک انتہائی مشکل معاشی صورتحال کا سامنا تھا، جب تاجر برادری کو ڈالر کے حصول میں دشواری پیش آ رہی تھی اور معاشی محاذ پر ہر چیز پیچیدگی کا شکار ہو گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی کی شرح میں کمی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حال ہی میں پیش گوئی کی ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو 4.75 فیصد تک جا سکتی ہے۔ پروفیسر ڈیرکون نے اسے پاکستان کے لیے بری خبر قرار دیا کیونکہ ان کے بقول ملک سیلاب کے اثرات کے باوجود ڈھانچہ جاتی اصلاحات کیے بغیر ہی بلند شرحِ نمو کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسی صورت میں وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف سے ایک اور بیل آؤٹ پیکیج مانگنے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنے موقف پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’مجھے فکر ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے بغیر ایک بار پھر معاشی ترقی کی رفتار بڑھ رہی ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری اور بچت کی شرح کم ہے جبکہ مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں برآمدات کا تناسب بھی جمود کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا فقدان واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ اس سمت میں نہیں جا رہا جہاں اسے جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین اور بھارت نے 80 اور 90 کی دہائیوں میں اپنی معیشتوں کو کھول کر اصلاحات کا عمل شروع کیا تھا، جس کے بعد ان کی معاشی ترقی کی رفتار میں پائیداری آئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پاکستانی تاجر برادری حکومت سے معیشت کو متحرک کرنے کے لیے ٹیکسوں کی شرح اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن یہ اقدامات صرف اسی صورت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جب ملک کی برآمدات میں اضافہ ہو۔ انہوں نے لیفر کرو کے نظریے کی مخالفت کی، جو یہ کہتا ہے کہ ٹیکس کی شرح میں کمی کے نتیجے میں ٹیکس ریونیو (آمدن) میں اضافہ ہوتا ہے، اور کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اس کا نتیجہ اس مساوات کے مطابق نہیں نکلا، لیکن پاکستان میں ہر کوئی ’لیفر کرو کا حوالہ دیتا نظر آتا ہے۔
اہم خبریں سے مزید