اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) حکومت نے آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کی نجکاری کی کوششیں تیز کردیں، سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے نیا فریم ورک، نیپرا کا کردار صرف نگرانی تک محدود ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے بجلی کی تقسیم کار تین بڑی کمپنیوں (ڈسکوز)یعنی اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ حکام پرامید ہیں کہ ان کمپنیوں کے حصص کی فروخت کا عمل رواں کیلنڈر سال کی دوسری ششماہی میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اعلیٰ ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ نجکاری کمیشن اس وقت ان تینوں اداروں کے مالیاتی ڈھانچے پر کام کر رہا ہے، جس کے ساتھ ساتھ اہم ریگولیٹری ترامیم بھی کی جا رہی ہیں تاکہ نجکاری کے عمل کو سہل اور ہموار بنایا جا سکے۔ تنظیم نو کے اس عمل کا ایک مرکزی پہلو شعبے کے ریگولیٹر’’نیپرا‘‘ کے کردار کی ازسرنو تعیین ہے، جس میں خاص طور پر اس کے صوابدیدی اختیارات کو محدود کرنا شامل ہے، تاہم اس کی نگرانی اور ریگولیٹری ذمہ داری کو برقرار رکھا جائے گا۔ حکام کے مطابق، مجوزہ ڈھانچے کا مقصد ریگولیٹری نگرانی پر سمجھوتہ کیے بغیر ان اثاثوں کو سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنانا ہے۔ نئے ماڈل کے تحت، نجکاری شدہ ڈسکوز کو روایتی انداز میں اپنے اثاثوں پر منافع کلیم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔