• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیس اصلاحات کے لیے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن، ہر شہری کو ’سر‘ کہا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب

لاہور(خصوصی نمائندہ)وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پولیس اصلاحات کیلئے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کردی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پولیس کو ہر شہر ی کو سر کہہ کر پکارنے کا حکم دیا ہے۔ہر تھانے کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے ازالے کے لئے پینک بٹن نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا-”مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سنٹر فار آٹزم“ کا دورہ، مختلف حصوں کا معائنہ،دو ٹریفک حادثات میں15قیمتی جانوں کے زیاں پر اظہار افسوس۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا،جس میں پولیس اصلاحات کا جائزہ لیاگیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پولیس اصلاحات کا جامع پلان طلب کرلیاہے۔ہر تھانے کے 10اہلکاروں پر باڈی کیم نصب کرنے اور انویسٹی گیشن کی ویڈیو اورآڈیو ریکاڈنگ کرنے کا اصولی فیصلہ کیاگیا-وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے باڈی کیم کے لئے فنڈز کی منظوری دے دی-پولیس سے متعلق چھوٹی چھوٹی شکایات دو تین گھنٹے کے اندر حل کر کے ازالے کا حکم دیا ہے-پنجاب بھر میں 14ہزار باڈی کیم اور700پینک بٹن لگائے جائیں گے-پنجاب میں ایف آئی آرکے اندراج کے لئے آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیاگیا-کاغذات اورشناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیاگیا-وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے آئی جی اوردیگر پولیس افسروں کو خود فون کر کے عوامی فیڈ بیک لینے کا حکم دے دیاہے-لاہور سمیت پنجاب میں ٹریفک کو لین میں چلنے کا پابند بنانے اور ضلعی انتظامیہ،سی اینڈ ڈبلیو اورٹیپا کو لین مارکنگ کی ہدایت کی ہے-لوگوں کو سڑک عبور کرنے کے طریقے کار سے آگاہی کا حکم دیاگیا-وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ٹریفک پولیس ون ایپ اورسیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا بھی آغاز کیا -بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایف آئی آر کے اندرا ج کیلئے پولیس پانچ سوال کر سکے گی۔پنجاب کے کرائم میں مجموعی طورپر 48فیصد اوربڑے جرائم میں 80فیصد تک کمی نوٹ کی گئی۔8منٹ میں رسپانس ٹائم دینے سے منفی فیڈ بیک کم ہوا۔ساہیوال اورگجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کال نہ ہونے کے برابرہے۔پراپرٹی کے جھگڑے کم ہونے سے کرائم میں کمی آئی۔پنجاب میں ہر سال ایک کروڑ 68لاکھ لوگ تھانوں کا وزٹ کرتے ہیں۔ 68فیصد لوگ پولیس خدمت مرکز کی سروسز کے لئے آتے ہیں۔ایف آئی آر کے دیر سے اندراج کی وجہ سے مجرم فائدہ اٹھاتا ہے۔
اہم خبریں سے مزید