اسلام آ باد ( رانا غلام قادر )کارپوریٹ سیکٹر کیلئے اہم خبر ہے کہ بین الااقوامی بندرگاہوں کی آپریٹر کمپنی ڈی پی ورلڈ کے سربراہ سلطان احمد بن سلیم امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے بعد مستعفی ہوگئے ہیں۔انہوں نے یہ استعفیٰ Epstein کی فائلوں کے لیک ہونے کے بعد دیا جن میں جیفری ایپسٹائن کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات کا انکشاف ہوا تھا۔ عالمی شہرت یافتہ کمپنی ڈی پی ورلڈ کا عیسیٰ کاظم کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین اور یووراج نارائن کو گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کرنے کا اعلان۔ محکمہ انصاف کی فائلوں اور حالیہ دیگر عوامی انکشافات سے پتہ چلا کہ دونوں افراد نے برسوں دوستانہ ای میلز کا تبادلہ کیاجن میں خواتین کے بارے میں غیر مہذب زبان کا استعمال بھی شامل تھا۔ تصاویر سے ظاہر ہوا کہ سلطان احمد بن سلیم نے ایپسٹائن کے جزیرے کا دورہ کیا تھا۔یہ معاملہ رواں ہفتے اس وقت سامنے آیا جب کانگریس میں انکشاف ہوا کہ دبئی کے اس تاجر کا نام "سلطان" تھا جسے 2019 میں ایپسٹائن کی ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں اس نے لکھا تھا: "مجھے تشدد والی ویڈیو بہت پسند آئی۔"جمعہ کے روز بن سلیم نے ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جو دبئی حکومت کی ملکیت ہے۔ ایپسٹائن سے وابستگی کے باعث اس سال مستعفی ہونے والی کاروباری شخصیات میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ جمعہ کو گولڈمین سیکس کی چیف لیگل آفیسر کیتھرین ریملر نے بھی جون میں استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ لاء فرم پال ویس کے سربراہ نے بھی گزشتہ ہفتے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ دونوں نے کہا کہ انہیں ایپسٹائن کے جرائم کے بارے میں علم نہیں تھا اور وہ اس سے وابستگی پر افسوس کرتے ہیں۔جاری کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سلطان احمد بن سلیم نے 2008 میں ایپسٹائن کی نابالغ سے جسم فروشی کے لیے راغب کرنے کے جرم میں سزا سے پہلے بھی اس سے رابطہ کیا تھا اور 2019 تک اس سے رابطے میں رہے، یعنی اسی سال جب ایپسٹائن کو وفاقی جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ایپسٹائن کی ای میلز کے مطابق، 2007 کے ایک تبادلے میں، ایپسٹائن اورسلطان احمد بن سلیم نے ایک ایسی عورت کے بارے میں بات کی تھی جو بظاہر دونوں کو جانتے تھے۔ یہ ای میلز ڈسٹری بیوٹڈ ڈینیئل آف سیکرٹس نے جاری کی تھیں، جو لیک شدہ دستاویزات شائع کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے۔