• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2024-25، کپاس کی پیداوار میں قدرے بہتری، 50 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی

اسلام آباد(تنویر ہاشمی)گزشتہ مالی سال 2024-25میں پاکستان میں کپاس کی پیداوار قدرے بہتری کے بعد50لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی جو مالی سال 2023-24میں 39لاکھ پر تھی16- 2015میں پاکستان میں کپاس کی پیداوار 70لاکھ گانٹھ ہوئی تھی تاہم اس کے بعد کپاس کی پیداوار میں بتدریج کمی آتی گئی،پاکستان کپاس میں خود کفیل ملک نہیں رہا، سالانہ 2سے3ارب ڈالر کی درآمدات کر رہا ہے، ایمپارک سٹریٹجز کی کپاس کی پیداوار پر تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مالی 2024-25 کے سیزن میں کپاس کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ ہوا تاہم یہ 2015 کی نسبت اب بھی کم ہے جس سے کپاس کی حالیہ سیزن میں جزوی بہتری کے باوجود یہ شعبہ سنگین خطرات کی زد میں ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حالیہ سیزن میں جزوی بہتری کے باوجود کپاس کا شعبہ بدستور سنگینی اور موسمیاتی مسائل کا شکار ہے، جس سے طویل المدتی استحکام خطرے میں پڑ گیا ۔پاکستان اب کپاس میں خود کفیل ملک نہیں رہا بلکہ سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات کر رہا ہے،جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور ٹیکسٹائل صنعت کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے،رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کو بنیادی خطرہ قرار دیا گیا ہے، بڑھتے درجہ حرارت، غیر متوقع بارشوں، پانی کی کمی اور کیڑوں کی بڑھتی مزاحمت نے فی ایکڑ پیداوار کو متاثر کیا ، اندازہ ہے کہ 2040 تک کپاس اگانے والے علاقوں میں درجہ حرارت میں 1.5 سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے، جو مزید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
اہم خبریں سے مزید