انسداد دہشتگردی عدالت نے جماعت اسلامی کے 30 کارکنوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
جلاؤ گھیراؤ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے کیس میں گرفتار افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا، تمام ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر میں کوئی ایسی چیز نہیں، جس سے دہشت پھیلنے کا اندیشہ ہو، ایف آئی آر میں فائرنگ کا ذکر ہے لیکن کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا، احتجاج عوامی حق ہے ایف آئی آر سے دہشتگردی کی دفعات ختم کی جائیں۔
دوران سماعت ایک کارکن کی حالت خراب ہوگئی، جسے این آئی سی وی ڈی منتقل کردیا گیا، عدالت نے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر مقدمہ کا چالان طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ کراچی میں 14 فروری کو جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے تھے، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی تھی، پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی۔