وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کےعلاج سے متعلق حکومت ذمے داری کا مظاہرہ کر رہی ہے، آنکھ کے بہترین ماہرین معائنہ کریں گے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت پڑی تو کریں گے جیسے پہلے پمز لایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت جو 8 ہزار قیدی جیل میں ہیں، سب کی صحت کی ذمے داری حکومت کی ہے، آئی ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ نے بانی کا معائنہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ رپورٹ کے مطابق ایک آنکھ مکمل ٹھیک ہے، دوسری کی بینائی 70 فیصد ٹھیک ہے، ہم نے پی ٹی آئی سے کہا ہے اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آج پارلیمنٹ اور باہر حالات نارمل ہیں، پی ٹی آئی اگر لان میں بیٹھنا چاہتی ہے تو بیٹھ جائے، یہ خیبر پختونخوا میں کاروبار زندگی کو معطل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے یہ بھی کہا کہ کچھ شاہراہوں کو بند کیا ہے، جہاں لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، بانی پی ٹی آئی کی جو ٹریٹمنٹ ہونی تھی وہ پمز سے ایک بار ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی جیل کے اندر جو ڈاکٹرز نے معائنہ کیا ہے، اسے تسلی بخش قرار دیا ہے، ہم نے پی ٹی آئی کے لوگوں کو دعوت دی کہ آپ اس معائنے میں شامل ہونا چاہیں تو ہوجائیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب جیل میں کل معائنہ ہورہا تھا تو ہم ان کی پارٹی کے لوگوں کا 2 گھنٹے انتظار کرتے رہے، دعوت دینے کے باوجود کل پی ٹی آئی والے نہیں آئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی ڈھیل یا ڈیل والی بات سامنے نہیں آئی، پی ٹی آئی ون مین شو ہے پارلیمانی پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں، بانی پی ٹی آئی کی ڈائریکشن صرف افراتفری پیدا کرنے والی ہیں۔