ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے پایا ہے کہ جن افراد کی خوراک میں سرخ گوشت (ریڈ میٹ) زیادہ شامل ہوتا ہے، ان میں ذیابیطس ہونے کا امکان اُن لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جو کم گوشت کھاتے ہیں۔
یہ مطالعہ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوا، جس میں پروسیسڈ اور غیر پروسیسڈ سرخ گوشت کے استعمال اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے کے 34 ہزار سے زائد بالغ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد سب سے زیادہ سرخ گوشت کھاتے تھے، ان میں ذیابیطس کی شرح نمایاں طور پر زیادہ تھی، حتیٰ کہ عمر، وزن، طرزِ زندگی اور دیگر غذائی عوامل کو مدنظر رکھنے کے باوجود بھی یہ نتیجہ سامنے آیا۔
سب سے زیادہ گوشت کھانے والے افراد میں ذیابیطس ہونے کا امکان تقریباً 49 فیصد زیادہ پایا گیا۔
پروسیسڈ گوشت اور غیر پروسیسڈ گوشت دونوں ہی ذیابیطس کے خطرے سے جُڑے ہوئے تھے۔ روزانہ گوشت کی ایک اضافی سروِنگ ذیابیطس کے امکانات کو 16 فیصد بڑھا دیتی ہے۔
خطرے کو کم کرنے کے طریقے
جینیات، ورزش کی کمی، خوراک اور موٹاپا ذیابیطس کے بڑے عوامل ہیں۔
تحقیق سے ثابت ہوا کہ خوراک میں تبدیلی، جسمانی سرگرمی اور وزن میں کمی جیسے طرزِ زندگی کے اقدامات ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو تقریباً 50 فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔
سرخ گوشت کی جگہ متبادل پروٹین ذرائع جیسے سبزیاں اور دالیں استعمال کرنے سے ذیابیطس کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔
مرغی، ڈیری مصنوعات اور ہول گرینز کا استعمال بھی کچھ حد تک فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کی وضاحت
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق مشاہداتی ہے، اس لیے یہ ثابت نہیں کرتی کہ سرخ گوشت براہِ راست ذیابیطس کا سبب بنتا ہے، بلکہ یہ صرف تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ خوراک کے انتخاب ذیابیطس کے خطرے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔