بالی ووڈ اداکار راجپال یادیو کو دہلی کی عدالت نے 9 کروڑ روپے کے چیک باؤنس کیس میں دی گئی سزا کو معطل کرتے ہوئے عبوری ضمانت دے دی جس پر اداکار کے بھائی کا ردِ عمل بھی سامنے آگیا۔
عدالت نے راجپال یادیو کی سزا کو 18 مارچ تک کےلیے معطل کیا ہے، جب کیس کی اگلی سماعت ہوگی۔ یادیو نے پیر کے روز شکایت کنندہ کو 1.5 کروڑ روپے ادا کیے، جس کے بعد انہیں ضمانت ملی۔
اداکار نے عدالت کو بتایا کہ ان کی بھتیجی کی شادی 19 فروری کو ہے۔ اس موقع پر راجپال یادیو کے بڑے بھائی سریپال یادیو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاندان اس بات پر بےحد مسرور ہے کہ وہ شادی میں شریک ہو سکیں گے۔
سریپال یادیو نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ نہ آتے تو شادی کا کیا مطلب رہ جاتا؟ جی ہاں، وہ خاندان کی سب سے بڑی کشش ہیں۔ شادی میں ساری رونق انہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
بھائی کا کہنا تھا کہ تمام تیاریاں مکمل تھیں، لیکن اچانک یہ معاملہ سامنے آیا اور وہ (راجپال) سوچ رہے تھے کہ شاید شریک نہ ہو سکیں۔ اب وہ آ رہے ہیں، ہم خدا کے بے حد شکر گزار ہیں۔ آپ سب نے ہمارا ساتھ دیا۔ پورے خاندان میں خوشی کی لہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر راجپال شریک نہ ہوتے تو جشن ادھورا رہ جاتا۔ اس سے بڑی راحت کوئی نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ نہ ہوتے تو کوئی مزہ ہی نہ رہتا، سب کچھ بے معنی لگتا۔
کیس کی تفصیل
سال 2010 میں راجپال یادیو نے بطور ہدایت کا اپنی پہلی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کے لیے مرلی پراجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا لیکن فلم باکس آفس پر ناکام رہی۔ قرض کی ادائیگی میں مبینہ تاخیر کے بعد معاملہ قانونی جنگ میں بدل گیا۔
اپریل 2018 میں مجسٹریٹ عدالت نے راجپال یادیو اور ان کی اہلیہ رادھا کو چیک باؤنس کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔
2019 کے اوائل میں سیشنز کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی، جس کے بعد یادیو نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
جون 2024 میں ہائی کورٹ نے ان کی سزا عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے انہیں 9 کروڑ روپے کی ادائیگی کے لیے ’خلوص اور سنجیدہ اقدامات‘ کرنے کی ہدایت دی۔
تاہم 2 فروری 2026 کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے انہیں سرنڈر کرنے کا حکم دیا کہ وہ بار بار اپنی ادائیگی کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔