• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ واقعی وزن کم کرنے میں مؤثر ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

وقفے وقفے سے روزہ رکھنا یا انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ حالیہ برسوں میں وزن کم کرنے کے ایک مقبول طریقے کے طور پر اپنائی جا رہی ہے، تاہم ایک نئی تحقیق میں اس کے نتائج کو محدود قرار دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ایک بڑے تحقیقی جائزے میں 22 سابقہ مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں تقریباً 2 ہزار بالغ افراد شامل تھے، اس جائزے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا 12 ماہ تک قلیل مدتی وقفے وقفے سے روزہ رکھنا وزن کم کرنے میں عام غذائی ہدایات یا کسی بھی رہنمائی کے بغیر رہنے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے یا نہیں۔

تحقیق کے مطابق زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار افراد میں کچھ دن روزہ رکھنا اور باقی دن معمول کے مطابق کھانا کھانے کا طریقہ وزن میں نمایاں کمی یا مجموعی معیارِ زندگی میں بہتری لانے میں خاطر خواہ مؤثر ثابت نہیں ہوا۔

جائزے میں سامنے آیا کہ روایتی غذائی مشوروں جیسے صحت بخش غذا کا استعمال یا کیلوریز کم کرنے کے مقابلے میں وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کا کوئی خاص اضافی فائدہ نہیں دیکھا گیا، حتیٰ کہ جن افراد کو کوئی غذائی مشورہ نہیں دیا گیا، ان کے مقابلے میں بھی نتائج میں زیادہ فرق سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وزن کم کرنے سے متعلق اس کے فوائد محدود ہو سکتے ہیں، لیکن یہ طریقہ جسمانی افعال یا بعض صحت سے متعلق پہلوؤں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کی مختلف اقسام رائج ہیں، جن میں روزانہ مخصوص وقت کے دوران ہی کھانا کھانا، ہفتے کے کچھ دن مکمل روزہ رکھنا یا معمول کے کھانے کے دنوں اور انتہائی کم کیلوریز والے دنوں کے درمیان رد و بدل شامل ہے۔

صحت سے مزید