چین کے قمری سالِ نو پر ہیومنائیڈ روبوٹس کا شو توجہ کا مرکز بن گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سالانہ سی سی ٹی وی اسپرنگ فیسٹیول گالا میں گزشتہ روز ملک کی جدید صنعتی حکمتِ عملی اور ہیومنائیڈ روبوٹس کی دوڑ میں سبقت حاصل کرنے کے عزم کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔
یہ نشریاتی تقریب چین میں ویسی ہی ثقافتی اہمیت رکھتی ہے جیسی امریکا میں سُپر بول کو حاصل ہے۔
تقریب میں 4 ابھرتی ہوئی ہیومنائیڈ روبوٹ کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کا عملی مظاہرہ کیا۔
پروگرام کے ابتدائی 3 خاکوں میں ہیومنائیڈ روبوٹس کو نمایاں جگہ دی گئی، خاص طور پر ایک طویل مارشل آرٹس مظاہرے میں درجن سے زائد یونٹری روبوٹس نے بچوں کے ساتھ تلواروں، لاٹھیوں اور نَن چَکس (مارشل آرٹس کی ایک قسم) کے ساتھ مربوط جنگی حرکات پیش کیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک منظر میں چین کے روایتی ڈرَنکن باکسنگ انداز کی لڑکھڑاتی چال کی نقل بھی کی گئی، جس سے ملٹی روبوٹ کوآرڈینیشن اور گرنے کے بعد خود سنبھلنے جیسی تکنیکی صلاحیتوں کا اظہار ہوا۔
افتتاحی خاکے میں علی بابا کے اے آئی چیٹ بوٹ ڈوباؤ کو بھی نمایاں کیا گیا، جبکہ نوئٹکس کے 4 روبوٹس نے مزاحیہ اسکیچ میں انسانی اداکاروں کے ساتھ شرکت کی۔
اسی طرح میجک لیب کے روبوٹس نے گانے ’وی آر میڈ اِن چائنا‘ پر ہم آہنگ رقص پیش کیا۔