ایران جہاں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا جواب میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دے رہا ہے، وہیں اس نے لیگو طرز کی اینیمیٹڈ ویڈیو جاری کر کے پروپیگنڈا وار کا مقابلہ بھی شروع کر دیا ہے۔
اس لیگو طرز کی اینیمیٹڈ ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ، بموں اور جنگی طیاروں کی کھلونا نما جھلکیاں دکھائی گئی ہیں۔
ایران کے سرکاری ادارے روایتِ فتح انسٹی ٹیوٹ نے یہ ویڈیو 28 فروری کو ہونے والے امریکا اسرائیل حملوں کے بعد سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کی جن میں سُپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔
2 منٹ کی اس ویڈیو کو بعد ازاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بھی شیئر کیا گیا، جہاں اسے سینکڑوں لائکس اور شیئرز ملے۔
ویڈیو میں کوئی مکالمہ شامل نہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے عالمی سطح پر ناظرین تک پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، یہ جنگ توانائی اور اسٹاک مارکیٹوں کو ہلا چکی ہے اور عالمی رائے عامہ کو بھی تقسیم کر رہی ہے۔
ویڈیو کے آغاز میں لیگو طرز کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دکھایا گیا ہے، جن کے دونوں جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور شیطان کھڑے ہیں، جبکہ وہ ایپسٹین فائل کے عنوان سے ایک البم دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
غصے میں آ کر ٹرمپ ایک سرخ بٹن دباتے ہیں جس سے جنگ شروع ہوتی ہے اور بادلوں کے درمیان سے ایک میزائل داغا جاتا ہے جو ایک ایسے مقام پر گرتا ہے جو بظاہر ایک کلاس روم لگتا ہے، یہاں کھلونوں کی شکل میں گلابی اسکارف پہنی بچیاں اپنی مسکراتی ہوئی استانی کی بات سن رہی ہوتی ہیں۔
استاد جب بلیک بورڈ پر ’میرا وطن میری زندگی ہے‘ کے الفاظ لکھتی ہے تو اسکرین تاریک ہو جاتی ہے، اگلے منظر میں حملے کے ملبے میں ایک گلابی بیگ اور گلابی جوتوں کا جوڑا دکھایا جاتا ہے۔
بعد ازاں دکھایا گیا ایک ایرانی افسر وہ بیگ اٹھاتا ہے اور رونے لگتا ہے اور اس کا غم آہستہ آہستہ غصے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ جنگ کے پہلے دن جنوبی شہر میناب میں ایک اسکول پر مہلک حملہ کیا گیا۔
قومی جذبے سے بھرپور موسیقی کے ساتھ ویڈیو کے اگلے حصے میں پاسدارانِ انقلاب کو خطے بھر میں امریکی مفادات اور اسرائیل پر جوابی حملے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو کے اختتام پر ایک پیغام دکھایا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ویڈیو ان طلبہ کی یاد میں بنائی گئی ہے جو صہیونی اور امریکی دہشت گردوں کے ہاتھوں اس حملے میں شہید ہوئے۔
مذکورہ 2 منٹ کی ویڈیو کے بعد ایران نے ایک اور اسی نوعیت کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں نئے سُپریم لیڈر مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی نامزدگی کے عمل کو دکھایا گیا ہے۔