• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا: سول رائٹس کے عظیم رہنما جیسی لوئس جیکسن چل بسے، دنیا ایک اور انسانی حقوق کے علمبردار سے محروم

جیسی جیکسن---فائل فوٹو
جیسی جیکسن---فائل فوٹو 

امریکی سیاست اور انسانی حقوق کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرنے والے رہنما ریورنڈ جیسی لوئس جیکسن سینئر 84 برس کی عمر میں چل بسے۔

ان کے انتقال کے ساتھ ہی امریکا میں ایک ایسی آواز خاموش ہو گئی جو 6 دہائیوں تک نسلی برابری، معاشی انصاف اور مذہبی آزادی کے حق میں گونجتی رہی۔

جیسی جیکسن کا نام امریکی سول رائٹس تحریک کی تاریخ سے جدا نہیں کیا جا سکتا، وہ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور شہری حقوق کے تاریخی مارچوں میں شریک رہے۔

کنگ کے قتل کے بعد جب تحریک ایک نئے موڑ پر کھڑی تھی تو جیکسن نے قیادت کا بوجھ سنبھالا اور جدوجہد کو سیاسی اور سماجی دونوں محاذوں پر آگے بڑھایا۔

انہوں نے Operation PUSH اور بعد ازاں Rainbow PUSH Coalition کی بنیاد رکھی تاکہ سیاہ فام، لاطینی، مزدور، غریب اور دیگر محروم طبقات کو سیاسی اور معاشی عمل میں شامل کیا جا سکے۔

1984ء اور 1988ء میں وہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بنے، اگرچہ وہ صدارت تک نہ پہنچ سکے لیکن ان کی مہم نے امریکی سیاست میں ایک نئی فضا پیدا کی۔

انہوں نے ثابت کیا کہ اقتدار کی دوڑ میں شامل ہونا صرف اشرافیہ کا حق نہیں بلکہ وہ لوگ بھی اس سفر کا حصہ بن سکتے ہیں جن کی آوازیں دہائیوں تک دبائی جاتی رہی تھیں۔

اِن کا نعرہ ’Keep Hope Alive‘ صرف انتخابی سلوگن نہیں بلکہ ایک اخلاقی اعلان تھا کہ امید ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔

جیسی جیکسن کی جدوجہد صرف سیاہ فام امریکیوں تک محدود نہ تھی، اُنہوں نے عرب اور مسلم امریکیوں کے حقوق کے لیے بھی کھل کر آواز اٹھائی، 2010ء میں جب نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے قریب اسلامی مرکز کی تعمیر پر تنازع کھڑا ہوا اور نفرت کی سیاست نے زور پکڑا تو جیکسن نے واضح طور پر کہا کہ مذہبی آزادی امریکی آئین کا بنیادی ستون ہے اور اسے خوف کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔

اُنہوں نے یاد دلایا کہ اگر کسی ایک مذہب کی آزادی پر قدغن لگائی گئی تو یہ پوری جمہوری روایت کے لیے خطرہ ہو گا۔

2011ء میں انہوں نے CAIR شکاگو کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے مسلم کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ انصاف کا پیمانہ مذہب کے مطابق تبدیل نہیں ہوتا۔

2015ء میں جب بعض حلقوں کی جانب سے مسلمانوں کے لیے خصوصی شناختی کارڈز کی تجاویز اور پناہ گزینوں کے خلاف بیانات سامنے آئے تو جیکسن شکاگو کے مضافاتی علاقے میں مسلمانوں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوئے اور خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں تاریخ کے سیاہ ابواب کی یاد دلاتی ہیں، ان کے نزدیک شہری حقوق کا مطلب ہر اس انسان کا دفاع تھا جسے خوف یا تعصب کا سامنا ہو۔

2016ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نیشنل کنونشن کے دوران انہوں نے مسلم ڈیموکریٹک کاکس کے ظہرانے میں بھی شرکت کی تھی اور مسلمانوں کے حقوق اور ان کے امریکی انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لینے پر ان کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اُنہوں نے جنوبی افریقا میں نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھائی، کیوبا اور مشرقِ وسطیٰ میں قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سفارتی کردار ادا کیا اور کارپوریٹ دنیا کو تنوع اور مساوات کی طرف مائل کرنے کی مہم چلائی، اِنہیں صدارتی تمغۂ برائے آزادی سے نوازا گیا مگر ان کی اصل پہچان وہ اخلاقی جراّت تھی جو اِنہیں ہر ناانصافی کے خلاف کھڑا کرتی تھی۔

اِن کے انتقال پر امریکی اور عالمی رہنماؤں نے انہیں انسانی وقار، شمولیت اور امید کی علامت قرار دیا ہے، اُنہوں نے رنگ، نسل اور مذہب کی دیواروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور اس یقین کو مضبوط کیا کہ جمہوریت صرف اکثریت کا نام نہیں بلکہ ہر اس فرد کی شمولیت کا وعدہ ہے جو اس سر زمین پر مساوی حق رکھتا ہے۔

مقامی مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جیسی جیکسن ہمارے درمیان نہیں رہے تو یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ دنیا ایک اور انسانی حقوق کے علمبردار سے محروم ہو گئی ہے، ایک ایسی آواز جو کمزوروں کے حق میں بلند ہوتی تھی، ایک ایسا چہرہ جو ناانصافی کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا تھا مگر شاید اصل رہنما کبھی مرتے نہیں، وہ اپنی جدوجہد کو تاریخ کے سپرد اور آنے والی نسلوں کے لیے امید کا چراغ روشن کر جاتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید