وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے میں ضلع کچہری لاہور نے مقدمے کی مدعی عظمیٰ بخاری کو 24 فروری کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا۔
جوڈیشل مجسریٹ نعیم وٹو نے فیک ویڈیو کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا جس کے مطابق مدعی کی درخواست پر کیس 11 بجے کے لیے فکس کیا گیا ہے۔
تحریری حکم کے مطابق سارا دن متعدد بار کیس کال ہوا، تمام ملزمان اور ان کے وکلاء عدالت میں موجود رہے، کام کے بہت زیادہ بوجھ کے باوجود کیس مسلسل انتظار میں رکھا گیا، مدعی سائیڈ عدالتی نائب قاصد کو موبائل پر بار بار کیس انتظار میں رکھنے کا کہتی رہیں۔
تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ آخر میں مدعی سائیڈ نے دیگر گواہوں کو طلب کرنے کی استدعا کی، مدعی سائیڈ کا رویہ قابلِ تعریف نہیں، عدالت پہلے ہی طے کر چکی ہے کہ سب سے پہلے مرکزی گواہ کا بیان ریکارڈ ہو گا، عدالت مدعی کے وارنٹ جاری کرنے سے پہلے مدعی کو ایک موقع دینا چاہتی ہے۔
تحریری حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدعی 24 فروری کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے عدالت کے روبرو پیش ہو۔
واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے فیک ویڈیو کیس میں فلک جاوید سمیت دیگر کے خلاف چالان جمع کرا رکھا ہے۔