"ہر روزے سے ایک سبق ملتا ہے ۔ہر سجدے سے دل گلاب کی مانند کھلتا ہے ۔رمضان ایک مہینہ، کتنا روشن کتنی چمک ۔ایک سفر بہت گہرا بہت جامع ،منزل کی طرف لے جاتی دمک "(شیخ محمد بن راشد المکتوم کی نظم سے) رمضان کریم۔ آپ سب کو مبارک ہو۔ حاکم شہر جب شاعر ہو صاحب ادراک بھی تو ماہ رمضان کا استقبال تو ہر جہت سے ہوگا ۔مہینہ بھرکیلئے تقریبات کے انتظامات ایک ولولہ تازہ دے رہے ہیں۔ضروری اشیا کی قیمتیں بڑھنے نہیں دی جاتیں۔ عالم عرب میں لالٹین رمضان کا نشان قرار دی جاتی ہے۔ برکتیں رحمتیں مغفرتیں ہمیں اپنی آغوش میں لینے والی ہیں ۔ فروری 2026 کا "عریبین بزنس" کا اداریہ کہہ رہا ہے "سرمایہ ہمیشہ سیاست سے زیادہ ایماندار رہا ہے"ایک جملہ اور بھی اچھا لگا ہے " ہم گہرائی کی تعمیر کر رہے ہیں"ہم میاں بیوی ایک رحل نما عمارت میں داخل ہو رہے ہیں بیٹی ہمیں یہاں لے کر آئی ہے۔ ایک شاعر اگر حکمران ہے تو اس کا ہر اہتمام قابل رشک اور قرینے سےہوگا ۔وہ استعارے تعمیر کرے گا۔ تشبیہیں بانٹے گا۔ دبئی کریک کے پرفضا کنارے پرقائم محمد بن راشد لائبریری 581903 مربع فٹ پر سات منزلوں میں 54 ہزار تعمیر شدہ رقبہ ۔یہ رحل 16 جون 2022 میں کھلی تھی ۔میں تو جہاں بھی جاتا ہوں اپنے عظیم وطن میں یا دوسرے ملکوں میں آپ کو ساتھ لے کر چلتا ہوں۔ یہاں تو کتابیں سانس لے رہی ہیں۔ آپ بھی حرف و دانش کے دلدادہ ہیں یہاں تو آپ کو ہر گام ساتھ رکھنا ہوگا۔ رحل کی طرز کی تعمیر۔ محرابیں۔ تکونیں وسعتیں ۔دن کی روشنی۔ ہر رنگ کی کرسیاں،صوفے۔ہر منزل پر تاریخ اپنی آغوش میں لیتی ہوئی۔ جغرافیہ ،فلسفہ ،نفسیات، قانون،سوشیالوجی،مذاہب کامطالعہ ،ریاضی، طب ادویات، اکنامکس، انجینئرنگ تو قدیم موضوعات ہیں۔یہاں ہمیں کارپوریٹ کمیونیکیشن سسٹینیبلٹی، سٹریٹیجک انوویشن، پرائیویٹائزیشن، پروفیشنل ریلیشنز،رینیویبل انرجی، کرپٹو کرنسی،فوڈ سیکیورٹی، واٹر پروجیکٹس، لیڈرشپ،سٹریٹیجک تھنکنگ، کوآپریٹوز پر بھی بے شمار کتابیں نظر آرہی ہیں ۔عربی زبان تو صدیوں کا تمدن رکھتی ہے۔ثقافت شعر و ادب حکمت سے مالا مال ہے۔ حکمران اپنے مستقبل کا وژن رکھتے ہیں۔ اپنی آتی نسلوں کو ہر قسم کے آئندہ سے مزین کرنا چاہتے ہیں۔ ایجوکیشن کا عربی مترادف "التربیت" طے کیا گیا ہے۔اس سے ہی آپ ایجوکیشن کی اہمیت کا اندازہ لگا لیجئے .دبئی،راس الخیمہ، شارجہ، مسقط کی تاریخ الموسیقی، العمارۃ فی الامارات اور ایک اہم موضوع ہے: تاریخی عمارات کی بحالی۔اس رحل نما عمارت میں چند ساعتوں کیلئے نہیں چند ہفتوںکیلئے آئیے۔ ساری سہولتیں ہیں۔ آپ اکیلے اطمینان سے کسی شعبے میں مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو اپ کیلئے "مناطق القرات الفردیہ" گوشہ ہر منزل پہ موجود ہے۔ کوئی آپ کی خلوت میں مخل ہوگا نہ آپ کسی کے مطالعے میں خلل ڈالیں گے۔ لیپ ٹاپ کیلئے چارجنگ ہے ۔موبائل فون کیلئے بھی ۔وائی فائی کی آسانی ۔دنیا بھر سے مربوط رہیں ۔اپنےتعلیمی سفر کیلئے پڑھنا ہے یا زندگی بھر کے سفرکیلئے۔کسی پروجیکٹ کو مکمل کرنا ہے یا ادب وشعر کی دنیا میں گردش کرنا ہے۔ سمندر کی تہوں میں اترنا ہے۔ خلاؤں کو تسخیر کرنا ہے۔ تو جدید تر عربی زبان میں ہر شعبے کی معلومات مطبوعہ بھی ہیں اور ڈیجیٹل بھی۔ 10 لاکھ سے زیادہ مطبوعہ کتابیں ہیں۔ مسودے۔ مخطوطات اس کے علاوہ ....پہلے ساتویں منزل میں چلتے ہیں جہاں نایاب کتب کی نمائش ہوتی ہے۔ اس وقت یہاں قرآن پاک کے قدیم نسخوں قدیم نقشوں اور گزری صدیوں میں چھپنے والی کتابوں کی خاموش نمائش جاری ہے ۔حال ماضی سے آگاہ ہوئے بغیر کیسے سمجھ میں آ سکتا ہے۔ مستقبل کی تعمیر ماضی اور حال کے بنا کیسے ممکن ہے۔ آج کا طفل کل کا جوان ہوگا اور خلیج کی اقتصادیات کو مستحکم کرے گا ۔بچوںکیلئے 84 ہزار کتابیں دستیاب ہیں۔ اسکولوں والے پہلے سے وقت طے کر کے بچوں بچیوں کو حسین رنگ یونیفارموں اور پیلی اسکول بسوں میں لے کر آتے ہیں انکی پارکنگ کیلئےالگ مقامات مخصوص ہیں۔ پانچ سال کی عمر سے اوپر کے بچوںکیلئے کھلی دعوت ہے ۔لائبریری میں مشتاقان مطالعہ اپنی گاڑیوں میں آئیں تو 300 کاروں کیلئے سایہ دار پارکنگ کا اہتمام ہے۔ نابیناؤں کیلئےجدید ترین مطالعے کی سہولتیں بھی موجود ہیں۔ ہر منزل پر جانے کیلئے لفٹ بھی ہے ۔برقی سیڑھیاں بھی۔ یہاں جب آپ داخل ہوں تو آپ کے کندھے اور گھٹنے ڈھکے ہوئے ہوں۔ کتاب کے احترام میں یہ لباس ضروری ہے۔ دیکھنے کو پڑھنے کو اتنا کچھ ہے۔ مجھے قتیل شفائی اور مہدی حسن یاد آرہے ہیں: "تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو..... یہ مری عمر محبت کیلئے تھوڑی ہے"یہ آپ کی اور ہماری عمر کتابوں کیلئے بہت تھوڑی ہے۔ دبئی میں ہمارا مختصر قیام اس لائبریری کی ساری منزلیں سر کرنے کیلئے بہت کم ہے۔ ہر قدم اک جہانِ دیگر ہے۔ لغت کا شعبہ شروع ہوتا ہے ۔تو وہ ختم نہیں ہونے پاتا ۔ماحول اتنا مہرباں،بیٹھنے کے انداز اتنے خوشگوارجس نے بھی یہ ڈیزائن سوچا۔رنگوں کا انتخاب کیا۔ اسکے تصور اور بصیرت کو سلام۔یہاں فطرت کتنی قریب ہے۔باہر بھی ہریالی ہے اندر بھی ایسا ہی سماں تخلیق کیا گیا ہے۔ساتھ ہی سمندر کی ہوا آپ کو اپنی طرف بلاتی ہے۔ ادھر کتاب آپ کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ سورج کی کرنیں گدگدی کر رہی ہیں۔موضوعات کے انگریزی عنوانات کے عربی ترجمے لائق تحسین۔ پروجیکٹ مینجمنٹ۔ ادارۃ المشاریع۔ ٹائم مینجمنٹ۔ ادارۃ الوقت۔ اتنی طویل فہرست ہے کہ کئی کالموں میں بھی نہیں سما سکتی۔ ادارے ہمارے ہاں بھی ہیں لیکن تاریخ کے جبر نے ان سے تقدس چھین لیا ہے۔ انتظام کی مہک نہیں انتقام کی دھمک آنے لگتی ہے ۔ادب شاعری کے شعبے میں سورج کی روشنی ہمارے ساتھ سانس لے رہی ہے۔ کیا کیا مصرعے ہیں۔ نظمیں ہیں ۔فکشن ۔ ایک کتاب کہہ رہی ہے "ایک داستان جسے سو لکھنے والوں نے مکمل کیا"For the love of horses شیخ محمد بن راشد المخدوم کا شعری مجموعہ ہے۔ اس سیکشن سے اٹھنے کو جی نہیں چاہ رہا ۔ آپ کی طرح میں بھی دبئی کو صرف درہم کمانے کی جگہ سمجھتا تھا کہ دنیا بھر کی نسلیں،رنگتیں،زبانیں یہاں سرمائے کی طلب میں آتی ہیں۔ یہاں کے حاکم بھی صرف سکے گنتے ہوں گے ۔یہ رحل نما عمارت تو علم کا سمندر ہے ۔جانے کہاں کہاں سے حرف و دانش کے دریا اس سمندر میں آ کر گر رہے ہیں۔ ہر کتاب دامن تھام لیتی ہے۔ ہر موضوع ذہن میں ہلچل برپا کر دیتا ہے ۔ "سراپا پہ جس جا نظر کیجئے ....وہیں عمر ساری بسر کیجیے "کہیں اور جانے کو جی نہیں چاہے گا انہی منزلوں میں کچھ پہر گزرتے رہیں۔ تاریخ ۔ جغرافیہ۔ ٹیکنالوجی بحریات۔السلوک التنظیمی Organisational behaviour پائدار بصیرت کرپٹو کرنسی پر تحقیقی کتابوں سے اپنے کے طبق روشن کرتے رہیں۔ آگے بڑھتے رہیں ۔"ہر روزہ آپ کو ایک سبق دے گا ہر سجدے سے دل پر کئی دروازے کھلیں گے۔"