بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات کے دوران نوجوان اپنے نمائندے منتخب کرنے سے کہیں زیادہ ریفرنڈم کے حوالے سے پرجوش تھے ۔طے ہوا تھا کہ اگر ریفرنڈم کامیاب رہا تو نومنتخب پارلیمنٹ پہلے 180دن ’’دستوری اصلاحات کونسل‘‘کے طور پر کام کرے گی یعنی ابتدائی طور پر یہ دستور ساز اسمبلی ہوگی اور نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔مثال کے طور پر وزیراعظم سیاسی جماعت کی قیادت اپنے پاس نہیں رکھ سکے گا،کوئی بھی شخص دو بار سے زیادہ وزیراعظم منتخب نہیں ہوسکے گا،سینیٹ یعنی ایوان بالا کا قیام عمل میں لایا جائیگا اور اس میں متناسب نمائندگی ہوگی یعنی منتخب ارکان پارلیمنٹ سینیٹرز کا انتخاب نہیں کریں گے بلکہ جس جماعت نے عام انتخابات کے دوران جتنے ووٹ حاصل کیے ہوں گے ،اسی حساب سے ایوان بالا میں اس کی نمائندگی ہوگی۔عدلیہ کو انتظامیہ سے مکمل طور پر الگ کرکے آزاد اور خودمختار بنایا جائیگا۔وزیراعظم کے اختیارات کم کرکے صدر کے اختیارات میں اضافہ کیا جائیگا تاکہ طاقت کا توازن برقرار رہے۔دراصل ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت نے اصلاحات کی غرض سے National Consensus Commission بنایا تھا۔اس کمیشن نے آئین میں 84ترامیم تجاویز کیں لیکن جب سب سیاسی جماعتوں نےاس پر مشاورت کی اور ’’جولائی چارٹر‘‘پر دستخط ہوئے تو 48آئینی ترامیم پر اتفاق رائے ہوا۔’’کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل‘‘اس لیےبنانے کا فیصلہ ہوا کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لائی جانی ہے اگر یہ ترامیم قانون ساز پارلیمنٹ کے ذریعے کی جاتیں تو ان آئینی ترامیم کو عدالتوں میں چیلنج کیا جاسکتا تھا۔چنانچہ 13نومبر 2026ء کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ’’کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل‘‘کا قیام عمل میں لایا گیا۔
نوجوانوں نے اس اصلاحاتی پروگرام کے تحت’’نئے بنگلہ دیش‘‘کانعرہ لگایااور لوگوں کو ریفرنڈم میں ’’ہاں‘‘کے خانے میں ٹھپہ لگانے کو کہا کیونکہ ’’ناں‘‘ کا مطلب ہے کہ آپ نظام نہیں بدلنا چاہتے اور آزادی کے بجائے غلامی کے خواہاں ہیں۔بنگلہ دیش جماعت اسلامی اور نوجوانوں کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کا ریفرنڈم کے حوالے سے موقف بہت واضح رہا مگر بی این پی نے اس حوالے سے کھل کر بات نہ کی۔12فروری کو ہونیوالے انتخابات میں جہاں بی این پی نے واضح اکثریت حاصل کی وہاں ریفرنڈم کے حق میں بھی 60فیصد سے زائد ووٹ پڑے۔مگر دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد بلی تھیلے سے باہر آگئی اور بی این پی نے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد سے انکار کردیا۔17فروری 2026ء کو چیف الیکشن کمشنر AAMنصیرالدین نے نومنتخب ارکان پارلیمنٹ سے حلف لیا اور جب ’’کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل‘‘کے ارکان کی حیثیت سے حلف لینے کا موقع آیا تو جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے برعکس بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ارکان نے یہ دوسرا حلف لینے سے انکارکردیا۔بی این پی کے رہنما بیرسٹر صلاح الدین احمد نے اسکی یہ توجیہ پیش کی کہ بنگلہ دیش کے موجود ہ دستور میں ایسی کسی آئینی کونسل کی گنجائش موجود نہیں اسلیے انکے ارکان پارلیمنٹ یہ حلف نہیں اُٹھائیں گے۔تکلف برطرف،آئین میں تو عوامی انقلاب کے ذریعے شیخ حسینہ کی حکومت گرانے اور عبوری حکومت لانے کی بھی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی البتہ یہ جولائی چارٹرجس پر عملدرآمد کیلئے ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے لی گئی ،اس پر بشمول بی این پی تمام سیاسی جماعتوں نے دستخط کیےتھے۔اب دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد اس اصلاحاتی ایجنڈے سے پیچھے ہٹنا دراصل جمہور کی توہین ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کی حرکتوں کا ماضی میں اچھا نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔اگرچہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی سربراہی میں 11جماعتی اتحاد نے نہایت محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے اور محض یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ وزیراعظم اور دیگر ارکان پارلیمنٹ جلد ’’کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل‘‘ میں ان سے آملیں گے لیکن میری دانست میں یہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گی اور اگر دوتہائی اکثریت کے دم پر من مانی کی گئی تو سیاسی استحکام کی طرف بڑھتا ہوا ملک ایک بار پھر انتشار کا شکار ہوسکتا ہے ۔بنگلہ دیش کے عوام نے طویل جدوجہد کے دوران قربانیاں دیکر حقیقی جمہوریت کی راہ ہموار کی ہے ۔اب اگر نظام کے بجائے محض چہرے بدل کر کام چلانے کی کوشش کی گئی تو سیاسی انارکی کا دور واپس آسکتا ہے ۔’’جولائی چارٹر ‘‘پر عملدرآمد سے راہ فرار اختیار کرنا کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ لگ رہا ہے ۔خاکم بدہن،احتجاج کی چنگاری اگر پھر سے بھڑک اُٹھی تو سب کچھ خاکستر کردئیگی۔اس لیےبہتر یہی ہے کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر عوامی امنگوں اور مینڈیٹ کے مطابق اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
بلاشبہ بنگلہ دیش اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے ۔نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کیلئے معاشی بحران سے نبردآزما ہونا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔قومی خزانے کا بوجھ کم کرنے کی غرض سے پہلے اپوزیشن اور پھر حکومتی ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ وہ ڈیوٹی فری گاڑیاں اور سرکاری پلاٹ نہیں لیں گے۔اگرچہ کفایت شعاری کے حوالے سے یہ علامتی نوعیت کا اقدام ہے مگر سن کر اچھا لگا۔لیکن اگلے ہی لمحے جب وزیراعظم طارق رحمان کی طرف سے 59رُکنی کابینہ کا اعلان کیا گیا تو سب اُمیدوں پر پانی پھر گیا۔بنگلہ دیش کے لوگ اس بات پر ناخوش ہیں کہ معاشی مشکلات کا شکار ملک 25وزراء،24وزرائے مملکت اور 10مشیروں کا متحمل کیسے ہوسکتا ہے ؟اسکے برعکس ڈاکٹر یونس کے دور میں عبوری حکومت کے دوران کابینہ 28افراد پر مشتمل تھی۔بالعموم جب کوئی نئی حکومت آتی ہے تو ابتدائی 6ماہ یا ایک سال تک کا دورانیہ ’’ہنی مون ‘‘پیریڈ سمجھا جاتاہے اور جواب طلبی نہیں کی جاتی مگر بنگلہ دیش کے حالات و واقعات اور لوگوں کے مزاج کے پیش نظر یوں محسوس ہوتا ہے کہ طارق رحمان کی حکومت کو ’’ہنی مون ‘‘کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔انہیں جادوگر کی طرح اپنے ہیٹ سے کبوتر نکال کر دکھانا ہوگا۔