• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گو کہ ملکی معاملات پہلے سے ہی صاحبانِ عقل و دانش کے ہاتھ میں ہیں اور انہیں مشورہ دینا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ۔ پھر بھی عرض کروں گا کہ قیدی کی حفاظت بہترین کریں ۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے ۔ انسانوں کی اکثریت بیچاری شارٹ ٹرم میں سوچتی ہے ۔اکثر ذہن اپنے اقدامات کے خوفناک نتائج کا اندازہ نہیں لگا سکتے ۔ پھر وہ شیخ حسینہ کی طرح بیرونِ ملک بیٹھ کر سوچ رہے ہوتے ہیں کہ غلطی کہاں ہوئی ۔ کسی نے رانا ثنا ء اللہ کو یاد دلایا : چند ماہ قبل عمران خان کی ہمشیرہ نے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ خان صاحب کی ایک آنکھ سرخ تھی ۔ رانا صاحب نے جواب دیا : وہ یہ کہہ رہی تھیں کہ عمران خان بہت غصے میں ہیں اور اس غصے کی وجہ سے ان کی آنکھیں سرخ ہیں ۔ ایک صاحب کو ایک مرتبہ کسی نے لائیو پروگرام میں چیلنج کیا : بتائیں سی پیک کن الفاظ کا مخفف ہے۔ ان کی آواز نکلنا بند ہو گئی۔کرکٹ کا حال آپ کے سامنے ہے ۔ آئی ٹی کے معاملات ان کے ہاتھ میں ہیں ، جنہیں اس کی ابجد کا علم نہیں ۔

بات میں نے کچھ اور کرنا تھی ۔ دنیا میں بہت بڑی تبدیلیاں آر ہی ہیں ۔ آرٹی فیشل انٹیلی جنس تیزی سے آگے بڑھی ہے ۔ اس وقت آپ کے سوشل میڈیا پہ ایسی ایسی وڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں ،جن کے مصنوعی ذہانت سے بننے کا گمان بھی نہیں گزرتا ۔ صر ف انسان اپنے علم کے بل پر ہی اندازہ لگا سکتاہے کہ یہ وڈیو مصنوعی ذہانت سے بنی ہے ۔بڑی عمر کے لوگ تو فوراً ہی دھوکا کھا جاتے ہیں ۔ آپ ایک کینگرو کو شیروں کے گروہ میں محفوظ و مامون زندگی گزارتے دیکھ سکتے ہیں ۔ پھر کوئی سمجھدار شخص یہ سوال اٹھائے گا کہ کینگرو افریقہ گیا یا شیر آسٹریلیا ؟آپ مصنوعی ذہانت سے بنی ہوئی وڈیومیں حریف سیاستدانوں کو خفیہ ڈیلنگز کرتا دکھا سکتے ہیں ۔ اگر آپ اس کام کو سمجھ جائیں تو آپ جو چاہیں گھر بیٹھے تخلیق کر سکتے ہیں ۔ مصنوعی ذہانت کا کمال یہ ہے کہ یہ جزئیات تک کی ایسی نقش نگاری کرتی ہے کہ جعل سازی کا سراغ لگانا بہت مشکل ہوتاہے ۔اگر کوئی اے آئی کی مدد سے شیر اور چیتے کی لڑائی دکھا رہاہے تو ان دونوں کے چھلانگ لگانے ، کاٹنے اور پنجے مارنے کا انداز ، غراہٹیں اورزخم ہر چیز سو فیصد اصلی دکھائی دیتی ہے ۔ پھر بھی بعض ماہرین اندازہ لگا لیتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جو وائلڈ لائف کو دیکھتا رہا ہے، وہ جانتا ہے کہ چیتا یا کتا ، خواہ وہ کتنا ہی خونخوار کیوں نہ ہو ، شیر چند سیکنڈز میں اسے ختم کر دےگا ۔سائیکل لینڈ کروزر کوکیسے ہرا سکتی ہے ۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ جس مصنوعی ذہانت سے آج آپ کا واسطہ ہے ، وہ ابھی اپنی کاملیت کے درجے پر نہیں پہنچی بلکہ وہ ابھی اپنے تدریجی مرحلے سے گزر رہی ہے ۔ بہت سی سوشل میڈیا سٹار ز کی فحش وڈیوز بھی مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی ہیں ۔ ان وڈیوز میں اگر سقم موجود ہوں تو ان بیچاریوں کورو رو کر اپنے بے گناہ ہونے کی دہائی نہ دینا پڑے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اب ایک ایسی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں ، جس میں آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی بات کا اعتبار بھی ختم ہو چکا ۔ اس وقت اے آئی کے جو ٹولز ہر آدمی کی دسترس میں ہیں ، ان کی مدد سے آپ کسی آدمی کی ایک وڈیو کمپیوٹر کو مہیا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد آپ اپنی لکھی ہوئی تحریر فیڈ کرتے ہیں اور اے آئی اس شخص کی زبان سے وہ الفاظ اداکرنے کی وڈیو تخلیق کر دیتی ہے ۔ ا س دوران چہرے کے تاثرات اور ہونٹوں کی حرکت بھی الفاظ کے مطابق ہوتی ہے ۔اب کو ن پکڑے اس جعل سازی کو ۔جب سے انٹرنیٹ ، کیمرہ ، سمارٹ فون اور سوشل میڈیا وجود میں آیا ہے ، تب سے ایک کنفیوژن تو مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے کہ یومِ حساب انسانوں کے اعمال کس طرح نشر کیے جائیں گے ۔ پوری انسانیت دیکھے گی کہ فلاں شخص نے یہ یہ گل کھلائے ۔ آپ کی انگلیوں کے نشان یہ بتا رہے ہیں کہ 8 ارب انسانوں میں سے یہ کارنامہ سرانجام دینے والے آپ ہی ہیں اور آپ اسے جھٹلا نہیں سکتے ۔ ریکارڈنگ کس طرح ہوتی ہے ، بچہ بچہ اب جانتا ہے بلکہ بچے اب زیادہ جانتے ہیں ۔ جولائی 2025ء میں ایک ٹیکنالوجی فرم آسٹرانومر کے سربراہ اینڈی بائرن اپنی کمپنی کی ایک عہدیدار کے ساتھ بغلگیر ہو کر ایک سٹیڈیم میں کنسرٹ سن رہے تھے کہ کیمرے کی زد میں آکر نشر ہو گئے ۔ دونوں کی ازدواجی زندگی اور پروفیشنل کیرئیر پہ اس کے سنگین نتائج رونما ہوئے۔ دونوں کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیناپڑا؛حالانکہ وہ کوئی سرکاری یا ریاستی عہدیدار بھی نہیں  تھے۔ 2012ء میں اس وقت کے سی آئی اے چیف جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی دو گرلر فرینڈز میں سے ایک نے دوسری کو جنرل پیٹریاس کا لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے دھمکی آمیز ای میل بھیجی ۔نتیجے میں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو چار دہائیوں پہ مشتمل اپنے کیرئیر سے سبکی آمیز اندا ز سے مستعفی ہونا پڑا ۔ ٹیکنالوجی نے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں میں سے ایک کو اڑا کے رکھ دیا ۔ جیفری ایپسٹین والی ساری خفیہ گھنائونی کہانیاں ٹیکنالوجی کی وجہ سے نشر ہوئیں ۔بل گیٹس جیسے انسانیت کے ٹھیکیدار اب منہ چھپاتے پھرتے ہیں ۔ رہے صدر ٹرمپ تو جب کوئی شخص بے شرم ہو جائے تو اسے کسی چیز سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ ڈوبتی ہوئی عالمی طاقت کو اس وقت ایک کن ٹٹے حکمران کی ضرورت ہے ۔ ٹیکنالوجی کی یہ کہانی کہاں ختم ہوگی ، کوئی نہیں جانتا ۔ اب توعزت دار لوگوں کی پگڑی اچھلتے بھی دیر نہیں لگتی۔ لونڈے کھونڈوں سے کیا شکوہ ،اب تو ریاست لوگوں کے نکاح غلط ثابت کرتی پھر رہی ہے ۔ اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے۔

میرؔ صاحب! زمانہ نازک ہے

دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار

تازہ ترین