• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈر اتنا کہ ایسے وقت جب وزیراعظم پاکستان، صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر ’’ٹرمپ غزہ پیس بورڈ‘‘ کی میٹنگ کر رہے ہونگے ، کہیں امریکہ ایران پر ہولناکیاں نہ ڈھا رہا ہو ۔ وزیراعظم شہباز شریف امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قدم رنجہ فرما چکے ہیں، یعنی کہ امریکی صدر کے جال میں پھنسے، انکے رحم و کرم پر ہونگے۔ 19 فروری کو ٹرمپ امن بورڈ ( ایک بھونڈا مذاق ) کی پہلی میٹنگ میں فلسطین کے خون سے ہولی کھیلنے والا بین الاقوامی مجرم نیتن یاہو بھی ہمارے وزیراعظم کے شانہ بشانہ شریک ہوگا ۔

کبھی سوچا نہ تھا کہ بین الاقوامی مجرم نیتن یاہو کیساتھ بیٹھک کر نا ہو گی۔ تین دن پہلے نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ملاقات میں نہ صرف امریکہ کو ایران پر حملے کی ترغیب دی بلکہ غزہ اور اسکے گرد و نواح میں ایسے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر بھی بریفنگ دی جو غزہ کے مکینوں کو جلا کر خاکستر کر رہے ہیں ۔ اسی ملاقات میں نیتن یاہو نے کمال بے نیازی کیساتھ’’ غزہ بورڈ آف پیس‘‘ پر بھی دستخط کر دیئے اور اجلاس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی ۔

غزہ امن بورڈ کا اجلاس پہلے ہی طلب کیا جا چکا ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم نے اس دعوت نامے کو قبول کرلیا ہے ۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کرنیوالےبین الاقوامی مجرم صہیونی ریاست کے خونی وزیر اعظم نیتن یاہو کیساتھ ہمارا انقلابی وزیراعظم جناب شہباز شریف جب نظر آئیگا تو کیا تاریخی منظر ہوگا ، الامان الحفیظ ۔ ہمارے وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کی تعریف کے پل باندھے ۔ ٹرمپ نے اس تعریف کو اپنے امیج کی مارکیٹنگ اور پروموشن میں بلاتوقف استعمال کیا ۔ ہمارے وزیر اعظم نے اسے اپنی حوصلہ افزائی جانا ، آج کی تاریخ میں سب کچھ الٹا پڑ چکا ہے ۔

غالباً چوتھی دفعہ ہے کہ عمران خان اور وطنی مقتدرہ کے درمیان کسی نہ کسی نوعیت کی مفاہمت، ڈیل PTI کی دہلیز تک آ پہنچی ہے اور پھر کسی نہ کسی وجہ دہلیز ٹاپنے میں ناکام رہی ۔ چوتھی ڈیل کے بارے ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے کہ یہ ڈیل دم توڑ چکی ہے یا ابھی اسکے پنپنے کا امکان موجود ہے ۔ المیہ ہی کہ عمران خان کے اشاروں پر ڈیل پروان چڑھنی ہے اور ہر مرتبہ ناکام بنانے میں عمران خان کا کردار بنیادی رہنا ہے ۔ کسی نہ کسی درجے پر ڈیل کو سبوتاژ کرنے میں شریک کار دکھائی دیتے ہیں ۔ آخری لمحوں میں کوئی بیان، یا ناقص حکمتِ عملی یا کوئی تضاد یا کوئی اندرونی انتشار اس سارے عمل کو سبوتاژ کر دیتاہے۔ خاطر جمع ! ڈیل میچور ( MATURE ) نہ ہونے کے پیچھے کوئی عمرانی اصول کار فرما نہیں تھا بلکہ حصول ڈیل کیلئے کئی اصولوں کو پامال کیا گیا۔ جنرل باجوہ کو میر جعفر میر صادق غدار کا لقب دینے کے بعد ستمبر 2022 میں تین ملاقاتیں جو پہلے اخفا میں پھر جب اظہر من الشمس تو حیران کن اتنا کہ جس تند ہی سے جنرل باجوہ کو غداری کا لقب دیا اُسی چابکدستی سے جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت کیلئے توسیع مدت ملازمت کی پیشکش کر ڈالی ۔ عمران خان کی ساری زندگی مجموعہ اضداد ، بہ یک وقت دو متضادمگر متوازی بیانیوںکو چلاتے رہے ہیں ۔ اچنبھے کی بات نہیں کہ پارٹی قیادت بنفس نفیس ایسے لوگوں کے سپرد کی جو اسٹیبلشمنٹ کیلئے آسودگی ہیں ۔ KP صوبائی حکومت کی تشکیل بھی اسی اصول پر استوار کی کہ ریاستی حلقوں سے مضبوط روابط تھے اور کسی موقع پر کوئی قابلِ قبول ڈیل ممکن بنانی تھی ۔

عمران خان کو کون بتائے گا کہ طاقتوروں کے فیصلے اداراتی ہوتے ہیں ۔ کیا عمران خان کو اقتدار سے علیحدہ فیلڈ مارشل نے کیا تھا ؟ ہرگز نہیں ۔اقتدار سے علیحدہ تو جنرل باجوہ نے کیا تھا ۔ جنرل باجوہ کی جگہ کوئی بھی نیا چیف بنتا ، فیصلے کا تسلسل برقرار رہتا اور یہی کچھ ہوتا ۔ نواز شریف کیخلاف آغاز ِمہم جنرل راحیل شریف کے دور میں ہوئی ، اگرچہ نواز شریف نے جنرل باجوہ کو چیف بنایا مگر نواز شریف کیخلاف مہم وہیں سے شروع کی جہاں جنرل راحیل چھوڑ کر گیا تھا۔ جب 2014 میں عمران خان اور قادری کی جوڑی کو تھپکی دے کر Dچوک میں کنٹینر پر چڑھا دیا گیا تھا ۔ خان صاحب سیاسی نابلد ، سیاسی اہلیت صفر بٹہ صفر ، غلط فہمی کہ مفاہمتی بیانیہ کیساتھ مزاحمتی بیانیہ پروان چڑھایا تو شاید دباؤ کے ذریعے بہتر ڈیل مل جائے ۔ مفاہمت کیلئے پارٹی قیادت کو موثر کر رکھا ہے جبکہ دباؤ کی سیاست کا خاندانی دائرہ وسیع و عریض ہے ۔ پارٹی مفاہمتی بیانیےکی ترجمان تو فیملی بذریعہ مزاحمتی بیانیہ عوامی اور سوشل میڈیا سطح پر مقبولیت سمیٹ رہی ہے ۔جبکہ پارٹی کی قیادت پارٹی اندرباہر سیاسی گنجائش کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ PTI کے اندر دو واضح متحارب گروہوں کی دھینگا مشتی نے پارٹی تنظیم کو گھائل کر رکھا ہے ۔ نہیں معلوم کہ چوتھی مفاہمتی پیش رفت میں ’ فیملی کیساتھ ‘ ،’ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان ‘اور پارٹی قیادت کی تضحیک کو ترجیح دے چکا ہے یا فیملی کیساتھ ہاتھ ہو جائیگا اور کپتان ڈٹ کر ڈیل کو پروان چڑھائے گا ۔

گزشتہ چند ہفتوں کے یکے بعد دیگرے واقعات سے گمان اغلب کہ شاید کشیدگی میں کمی آئی ہے، سیاسی عمل کیلئےکوئی محدود راستہ شاید نکل پائیگا اور شاید عمران خان کو کسی قدر ریلیف مل جائیگا۔ عمران خان کی آنکھ کی بیماری بھی مفاہمت کی گنجائش نکالتی نظر آئی ، 80فیصد بینائی کا چلے جانا اور پھر 80فیصد بینائی کا واپس آنا بھی ایک کرشمہ ہے ، مفاہمت کی راہ ہمور کرتا ہے ۔ برسبیل تذکرہ ، عمران خان کی آنکھ کی تکلیف کے بعد PTIسوشل میڈیا ایک نئی بحث میں اُلجھ چکا ہے ۔PTI سوشل میڈیا عمران خان کی دی ہوئی لائن پر نئے سرے سے نواز شریف کے پلیٹ لیٹس اور جیل سے براستہ سروسز ہسپتال بیرون ملک منتقلی پرتضحیک اور مزاح کا نشانہ بنارہا ہے ۔ جو کچھ عمران خان اور اُسکو ماننے والوں پرآج بیت رہی ہے، اُنکو سوچنا ہو گا کہ کہیں PTI قدرت کے انتقام کی زد میں تو نہیں ! ۔ نواز شریف تو عمران خان کی جیل میں قید تھا جبکہ اسکے ٹیسٹ اوررپورٹس شوکت خانم اسپتال اور سروسز اسپتال نے وزیرِصحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی زیرنگرانی مشترکہ تیار کردہ تھے ۔ کیا یہ بتایا جا رہا ہے کہ رپورٹس جھوٹی بنائی گئی تھیں اور اس میں شوکت خانم اسپتال کا ایگزیکٹو بھی ملوث تھا۔بجائے اُن جھوٹی رپورٹس پر شرمندہ ہونے کے اور اپنی مجرمانہ حرکت پرجیل بھگتنے کے ، نواز شریف کا مذاق اڑایا جا رہا ہے کہ وہ فراڈ کر کے پاکستان سے باہر گیا تھا ، مکافات عمل ۔

بُرا ہوغیرضروری سخت بیانات اور رویوں کا کہ ایک طرف مفاہمت قریب پھٹک نہیں پاتی کہ مخاصمت نئی بلندیوں کو چُھو جاتی ہے ۔ فیملی اس پر اِتراتی ہے کہ پارٹی قیادت کے مفاہمتی بیانیہ کو مفلوج کر رکھا ہے ۔ ایک تلخ حقیقت اور بھی ، حکومت اور مقتدر حلقوں پر تحریک انصاف کا کوئی فیصلہ کن عوامی دباؤ سِرے سے موجود ہی نہیںہے ۔ معلوم نہیں کہ وطنی سیاسی عدم استحکام کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔ یہ طے کرنا بھی مشکل کہ عمران خان کی مقتدرہ سے حالیہ لڑائی نقلی ہے یا اصلی۔ اگر لڑائی نقلی ہے تو پھر عمران خان چند ہفتوں بعد 5 اسٹار گیسٹ ہاؤس میں پائے جائیں گے جسکا بظاہر نام جیل ہوگا اور بفرض محال یہ لڑائی اصلی ہے تو پھر سمجھیں کہ ’’ عمران خان سیاست ‘‘کا وقت شہادت ہے آیا ، اللہ اکبر۔

تازہ ترین