امریکہ مضحکہ خیز طور پر فلوریڈا سے صرف 100میل کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے جزیرے کیوبا کواپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کیلئے بہت بڑا خطرہ قراردیتا رہا ہے۔ پرینسٹن یونیورسٹی کے پروفیسرایدا فیرر،جنہیں 2022ء میں کیوبا کے بارے میں ایک کتاب لکھنے پر پولیٹزرایوارڈ دیا گیا تھا، نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں کیوبا کی حکومت گرنے کی پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوتی رہی ہیں لیکن اس بار کیوبا کی معاشی زبوں حالی کو سہارا دینے کیلئے کوئی بھی ملک سامنے نہیں آرہاہے۔1959ء میں جب کیوبا نے امریکی کمپنیوں کو قومیا لیاتو اس کے نتیجے میں امریکہ کے حکم پر لاطینی امریکہ کےتمام ممالک نے کیوبا سے تعلقات معطل کر لیے لیکن اس وقت میکسیکو ہی وہ واحد ملک تھا جس نے کیوبا کا ساتھ دیا۔اس زمانے میں شکر، کیوبا کی سب سے بڑی برآمد تھی لیکن امریکہ نے معاشی ناکہ بندی کر کے کیوبا سے شکر خریدنا بند کر دی جس سے اسکی معیشت سکڑنے لگی لیکن جلد ہی سوویت یونین نے کیوبا سے شکر خریدنا شروع کر دی۔سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کیوبا کی برآمدات چند سال میں 9ارب ڈالرز سے کم ہو کر 2ارب ڈالرز رہ گئیں اور اسکی معیشت سکڑکرصرف چالیس فیصد رہ گئی لیکن اس کے باوجود کیوبا نے اپنی بقا قائم رکھی۔لیکن اب ٹرمپ نے کیوبا کونہ صرف تیل کی ترسیل بند کر دی ہے بلکہ سیاحت سے ہونے والی آمدنی پر بھی قدغنیں لگا دی ہیں کیونکہ کیوبا جانے کے بعد یورپین شہریوں کیلئے امریکہ کا سفر مشکل بنا دیا گیا ہے۔اس کیساتھ ساتھ کیوبا کے ڈاکٹروں اور طبی مشن سے ہونیوالی آمدنی کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جو ملک کیوبا کو تیل فراہم کر ے گا، امریکہ اس پرسخت محصولات لگائے گا۔گزشتہ سال سے میکسیکو نے کیوبا کو تیل فراہم کرنا شروع کیا تھا مگر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد اس نے بھی کیوبا کو تیل کی فراہمی رو ک دی ہے۔ اگرچہ کیوبا خود بھی روزمرہ کی ضروریات کا چالیس فیصد تیل پیدا کرتا ہے لیکن یہ اسکی کم سے کم ضرورت سے بھی بہت کم ہے۔
یاد رہے کہ 1492میں کولمبس نے کیوبا کے جزیرے پر قدم رکھا، یوں 1898تک یہ اسپین کی نو آبادی رہا۔گو کہ 1902میں کیوبا نے امریکہ کی مدد سے آزادی تو حاصل کی لیکن1959میں جب کیوبا نے امریکی کمپنیوں کو قومیا لیا تو اسکے نتیجے میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ امریکہ آج جن نجی کمپنیوں کی کیوبا میں رسائی پر اصرار کررہا ہے،یہ دراصل وہ انڈر ورلڈ کے لوگ تھے جنہیں 1952میں کیوبن فوجی آمر فلگنسیو بتستانے ہوٹلوں، کلبوں، کیسینو اور قحبہ خانوں پر قبضہ کرنے میں مدد دی تھی۔اس مافیا نے کیوبن سماج میں کرپشن اور دوسری برائیوں کو انتہا پر پہنچا دیا جسکے جواب میں فیڈل کاسترو نے اقتدار میں آتے ہی انڈرورلڈ کی ان تمام املاک کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ ان املاک کی اس وقت مالیت 100ملین ڈالرز سے زائد تھی۔ان اقدامات کے جواب میں امریکہ نے کیوبا کی معاشی ناکہ بندی شروع کر دی جو آج تک جاری ہے۔ٹرمپ کی دھمکیوں کےباوجودکیوباکے حکام نے حکومت کے اندر کی تقسیم یا سیاسی قوتوں میں اختلافات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی دباؤ اور جارحیت کے خلاف سر جھکانا نا ممکن ہے۔لیکن کیوبا نے اب بھی امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کارروائی، منی لانڈرنگ کی روک تھام، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر سیکورٹی، انسانی اسمگلنگ اور مالی جرائم جیسے معاملات پر تعاون کی پیشکش کی ہے۔لیکن ٹرمپ انتظامیہ دراصل ایسی بات چیت چاہتی ہے جیسے وینزویلا میں ہو رہی ہے جہاں عبوری حکومت نے معاشی اصلاحات اور جمہوریت کی جانب امریکہ کی خواہش کے مطابق پیش رفت کی ہے۔
یاد رہے کہ کیوبا کے انقلاب نے عوام میں بہت پذیرائی حاصل کی تھی جسکی اصل وجہ اسکی صحت اور تعلیم کے میدان میں اہم کامیابیاں تھیں۔اسی وجہ سے آج کیوبا میں اوسط عمر 78سال اور خواندگی کی شرح99فیصد سے زائد ہے۔ہر ایک لاکھ کی آبادی پر 591ڈاکٹرز موجود ہیں جبکہ امریکہ میں صرف 256 اور میکسیکو میں 198 ہیں۔ کیوبا میں آج دنیا کی سب سے اچھی بائیو ٹیک کمپنیاں کا م کر رہی ہیں جنہوں نے چین میں بھی اپنے کئی کارخانے لگائے ہیں۔ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ذریعے کیوبا نے تیسری دنیا کے مختلف ممالک کی بہت مدد کی ہے جس کے قابل فخر ریکارڈ موجود ہیں۔کیوبا نے 2005میں آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعد غیر معمولی امداد کرتے ہوئے بیس ہزار سے زائد ڈاکٹرز، نرسیں اور طبی عملے کے علاوہ بتیس فیلڈ اسپتال اور امدادی کیمپ بھی قائم کیے تھے۔ نیلسن منڈیلا تو ہمیشہ کیوبا کی تعریف کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر کیوبا کی مدد نہ ہوتی توجنوبی افریقہ کبھی نسلی امتیاز سے نجات حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ آج کیوبا امریکہ کے بے شمار حملوں، ناکہ بندیوں اور تباہیوں کے باوجود اپنی بقاچاہتا ہے لیکن ٹرمپ نے کیوبا کو ایسے کونے میں دھکیل دیا ہے جہاں سے ماہرین کا خیال ہے کہ نکلنا محا ل نظر آتا ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک جن میں برازیل، چین،روس اور بھارت شامل ہیں،ان کیساتھ کیوبا کے اچھے تعلقات رہے ہیں، وہ بھی اس نازک موڑ پر ٹرمپ کی دھمکیوں کی وجہ سے کیوبا کی مدد کرنے پر مائل نظر نہیں آتے۔آج برکس اور تیسری دنیا کے ممالک کو کھل کر وینزویلا، کیوبا اور ایران کو معاشی اور دفاعی تعاون فراہم کرنا ہوگاورنہ ایک ایک کرکے تیسری دنیا کے کئی ممالک کو ٹرمپ کے ساتھ اپنی خود مختاری کا سودا کرنا ہوگا۔