اسلام آباد( رپورٹ:،رانامسعود حسین) سپریم کورٹ نے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کو عمران کیخلاف کارروائی سے روک دیا ،وزیر اعظم سے جواب طلب ، شہباز شریف کے 10 ارب روپے کے ہتک عزت کے مقدمہ میں حق دفاع خاتمہ کیخلاف نطر ثانی کی درخواست پرحکم امتنا عی جاری ،جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نےپی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے خلاف لاہور کی ٹرائل کورٹ کوشہبا زشریف کے 10 ارب روپے کے ہتک عزت کے مقدمہ میں حق دفاع کے خاتمہ کیخلاف نطر ثانی کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہو جواب طلب کرلیا ، دوران سماعت عمران خان کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ میرا موکل ٹانگ میں گولی لگنے کے باعث شدید زخمی تھا اور عدالت میں پیش نہیں ہو سکا ،جس کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے اس کاحق دفاع ختم کردیا ، جسٹس عائشہ اے ملک نے ریمارکس دیے کہ جب ٹرائل کورٹ نے خود تسلیم کیا ہے کہ عمران خان زخمی تھے ،دو تاریخوں پر ان کے زخمی ہونے کی بنیاد پر انہیں حاضری سے استثنیٰ بھی دیا گیاتھا، تو پھر ان کا حق دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا تھا ؟ فاضل وکیل نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ٹرائل کورٹ میں شہادتیں قلمبند ہو رہی ہیں ،مقدمہ آخری مراحل میں ہے، مدعی شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے مئی 2025 میں اپنا بیان بھی قلمبند کروا چکے ہیں،عدالت نے فاضل وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ،یاد رہے کہ 2017 میں عمران خان نے دعویٰ کیاتھا کہ میاں شہباز شریف نے انہیں ʼʼپانامہ پیپرز لیکس ʼʼکیس میں خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس کے بدلے انہیں 10ارب روپے رشوت کی پیشکش کی تھی، تاہم میاں شہباز شریف نے ان الزامات کو بے بنیاد ،بدنیتی پر مبنی اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے لاہور کی سیشن کورٹ میں ان کے خلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعوی دائر کیا تھا۔