صدر ٹرمپ کا غزہ امن بورڈ کیا واقعی اسرائیل کی وحشیانہ فوجی کارروائیوں کا نشانہ بننے والے اہل غزہ کی بحالی اور عالمی امن وامان کے قیام کی خاطر وجود میں لایا گیا ہے؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینامشکل ہے۔یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں کو اس ادارے میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی ان میں سے ایک بڑی تعداد نے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔ امریکہ کے یورپی اتحادی اس حوالے سے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ امن بورڈ کا منصوبہ پیش کرنے سے پہلے ٹرمپ غزہ پرقبضہ کرکے اسےایک عالمی تفریح گاہ میں بدلنے کے عزائم کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن اس پر دنیا بھرمیں منفی ردعمل کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ سے غزہ امن منصوبہ منظور کرایا اور امن بورڈ اسی کا حصہ ہے۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کو جس دھڑلے سے ایک ناکارہ ادارہ قرار دیتے ہیں اور جس طرح اس کی مالی اعانت بندکرکے اس کے خاتمے کا سامان کرچکے ہیں ، اس کی بنا پر متعددسیاسی مبصر اور عالمی رہنما شبہ ظاہر کرچکے ہیں کہ اس امن بورڈ کو اقوام متحدہ کی جگہ لینے کیلئے تشکیل دیا گیا ہے کیونکہ اس طرح عالمی معاملات میں امریکہ کی من مانی اُس سے کہیں زیادہ آسان ہوجائیگی جسکا مظاہرہ امریکی قیادت سلامتی کونسل میں ویٹو کا ہتھیار استعمال کرکے کرتی چلی آرہی ہے۔
غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس نے اس تاثر کو بڑی تقویت دی ہے جس میں اسرائیل کے نمائندوں کو شریک کرکے اور فلسطینی قیادت کو باہر رکھ کراس کی غیرجانبداری کا بھرم پہلے ہی قدم پر خاک میں ملادیا گیا ہے ۔ صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے چار مہینوں میں اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خاتمے ، غزہ کی بحالی اور شہری سہولتوں کی فراہمی کی کارروائیوں کے عملاً صفر رہنے اور مغربی کنارے کی زمینوں کو اسرائیل کی ریاستی ملکیت قرار دے ڈالنے کے باوجود صدر ٹرمپ کی جانب سے گریٹر اسرائیل کے قیام کو اپنا روحانی مشن قرار دینے والے نیتن یاہو سے کوئی اظہار ناراضی تک نہ کرنے بلکہ چند ماہ کے اندر بار بار کی ملاقاتوں اور راز ونیاز میں مصروف رہنے سے یہ امر پوری طرح عیاں ہے کہ فلسطینیوں کی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو ممکن بنانے اوراس کی پرورش و پرداخت میں روز اول سے کلیدی کردار ادا کرنے والے ملک کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اصل ترجیح اسرائیل کے مفادات ہیں ۔ اس کے منصوبوں کی تکمیل کی راہ کو آسان بنانا شروع ہی سے امریکی قیادتوں کا مطلوب و مقصود چلا آرہا ہے جبکہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے کا کوئی حقیقی عزم سرے سے مفقود ہے۔
غزہ امن بورڈ کا اصل چہرہ ان واقعاتی حقائق کی روشنی میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے جسکے پہلے اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کی ساری فکرمندی حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے نمایاں رہی۔ اس مقصدکیلئے امریکہ نے غزہ میں پانچ ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا اور رکن ممالک کی جانب سے مالی تعاون کے علاوہ اپنی فوج بھیجنے کا مطالبہ بھی کیا ۔امن منصوبے میں حماس کا غیر مسلح ہونا فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل بااختیار حکومت کے قیام سے مشروط تھا جس کا حلیہ اس طرح بگاڑا گیا کہ تمام تر اختیار غاصب اسرائیل کے سرپرستوں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔ امن بورڈ کے سربراہ جس شان سے دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے کمربستہ ہیں، اس کا اظہار بورڈ کے پہلے اجلاس کے دوران بھی ایران کو مسلسل یہ دھمکیاں دے کرکیا جاتا رہا کہ یا تو ہماری شرائط مانو یا تباہ کن فضائی حملوں کیلئے تیار رہو حالانکہ ایرانی اور امریکی قیادت میں امن مذاکرات جاری ہیں۔ یہ حالات گواہ ہیں کہ ایران کو جوہری صلاحیت سے محروم رکھنے کی اصل وجہ اسرائیل کو خطے میں من مانی کی کھلی چھوٹ دیے رکھنا ہے تاکہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت بھی اسرائیل کی نگاہوں میں پہلے دن سے کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے اور اسے نشانہ بنانے کی ناکام کوششیں بھی کی جاچکی ہیں۔حالیہ دنوں میں اسرائیل کے ایک سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے اور اس میں ترکیہ کے شامل ہونے کے امکانات پر یروشلم میں سرکردہ امریکی یہودیوں سے خطاب میں اس حوالے سے اظہار تشویش بھی کیا ہے۔ اس تناظر میںبڑی سادہ لوحی ہوگی اگر یہ سمجھا جائے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اسرائیل کے سرپرست و پشتیبان امریکہ کی نگاہوں میں اب کوئی کھٹک پیدا نہیں کرتی۔ یہ اور بات ہے کہ اللہ کے فضل سے پاکستان نے اپنا دفاعی نظام اتنا مضبوط کرلیا ہے اور گزشتہ مئی میں بھارتی جارحیت کا ہماری افواج نے ایسا دنداں شکن جواب دیا ہے کہ کسی کیلئے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا آسان نہیں رہا۔ امن بورڈ کے حالیہ اجلاس سمیت صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کی آئے دن تعریف و توصیف کے مبنی بر حقیقت ہونے سے کہیں زیادہ امکان اس طرح اسے اپنے مقاصد کی خاطر استعمال کرنے کا حربہ ہونے کا ہے۔
عین ممکن ہے کہ کچھ ہی عرصے میں ایسے قطعی شواہد سامنے آجائیں جواس شبہ کو درست ثابت کردیں کہ غزہ امن بورڈ در اصل اسرائیلی منصوبوں کی تکمیل کیلئے بچھایا گیا ایک جال یا ٹریپ ہے۔اس ادارے کی اس مشتبہ نوعیت کی بنا پر بہت سے ملکوں نے اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اس میں شمولیت سے گریز کیا ہے ۔اس کے باوجود پاکستان سمیت جن عرب اور مسلم ملکوں نے بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ان کے پاس اس کا جواز شاید اس کے سوا کچھ نہیں کہ بورڈ میں موجود رہ کر وہ فلسطین سمیت مسلم ملکوں کے مفادات کو محفوظ بنانے کی کچھ نہ کچھ کوشش تو کرسکتے ہیں جبکہ اس سے باہر رہنے کی صورت میں ان کا کردار محض ایک بے بس تماشائی کا سا رہ جائے گا۔ یہ دلیل یقیناً وزن رکھتی ہے لیکن مکمل امریکی سرپرستی کے حامل اسرائیل کے مسلم دنیا میں توسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنانے کیلئے اصل ضرورت نیٹو کی طرح مسلم ملکوں کے مشترکہ دفاعی ادارے کے قیام کی ہے۔ اس سمت میں پیش رفت کی خاطر پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے بعد ترکیہ، انڈونیشیا ، مصر اور دیگر مسلم ملکوں کا بامعنی اور مؤثر اتحاد جلد ازجلد عمل میں لایا جانا مسلم دنیا کو کھلے اور چھپے دشمنوں کے مذموم عزائم سے محفوظ رکھنے کیلئے ناگزیر ہے۔