چارج……
جب اسے ہتھکڑی لگائی گئی تو وہ ہنس پڑا۔
پھر اس نے درخواست کی،
’عوامی خدمات‘ بند نہ ہوجائیں،
اسلئے مجھے ذمے دار لوگوں کو چارج دینے دو۔
اس نے ایک ایک کرکے کئی مختصر ملاقاتیں کیں۔
ان میں پرچون بھائی سپاری والا، امرود بھائی کیڑے والا
اور کوچ بھائی ٹکٹ والا شامل تھے۔
اس نے سرکاری افسر جلدی والا، پولیس بھائی عیدی والا
اور روزے دار غصہ والا سے بھی کانا پھوسی کی۔
جاتے جاتے مجھے اور ڈوڈو کو آنکھ ماری۔
میں نے ڈوڈو سے پوچھا، یہ کون تھا؟
ڈوڈو نے مسکراتے ہوئے بتایا،
شیطان بھائی رمضان والا۔