• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہ رمضان سے جڑی افسانوی یادوں سے بھرےشب و روزہم سب کی بچپن کی یادوں کا حصہ ہیں یہ یادیں سحری اور افطاری کے اوقات میں پلٹ پلٹ کے آتی ہیں۔ان یادوں میں ایسا جادو ہے کہ ہر سال جب ہم رمضان کا استقبال کرتے ہیں اور اس کے بیش قیمت تیس یا انتیس دن گزارتے ہیں تو ہمیں اپنے بچپن کے گزارے ہوئے رمضان کے شب وروز ضرور یاد آتے ہیں۔ یہ وہ انمول خزانہ ہے جو ہم سب کا اپنا اپنا ہے۔ہم پانچ بہن بھائیوں ، امی ابو اور دادا جی پر مشتمل گھرانہ جنہیں ہم میاں جی کہا کرتے تھے ۔ امی جان سحری میں دیسی گھی کے پرتوں والے پراٹھے بنارہی ہیں ۔ آلوانڈے کے سالن کا دم کھلتا ہے، گرم مسالے کی خوشبو نیند سے بوجھل آنکھوں پر دستک دیتی ہے ،لسی کی بالٹی میں پھینٹنی کی آواز آتی ہے اور قطار میں رکھے گلاس لسی سے بھر نے لگتے ہیں۔تاریکی میں ڈوبا یہ صبح کا ایسا پہر گہری نیندوں والی عمر کے اس دور میں رات کے اس پہر بیدار ہونا انوکھا سا لگتا اور اس پہر نیند سے اٹھ کر کھانا کھانا اور بھی مشکل لگتا ہے ۔ہم دہی کی کٹوریوں کو کھانے سے گریز کرتے ہیں تو امی جان محبت بھری ڈانٹ سے تنبیہ کرتی ہیں ، دہی نہ کھاؤ گے تو روزہ بہت لگتا ہے ۔جنوبی پنجاب کی کڑی گرمیوں کے طویل روزے ہیں، دہی لسی سب اہتمام سے کھلوایا جاتا ہے،مسجد سے برابر مولوی صاحب اعلان فرما رہے ہیں۔ روزہ دارو، اللہ نبی کے پیارو سحری کا وقت ختم ہونے میں اتنا وقت رہ گیاہے، درمیان میں مسجد کا مائیک کسی نعت خواں کے پاس چلاجاتا ہے،نعت کےمصرعے گھر گھر سحری کرتے افراد خانہ تک پہنچنے لگتے ہیں ،" سروری اچھی لگی نہ خسروی اچھی لگی ....ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی"۔

میری یادوں کے رمضان میں یہ نعت گونجتی رہتی ہے۔ افطار میں ایک مکس سی چاٹ بنتی جس میں پھل، چنے دہی سب کچھ ملا کر چاٹ مسالا ڈالا جاتا پکوڑوں کے تھال بھر کے گھر میں تلے جاتے ہیں ، کبھی کبھار سموسےبازار سے آجاتے ۔ ساتھ میں بڑی بالٹی لال شربت سب یہی افطاری کرتے ہیں۔کم و بیشی سے ایسے ہی سحری ایسی افطاری ہوتی ۔ہم کسی ایک دن بھی ایک ہی طرح کے مینو سے نہیں اکتاتے تھے۔آخری عشرے میں عید کی تیاریوں کی باتیں مصروفیات سہیلیوں کو تحفے دینے کے لیے ڈبے تیار کیے جاتے اور ان کی طرف سےبھی رنگ رنگ کی چوڑیوں مہندی اور کئی سوغاتوں سے بھر تحفے ملتے ۔

یہ وہ زمانہ جب پی ٹی وی پر کوکب خواجہ قسم قسم کے پکوان سکھایاکرتی ، میں اور میری بہن اپنی کاپیوں پر کھانوں کی ترکیبیں نوٹ کرتے۔ کبھی کبھی افطاری میں نئی نئی ترکیبوں سے کچھ نیا بناتے تو سب کو بہت پسند آتا اس طرح ایک ورائٹی خود بخود پیدا ہو جاتی مگر آج کل کی طرح نہیں کہ دسترخوان بے شمار چیزوں سے بھرا ہے اس کے باوجود فاسٹ فوڈ کی ڈلیوریاں منگوا کے کھا رہے ہیں۔گزشتہ 20 پچیس سال میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ہم زندگی کی دہلیز پر بے فکری سے ماں باپ کے سائے تلے رمضان کے سحر انگیز شب و روز گزارنے والے ماضی کے بچے آج کے والدین اب ذمہ داریوں کی کڑی دھوپ میں کھڑے اپنے بچوں کو بڑا ہوتے دیکھ رہے ہیں اگرچہ بہت کچھ بدل گیا ہے لیکن پھر بھی رمضان کے سحری اور افطار کے شب و روز کم و بیش ویسے ہی ہیں۔ وقت کے ساتھ تبدیلیاں زندگی کا حصہ ہیں اب ہمارے بچوں کیلئے ان کے سحر و افطار کی یادیں ایسی ہیں جو کل شاید وہ اپنے بچوں کو اسی فینٹسی کے ساتھ سنائیں۔

ایک اور چیز جو برسوں کے بعد ویسی ہی محسوس ہوتی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کہ رمضان المبارک کے آ تےہی ظاہرمیں بہت کچھ بدل جاتا ہے۔لیکن کردار اور معاملات میں اس تبدیلی کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔اگر معاملات میں بھی اسلام اتنا ہی نظر آتا تو حالات مختلف ہوتے۔ہم جب بچپن میں تھے تو اس وقت بھی کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ پر واویلا مچتا تھا اس وقت بھی رمضان المبارک کے آتے ہی اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا تھا بجائے اس کے کہ تاجر حضرات خرید و فروخت میں بھی کچھ نیکی کمانے کی کوشش کریں ہمارے مسلمان بھائی ناجائز منافع کمانے کو اپنا حق سمجھتے تھے اور آج اتنے برسوں کے بعد بھی یہی ہو رہا ہے۔

آج بھی وہی صورتحال ہے۔کتنے برسوں سے یہ معمول رہا کہ رمضان المبارک کی آمد پر غریب اہل وطن کے حوالے سے کالم لکھتی ،سستے رمضان بازاروں کی ناقص کارکردگی کا تذکرہ ہوتا اور حکومتی دعووں کے برعکس زمینی حقائق کی تلخ جھلکیاں سلیقے سے اپنے کالم میں پیش کرتی تھی مگر اس سے بھی کیا فرق پڑتا کچھ بھی نہیں سوائے اس لیے کہ ایک دل کی تسلی ہو جاتی تھی کہ چلیے ہم نے اپنے تئیں آواز تو اٹھائی ۔لکھنے والے کا کام صرف یہی ہے اس سے کیا نتائج نکلتے ہیں اگر وہ یہ سوچے گا تو صرف مایوس ہوگا ۔ایک دور میں جب صرف اخبار میں تجزیہ نگار کالم نگار اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے تب شاید لکھے کا کچھ اثر ہوتا ہو۔ اب بہت لکھا جا رہا ہے بہت بولا جا رہا ہے اتنا کہ انسان بھی لکھ رہے ہیں اور روبوٹ بھی لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہےاتنے برسوں میں نے تو یہ سیکھا کہ دنیا کو بدلنے کی فکر کرنے کی بجائے تھوڑا تھوڑا خود کو بہتر کرنے کی کوشش کریں اپنے اندر کا جھاڑ جھنکاڑ صاف کریں یقین کریں اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔

تازہ ترین