پاکستان میں شمسی توانائی کا فروغ کسی سرکاری سبسڈی، غیر ملکی امداد یا وقتی رعایت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ مہنگی بجلی، فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج، بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ، کپیسٹی پیمنٹس کے بوجھ اور غیر یقینی توانائی نظام کیخلاف عوام کا ایک سنجیدہ اور عملی ردِعمل تھا۔ متوسط طبقے نے اپنی جمع پونجی، ریٹائرمنٹ فنڈز، بچوں کی تعلیم کیلئے مختص بچت اور حتیٰ کہ بینک قرض لے کر گھروں کی چھتوں پر سولر پینل نصب کیے تاکہ بجلی کے بلوں کے طوفان سے خود کو بچایا جا سکے۔ مگر اب نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف حالیہ تبدیلی نے اس سفر کو ایک نئے اور پیچیدہ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔2019 ءکی متبادل و قابلِ تجدید توانائی پالیسی نے 2025 ءتک 20 فیصد اور 2030 ءتک 30 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ہدف مقرر کیا۔ حکومت نے شمسی توانائی کو درآمدی ایندھن کے متبادل، زرمبادلہ کی بچت اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ 2022 ءمیں فاسٹ ٹریک سولر اقدامات کے ذریعے اس سمت کو مزید تقویت دی گئی۔ نیٹ میٹرنگ اس انقلاب کا بنیادی ستون تھا جس کے تحت صارف اضافی پیدا کردہ بجلی گرڈ کو فراہم کر کے تقریباً برابر یونٹس کا کریڈٹ حاصل کر سکتا تھا۔ یہی معاشی منطق سرمایہ کاری کا جواز بنی اور تین سے پانچ سال میں لاگت کی واپسی کا اعتماد پیدا ہوا۔چند ہی برسوں میں ہزاروں گھروں کی چھتیں بجلی گھر بن گئیں۔ یہ دراصل توانائی کی جمہوریت تھی۔ پہلی مرتبہ عام شہری توانائی کے نظام کا صرف صارف نہیں بلکہ شریکِ پیداوار بھی بن گیا۔ اس عمل سے نہ صرف گرڈ پر دباؤ کم ہوا بلکہ درآمدی ایندھن کی ضرورت بھی گھٹی۔ شمسی توانائی نے پیک آور میں لوڈ کم کیا، لائن لاسز میں بالواسطہ کمی کی اور ماحولیاتی فوائد بھی فراہم کیے۔
فروری 2026ءمیں پروزیومر ریگولیشنز کے تحت نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ سے تبدیل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اب اضافی سولر بجلی تقریباً 10 تا 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی جبکہ صارفین کو گرڈ سے بجلی 37 تا 55 روپے فی یونٹ میں فراہم کی جائے گی۔ نئے معاہدوں کی مدت سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دی گئی جبکہ موجودہ صارفین کو معاہدے کی مدت تک تحفظ دینے کا اعلان کیا گیا۔ عوامی ردعمل کے بعد وزیراعظم نے اس پالیسی کو مزید متوازن بنانے کیلئے نظرِ ثانی کی ہدایت بھی جاری کی ہے اور نیپرا نے مشاورت کا عمل شروع کیا ہے۔وفاقی وزیر توانائی کے مطابق سابقہ نظام سے تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار صارفین مستفید ہو رہے تھے جبکہ 3 کروڑ 55 لاکھ غیر شمسی صارفین پر تقریباً 159ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہو رہا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ایک فیصد صارفین کو دی جانے والی سہولت باقی 99فیصد پر منتقل نہیں ہونی چاہیے۔ بظاہر یہ دلیل مساوات اور مالی ذمہ داری کے اصول پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔تاہم میرے نزدیک اس فیصلے کی جڑیں سرکلر ڈیٹ کے اُس بڑھتے ہوئے عفریت میں ہیں جس نے توانائی کے پورے نظام کو جکڑ رکھا ہے۔ سرکلر ڈیٹ محض بلوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ساختی بحران ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اُن یکطرفہ آئی پی پی معاہدوں میں پوشیدہ ہے جہاں کپیسٹی چارجز سب سے بڑا اور مستقل بوجھ بن چکے ہیں۔ ہم بجلی استعمال کریں یا نہ کریں، کپیسٹی پیمنٹس ادا کرنا پڑتی ہیں۔ کئی پاور پلانٹس کو صرف دستیاب رہنے کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ طلب کم ہو یا زیادہ، ادائیگی یقینی ہے۔
اگر اصل بحران کپیسٹی چارجز اور غیر متوازن معاہدے ہیں تو پھر اس کا حل شمسی صارفین کے معاوضے میں کمی کیوں ہو؟ شمسی توانائی نے سرکلر ڈیٹ پیدا نہیں کیا بلکہ درآمدی ایندھن کی بچت کی، پیک لوڈ کم کیا اور گرڈ کو سہارا دیا۔ اصلاح کا بوجھ اُس طبقے پر ڈالنا جو پہلے ہی منظم ٹیکس دہندہ ہے۔ انصاف کے عمومی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔نیٹ بلنگ کے بعد سرمایہ کی واپسی کی مدت بڑھے گی، بیٹری اسٹوریج کی ضرورت اور لاگت میں اضافہ ہو گا اور نئے سرمایہ کار محتاط ہو جائیں گے۔ بہت سے گھرانوں نے سابقہ ماڈل کی بنیاد پر مالی منصوبہ بندی کی تھی۔ اب اگر ریٹرن آن انویسٹمنٹ کم ہو کر تقریباً 37 فیصد رہ جائے تو یہ اب بھی قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر غیر یقینی صورتحال اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ اس صورتحال میں ایک متوازن اور عقلی راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے آئی پی پیز کے ساتھ کپیسٹی چارجز کی ری اسٹرکچرنگ پر سنجیدہ پیش رفت کی جائے۔ معاہدوں کی مدت میں توسیع کے بدلے سالانہ بوجھ میں کمی، پیداواری استعداد کو طلب کے مطابق ایڈجسٹ کرنا، یا ادائیگیوں کو مرحلہ وار بنانے جیسے آؤٹ آف دی باکس حل تلاش کیے جائیں۔ دوسرا، ٹائم آف یوز ایکسپورٹ ریٹ متعارف کرایا جائے تاکہ پیک آور میں زیادہ معاوضہ اور آف پیک میں کم ادائیگی ہو۔ تیسرا، کسی بھی کمی کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے تاکہ سرمایہ کار صدمے سے بچ سکیں۔ چوتھا، 159 ارب روپے کے بوجھ کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے تاکہ شفافیت قائم ہو۔ پانچواں، لائن لاسز میں کمی اور گرڈ اصلاحات کو ترجیح دی جائے تاکہ اصل مسئلے کا حل نکل سکے۔
وزیراعظم کی جانب سے پالیسی پر نظرِ ثانی کا فیصلہ امید کی ایک کرن ہے۔ یہ اعتراف ہے کہ مالی اصلاح اور سماجی انصاف کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ توانائی کا مستقبل محض حسابی توازن سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت سرکلر ڈیٹ کے بنیادی اسباب، خصوصاً کپیسٹی چارجز، پر مؤثر ضرب لگائے اور شمسی توانائی کو دشمن کے بجائے شراکت دار سمجھے تو یہ اصلاح دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کو ایسے حل کی ضرورت ہے جو حکومت اور سولر پیدا کرنے والوں دونوں کیلئے قابلِ قبول ہو۔ وقتی ریلیف کیلئے شمسی صارفین پر بوجھ ڈالنا آسان راستہ ہو سکتا ہے، مگر پائیدار حل نہیں۔