یوں تو ہم پاکستانیوں نے صرف یہی سیکھا ہے کہ ماضی سے کچھ نہیں سیکھنا مگر میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے ’’چھوٹے بھائی‘‘ سے کچھ باتیں مستعار لیکر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ بنگلہ دیش کو ہم اپنا چھوٹا بھائی سمجھتے ہیں جو 1971ء میں الگ ہونے کے بعدترقی و خوشحالی کی دوڑ میں ہم سے آگے نکل گیا ہے۔ ایک بنگلہ دیشی ٹکا 2.29 روپوں کے برابر ہے۔ مگر میں بنگلہ دیش کی معاشی سبقت کا ذکر کرکے اعداد وشمار کا ڈھیر لگانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انکی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری کس قدر آگے ہے، یہ آپ سب جانتے ہیں۔ مجھے ڈھاکہ میں اسلام پسندی تو نظر آئی مگر کہیں شدت پسندی کا رجحان دکھائی نہیں دیا۔ سیاسی جماعتوں نے جس طرح بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا،یقیناً وہ پہلو بھی قابل تقلید ہے مگر مجھے سب سے زیادہ حیرت بنگلہ دیش میں میڈیا کی اہمیت اور حکومتی پالیسیوں پر ہوئی اور آج میں اسی حوالے سے اپنے مشاہدات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
پہلے مجھے یہ اعتراف کر لینے دیں کہ حرف مطبوعہ میرا پہلا عشق اور رومانس ہے۔ آج بھی پی ڈی ایف فارمیٹ میں کتاب پڑھنا اچھا نہیں لگتا۔ مگر تلخ حقیقت یہی ہے کہ پوری دنیا میں پرنٹ میڈیا کا دور ختم ہو رہا ہے۔ پہلے الیکٹرانک میڈیا اور پھر ڈیجیٹل میڈیا کے ظہور سے اخبارات کی دنیا سکڑتی چلی گئی۔آسٹریا کے اخبار Wiener Zeitung کو شاید دنیا کا قدیم ترین اخبار ہونے کا اعزاز حاصل تھا مگر تین صدیوں کی مسلسل اشاعت کے بعد 30جون 2023ء کو یہ سلسلہ ترک ہوگیا۔ شاید اس اخبار کی آخری شہ سرخی کچھ یوں تھی ’’320برس، 12صدور، 10حکمران، دو جمہوریتیں اور ایک اخبار‘‘۔ صرف امریکہ میں گزشتہ برس 136اخبار ماضی کا حصہ بن گئے۔ 2005ء میں امریکہ سے 7325اخبارات شائع ہوا کرتے تھے۔ روزناموں کی یومیہ اشاعت 50سے 60ملین ہوا کرتی تھی مگر اب 4490اخبارات رہ گئے ہیں اور انکی سرکولیشن محض 15ملین بتائی جاتی ہے۔ امریکی ریاست پینسلوانیا میں Pittsburgh کے کثیر الاشاعت اخبار Post-Gazette کو 240برس کی مسلسل اشاعت کے بعد بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران کئی بڑے اور تاریخی اخبارات بند ہوئے، متعدد اخبارات کو پرنٹ ایڈیشن ختم کرکے ای پیپر پر انحصار کرنا پڑاجبکہ جو ادارے نامساعد حالات کے باوجود شائع ہو رہے ہیں انکی سرکولیشن بہت کم ہوچکی ہے۔ ڈھاکہ میں قیام کے دوران میری دلچسپی کے موضوعات میں سے ایک اہم معاملہ اخبارات کی ورق گردانی رہا مگر دِقت یہ رہی کہ زیادہ تر اخبارات بنگلہ زبان میں شائع ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ڈیپارٹمنٹ آف فلمز اینڈ پبلیکیشنز کے ہاں 584اخبارات رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے 284 اخبارات دارالحکومت ڈھاکہ سے شائع ہوتے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق تو اخبارات کی یومیہ اشاعت 18.5ملین ہے اور کم ازکم 57اخبارات ایسے ہیں جن کی یومیہ اشاعت ایک لاکھ سے زیادہ ہے مگر حقیقی سرکولیشن اس سے کہیں کم ہے کیونکہ پاکستان کی طرح وہاں بھی سرکاری اشتہارات کے نرخ اخبارات کی سرکولیشن کے حساب سے طے کئے جاتے ہیں اور سب اخبارات اپنی اشاعت کے حوالے سے مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں لیکن اخبار فروش یونین کے عہدیداروں اور مقامی صحافیوں سے ملکر ڈھاکہ سے شائع ہونیوالے اخبارات کی حقیقی سرکولیشن معلوم کرنیکی کوشش کی تو نہایت خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ معلوم ہوا کہ یہاں کا سب سے کثیر الاشاعت اخبار prothomalo ہے جسکا اردو ترجمہ پہلی کرن ہے۔ محتاط تخمینے کے مطابق اسکی یومیہ اشاعت 3لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہی گروپ انگریزی کا اخبار ڈیلی اسٹار بھی شائع کرتا ہے جسکی سرکولیشن 43ہزار ہے۔ حرف مطبوعہ کے عہد زوال میں ایک بنگالی اخبار کی یومیہ تین لاکھ سے زائد کاپیاں ہرگز معمولی بات نہیں کیونکہ پاکستان کے تمام اردو اخبارات کی مجموعی (حقیقی) اشاعت شاید اتنی نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی پاکستان کے زیر انتظام کراچی سے شائع ہونیوالے اخبار روزنامہ جسارت کا بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے ڈھاکہ سے شائع ہونیوالے اخبار ’’سنگرام‘‘سے کوئی موازنہ نہیں۔
میں نے ڈھاکہ میں قیام کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی کہ ڈیجیٹل میڈیا کے انقلاب کے باوجود وہاں اخبارات اپنا وجود کیسے برقرار رکھے ہوئے ہیں؟ دراصل ہمارے ہاں اخبارات میں وہی گھسی پٹی اور پرانی خبریں شائع ہوتی ہیں جو گزشتہ 24گھنٹوں میں سوشل میڈیا یا پھر الیکٹرانک میڈیا کی زینت بن چکی ہوتی ہیں۔ اسی طرح مختلف سیاسی جماعتوں یا پھر حکومتی عہدیداروں کے بیانات کو بڑی خبر کے طور پر شائع کیا جاتا ہے جبکہ بنگلہ دیش کے اخبارات میں ایسے منفرد موضوعات پر مواد شائع کیا جاتا ہے جو کسی اور جگہ دستیاب نہیں ہوتا۔ یقین نہیں آتا تو بنگلہ دیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات کی کوریج دیکھ لیں۔ اسکے علاوہ تحقیقاتی صحافت میں اظہار رائے کی آزادی کا بہت بڑا کردار ہے۔ میں نے وہاں صحافیوں سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انہیں واقعات کو رپورٹ کرتے ہوئے کس قسم کی سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مذہبی شدت پسند عناصر کا خوف زیادہ رہتا ہے یا پھر اسٹیبلشمنٹ کا ڈر دامن گیر ہوتا ہے۔ حکومت کی طرف سے بازو مروڑنے کیلئے کس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ مگر وہاں کے بیشتر صحافیوں نے بتایا کہ شیخ حسینہ کے دور میں تو اظہار رائے کی آزادی محدود رہی تاہم مجموعی طور پر بنگلہ دیش میں اس قسم کے مسائل اور پابندیوں کا سامنا نہیں ہے۔ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر میں تمام مقامی و غیر ملکی میڈیا ہاؤسز کیلئے الگ الگ جگہ مختص کی گئی تھی، پولنگ ختم ہوجانے کے بعد وہاں میلے کا سماں تھا، جیسے ہمارے ہاں کتاب میلے پر مختلف اسٹال سجتے ہیں، اسی طرح اخبارات و ٹی وی چینلز کیلئے انٹرنیٹ سمیت تمام سہولیات مہیا کی گئی تھیں تاکہ وہاں سے براہ راست نشریات کا اہتمام ہو، ٹی وی شو کئے جاسکیں اور رپورٹر اپنے اخبار یا ٹی وی چینل کو خبریں ارسال کرسکیں۔ ہمارے ہاں بڑوں سے سیکھنے کا کوئی رواج نہیں کجا یہ کہ چھوٹوں سے سیکھنے کی کوشش کی جائے مگر میرا خیال ہے ہمارے اخبارات، الیکشن کمیشن ،سیاسی جماعتوں ،حکومتوں اور ریاست کو بنگلہ دیش سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔