ورلڈ وائیڈ فنڈز فار نیچر پاکستان کے مطابق گوادر میں نایاب بوہیڈ گٹارفش 30 میٹر گہرے پانی سے ملی، دنیا بھر میں اس مچھلی کی تعداد 80 فیصد کم ہوچکی ہے۔
کراچی سے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق پکڑی گئی مچھلی140سینٹی میٹر لمبی اور 65 کلو سےزیادہ وزنی ہے، زیادہ شکار کی وجہ سے یہ مچھلی تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق اس مچھلی کی خرید و فروخت پر عالمی پابندی عائد ہے، پاکستان میں بھی اس مچھلی کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
عالمی ادارے نے بتایا کہ مادہ مچھلی ایک وقت میں بہت کم بچے دیتی ہے، ماہرین نے اس نایاب مچھلی کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق اسکی کمی کی وجہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ ماہی گیری نے اسے معدومیت سے دوچار کر دیا ہے۔