• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر عافیہ کیس، وزیراعظم و کابینہ کو توہین عدالت کے نوٹسز کا حکم واپس لے لیا گیا

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وزیراعظم اور کابینہ کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنے کا حکم واپس لیتے ہوئے توہینِ عدالت کی کاروائی ختم کردی۔ 

عدالت عالیہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس ارباب طاہر کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے تحریری آرڈر جاری کیا۔

فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ 21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا،21 جولائی کا سنگل بینچ کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کے چیف جسٹس ماسٹر آف دی روسٹر ہیں، بینچز بنانے کا اختیار رکھتے ہیں۔ صرف چیف جسٹس کی منظوری سے قانونی طور پر تشکیل کردہ بینچ کو اختیار کا سماعت ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ روسٹر یا بینچ کی تشکیل سے متعلق کوئی بھی اعتراض انتظامی طریقہ کار کے تحت حل کیا جاسکتا ہے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ کوئی بھی بینچ آئین کے آرٹیکل 202 اور متعلقہ ہائیکورٹ رولز کے تحت چیف جسٹس کے منظوری سے وجود میں آتا ہے۔ کوئی بھی جج یا بینچ ازخود کسی مقدمہ کو خود اپنے سپرد نہیں کرسکتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کوئی بھی بینچ ازخود کسی کیس کو شروع، برقرار، منتقل یا اپنے دائرہ اختیار میں نہیں لے سکتا۔ صرف چیف جسٹس کے پاس بطور ماسٹر آف دی روسٹر یہ اختیار حاصل ہے۔ 

قومی خبریں سے مزید