برٹش پاکستانی نوجوان جمعہ کی شام مسجد کے باہر ہولناک چاقو حملے میں جاں بحق ہو گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ برمنگھم کے نواحی علاقے اسمتھیک میں واقع اولڈبری جامع مسجد کے باہر اس وقت پیش آیا، جب نمازی مسجد کے اندر تراویح کی نماز ادا کر رہے تھے۔
بعد ازاں جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 18 سالہ ذیشان افضل کے نام سے ہوئی، جو اسمتھیک کا رہائشی تھا۔ مزید دو نوجوان، جن کی عمریں 19 اور 22 سال بتائی جاتی ہیں، بھی چاقو کے زخموں کے باعث مقامی اسپتال میں زیر علاج ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
مقامی کمیونٹی اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے میں مبتلا ہے، جو مقدس مہینے رمضان المبارک کے دوران پیش آیا۔ مسجد میں موجود نمازیوں کا کہنا ہے کہ جب وہ تراویح کی نماز مکمل کر کے باہر نکلے تو پولیس اور پیرامیڈیکس کی بھاری نفری دیکھ کر شدید حیران رہ گئے۔ چونکہ واقعہ مسجد کی پارکنگ میں پیش آیا تھا، اس لیے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
پولیس نے نمازیوں کو تقریباً 40 منٹ تک مسجد کے اندر ہی رہنے کی ہدایت کی اور باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔ بعد ازاں جب انہیں نکلنے کی اجازت دی گئی تو انہیں اپنی گاڑیاں پارکنگ سے نکالنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی کیونکہ وہ مقام جائے وقوعہ قرار دیا جا چکا تھا۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے مطابق انہیں جمعہ کی شام اولڈبری روڈ پر واقع جامع مسجد چشمہ رحمت کی پارکنگ میں ہنگامہ آرائی کی اطلاع دی گئی تھی۔ پولیس کے پہنچنے پر 18 سالہ ذیشان افضل کو چاقو کے زخموں کے ساتھ پایا گیا، جو پیرامیڈیکس اسٹاف کی جانب سے طبی امداد کی کوششوں کے باوجود زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
اس المناک واقعے کے بعد ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے قتل کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جرم کے حالات و اسباب اور ملوث افراد کے تعین کے لیے کام جاری ہے۔ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ اسمتھیک میں ایک نوعمر نوجوان کے چاقو کے وار سے جاں بحق ہونے کے بعد قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔
مقتول کی شناخت ذیشان افضل کے نام سے ہوئی ہے جو اسمتھیک کا رہائشی ہے۔ اگرچہ قتل کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے، تاہم پولیس نے مقامی رہائشیوں اور عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ وہ معلومات فراہم کریں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال اس واقعے کو نسلی یا مذہبی بنیاد پر حملہ قرار نہیں دیا جا رہا اور تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے مقامی کمیونٹی کو یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ خود کو محفوظ تصور کریں۔ یہ واقعہ مسجد کے باہر پیش آیا، تاہم اس مرحلے پر ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ نسلی یا مذہبی بنیاد پر کیا گیا ہو۔
ترجمان ویسٹ مڈ لینڈ پولیس کے مطابق ہم سمجھتے ہیں کہ اس واقعے سے کمیونٹی میں تشویش اور اضطراب پیدا ہوا ہے، اور ہم علاقے میں پولیس کی نمایاں موجودگی برقرار رکھیں گے تاکہ شہریوں کو اعتماد اور تحفظ کا احساس دلایا جا سکے۔