• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک دن کے وقفے سے دو ویڈیوز آئی ہیں۔ ایک جاپان سے ایک وزیرستان سے۔ جاپان والی ویڈیو میں بندر کے پنچ نامی چھوٹے سے ایک بچے نے پیدائش کے ساتھ ہی ماں کو کھو دیا ہے۔ پنچ پیار کی تلاش میں کبھی یہاں کبھی وہاں جارہا ہے۔ وہ حق سمجھ کر سب سے پیار مانگ رہا ہے۔ مگر بندر اسے خود سے دور کر رہے ہیں۔ کچھ اسے دھتکار رہے ہیں۔ کچھ تو نوچ کھسوٹ بھی رہے ہیں۔ اسے سمجھ نہیں آرہی کہ کوئی مجھے پیار دینے سے انکار کیسے کرسکتا ہے۔ پھر مار کیسے سکتا ہے؟ اسکی سرشت کہتی ہے، کوئی جگہ توایسی بھی ہوگی جہاں سے مجھے پیار ملنا چاہئے۔ سہارا ملنا چاہئے۔ پنچ پلٹ کر کچھ ڈھونڈتا ہے۔ اسے خود بھی نہیں پتہ کہ وہ اپنی ماں کو ڈھونڈ رہا ہے۔ مائیں کبھی واپس نہیں آتیں۔ پنچ کہاں جائے؟ وہ ایک انسان سے آس لگا لیتاہے۔دو وقت کا کھانا دینے کیلئے بیسیوں انسان چڑیا گھر آتے ہیں مگر پنچ اپنے حصےکے واحد انسان کو دور سے پہچان لیتا ہے۔ سب کھانے کا انتظار کرتے ہیں، پنچ ایک انسان کا انتظار کرتا ہے۔جب سب کھانے پہ لپکتے ہیں تو پنچ دور سے گھوم کرآتا ہے اور اپنے انسان کی پنڈلی سے چمٹ جاتا ہے۔ انسان پنچ کو کھانا دیتاہے۔پنچ بھوکا ہے۔ وہ کھانے پہ منہ مارتا ہے مگر اچانک خیال آتا ہے کہ کھانے کے چکر میں میرا انسان ہاتھ سے نکل جائیگا۔ پنچ انسان کے بازو پہ چڑھ کر منہ کے پاس آجاتا ہے۔ اے انسان! کھانا بھی ضروری ہے مگر اس وقت مجھے تم چاہیے ہو۔تم کہیں نہیں جارہے۔تم رک جائو نا میرے پاس۔مجھے تم سے چمٹ کر سونا ہے۔ انسان کتنا ہی انسان ہو اسے گھر جانا ہوتا ہے۔انسان پنچ کو ماں کی شکل کا ایک نرم کھلونا دیدیتا ہے۔ پنچ زمانے کے سرد و گرم سے بچنے کیلئے اسی کھلونے سے جڑ جاتاہے۔ پنچ کا زندہ احساس بے جان کھلونے میں روح پھونک دیتا ہے۔وہ ماں سے اپنے حصے کا پیار کشیدتا ہے، اس سے کھیلتا ہے۔ اسی کے ساتھ سو بھی لیتا ہے۔ اس سال کئی کہانیاں شائع ہوں گی اور کئی ریلیز ہوں گی۔ پنچ کی کہانی سے بڑی کوئی کہانی نہیں آسکے گی۔

اس سال بہت سی خوشیاں آئیں گی اور جائیں گی، جو خوشی آئینہ وزیر کی ویڈیو نے دی ہے کوئی چیز نہیں دے سکے گی۔آئینہ وزیر فاسٹ بالنگ کر رہی ہے۔ جیسے بند دماغوں پر بائونسر مار رہی ہو۔ ٹخنوں میں پڑی سوچ پر ان سوئنگ یارکر مار رہی ہو۔پھر وہ بیٹنگ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔جیسے وہ کریز سے نہیں، روایت کے دائرے سے باہر نکل رہی ہو۔غیرت کے چھکے چھڑا رہی ہو۔اس ویڈیو میں آئینہ وزیرہی نظر نہیں آرہی ایک گھرانے کے خواب بھی نظر آرہے ہیں۔یکایک ایک خیال آیا۔اس وقت آئینہ کی ماں کے احساسات کیا ہوں گے۔خوش زیادہ ہوگی یا پریشان زیادہ ہوگی۔وہ یقینا آئینہ کو ماریہ تورپکئی کی طرح بہت آگے جاتا دیکھنا چاہتی ہوگی۔مگروہ یہ بھی جانتی ہوگی کہ اس معاشرے میں خواب دیکھنے والی آنکھیں نوچ لی جاتی ہیں۔اڑان بھرنے والی بچیوں کے پر کاٹ دیے جاتے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دور دراز کے اندیشوں نے آئینہ کی ماں کو گھیر لیا ہوگا۔اپنے شوہر کو اس نے بہت تنگ کیا ہوگا۔کوئی میری بیٹی کو کچھ کہہ نہ دے۔ابھی تو بچی ہے،بڑی ہوگی تو کیا بنے گا۔تب تو وہ لوگ بھی شاید حمایت چھوڑ دیں گے جو ابھی اسے دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔باپ کو بات سمجھ آرہی ہوگی مگر اس نے کہہ دیا ہوگا، کچھ نہیں ہوتا۔تھوڑی ہی دیرمیں باپ کو سوشل میڈیا پر مغلظات میں لتھڑے ہوئے کمنٹس نظر آگئے ہوں گے۔پریشان ہوگیا ہوگا۔اس نے کوشش کی ہوگی کہ یہ سب آئینہ کی ماں کو نظر نہ آئے۔مگر خاندان کے ہی غیرت مندوں نے ماں سے رابطہ کرلیا ہوگا۔کہا ہوگا،ہم نے کہاتھا نا کہ بچی کو یوں باہر کھیلنے مت دو۔دیکھ لو بیچ بازار میں خاندان کی غیرت کا جنازہ نکل گیا ہے۔باقی بچیوں کی منگنیاں ہوچکی ہیں، وہ جھاڑو پوچا اور ہنڈیا سیکھ رہی ہیں، تمہاری یہ لڑکی ابھی بھی بچوں کی طرح باہر کھیل رہی ہے؟ ماں نے بہت چاہا ہوگا کہ آئینہ کو یہ سب پتہ نہ لگے، مگر بتانے والوں نے آئینہ کو بتا دیا ہوگا کہ تمہاری ویڈیو بنانے والے زعفران وزیر کو غیرت مندوں نے اغوا کرلیا ہے۔یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے۔پنچ کی طرح آئینہ کو بھی سمجھ نہیں آرہی ہوگی کہ میرے ٹیلنٹ کا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے۔خاندان، محلہ، حجرہ مل کر میرا گھیرائو کیوں کر رہے ہیں۔کوئی جگہ تو ایسی بھی ہوگی جہاں میرا اعتراف ہونا چاہیے۔اس نے پلٹ کر کچھ ڈھونڈا ہوگا۔ اسے خود پتہ نہیں ہوگا وہ سماج کو ڈھونڈ رہی ہے۔ سماج افطاری کی تیاریوں میں مصروف ہوگا۔پھر ماں کی طرف دیکھا ہوگا۔ماں بالکل چپ ہوگی۔وہ ماں کی شکل کا ایک نرم کھلونا بن گئی ہوگی۔آئینہ حیران رہ گئی ہوگی۔وہ نہیں جانتی ہوگی کہ زندگی اور خواب کے بیچ لٹک جانے والی مائیں پنچ کی بے جان ماں جیسی ہی ہوتی ہیں۔ایک نظر تو آئینہ نے اپنے صوبے کے وزیرا علیٰ کی طرف بھی دیکھا ہوگا۔سوچا ہوگا، یہ شخص تو بچوں کو پیار کرتا ہے۔کوئی بچہ ٹک ٹاک پر اسے بہادر کہہ دے تو یہ اسے وزیر اعلیٰ ہائوس بلوا لیتا ہے۔کوئی بچہ پیار سے دنیا کے بڑے کرکٹر عمران خان کا نام لے لے تو یہ تنگ گلیوں سے ہوتا ہوا اسکے گھر پہنچ جاتاہے۔یہ میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہا۔میں بھی توعمران خان کی طرح کرکٹر ہی بننا چاہتی ہوں۔آئینہ کے سوالات جائز، مگر آس پاس کوئی نہیں ہوگا جوآئینہ کو بتا سکے کہ ممکن ہے وزیرا علیٰ آنا چاہتا ہو، مگر وہ جانتا ہے کہ اجتماعی شعور آئینہ کے حق میں نہیں ہے۔میں اگرآئینہ کے پاس چلا گیا تو بزرگ مجھ سے پوچھ لیں گے کہ کیا یہی شعور ہے جو عمران خان ہمیں دینا چاہتا ہے؟

غیر مہذب سماج چہرے کی کالک دکھانے پر آئینہ توڑ دیتا ہے۔مہذب سماج آئینے کا شکر گزار ہوتا ہے اور اچھے فیس واش کی جستجو کرتاہے۔وقت نے سماج سے سوال کیا، تم کس طرف ہو۔آئینے کی طرف یا آئینہ توڑنے والوں کی طرف؟ وقت نے کافی دیر انتظار کیا۔سماج مثبت جواب دینے میں ناکام رہا۔ وائے ناکامی!!

تازہ ترین