• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرات وقت کے ساتھ اپنی شکل بدلتے رہے ہیں، مگر حالیہ مہینوں میں ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں دہشت گرد تنظیمیں جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے لگی ہیں۔ بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند عناصر اور خیبر پختونخوا میں کارروائیاں کرنے والے شدت پسند گروہ اب ایسے طریقے اختیار کر رہے ہیں جو ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔ ڈرونز کے ذریعے نگرانی، دھماکہ خیز مواد کی ترسیل اور حملوں کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف جدید وسائل تک رسائی حاصل کر رہی ہیں بلکہ انہیں منظم انداز میں استعمال کرنے کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔بلوچستان میں سرگرم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کی اطلاعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان دشمن قوتیں اس خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے نئے ہتھکنڈے اپنا رہی ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں سرگرم تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں بھی یہ رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ وہ جدید ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ دونوں تنظیمیں بظاہر مختلف نظریات رکھتی ہیں، لیکن پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ان کے مفادات ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، اور یہی بات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے پیچھے کوئی بڑی منصوبہ بندی موجود ہے۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کا حصول اور اس کا مؤثر استعمال کوئی آسان کام نہیں۔ اس کیلئے مالی وسائل، تربیت، تکنیکی معلومات اور محفوظ پناہ گاہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تمام عوامل اس شبے کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد تنظیموں کو بیرونی مدد حاصل ہے۔ پاکستان کے سیکورٹی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہے کہ ان عناصر کو خطے میں موجود پاکستان مخالف قوتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔پاکستان کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں نئی نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی دشمن قوتیں مختلف طریقوں سے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ خاص طور پر بھارت پر بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ بلوچستان اور دیگر علاقوں میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کی پشت پناہی کرتا ہے۔ پاکستان کے کئی سیکورٹی ماہرین اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کو بیرونی فنڈنگ اور تربیت فراہم کی جاتی رہی ہے ۔اسی طرح افغانستان کی صورتحال بھی پاکستان کی سلامتی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ افغانستان میں برسراقتدار افغان طالبان نے بارہا یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، مگر زمینی حقائق اس سے مختلف نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں ہونیوالی متعدد دہشت گرد کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے جا ملتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے بہت سے عناصر افغان سرزمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ڈرونز کے استعمال کا نیا رجحان بھی اسی بڑے تناظر کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ جب دہشت گرد تنظیمیں سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل کر لیں اور انہیں مالی و تکنیکی مدد بھی میسر ہو تو ان کیلئے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنا مشکل نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین اب بھی پاکستان دشمن عناصر کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کی فوج نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ اندرونی سلامتی کو یقینی بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے ڈرونز کے استعمال کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ریاست کمزور ہو گئی ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن روایتی میدانوں میں ناکامی کے بعد نئے طریقے اختیار کر رہا ہے۔

پاکستان کی افواج اور سیکورٹی ادارے جدید ٹیکنالوجی سے بخوبی واقف ہیں اور وہ اس نئے خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں دہشت گرد گروہ ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں اور اس کے مقابلے کیلئے مؤثر دفاعی نظام بھی تیار کیے جا چکے ہیں۔ پاکستان بھی اس میدان میں پیش رفت کر رہا ہے اور مستقبل میں اس حوالے سے مزید اقدامات متوقع ہیں۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دشمن صرف میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ ابلاغ عامہ کی جنگ میں بھی سرگرم ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جا سکے۔ جب بھی کوئی دہشت گرد کارروائی ہوتی ہے تو بعض عناصر فوراً ریاستی اداروں پر تنقید شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ ایسے مواقع پر اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام درحقیقت پاکستان کے سب سے زیادہ محب وطن شہریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی لوگ دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں اور یہی لوگ امن کے سب سے بڑے خواہاں بھی ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں دراصل انہی علاقوں کے نوجوانوں کو گمراہ کر کے انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو تعلیم، روزگار اور مثبت مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ دشمن کیلئے انہیں استعمال کرنا مشکل ہو جائے۔ پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے جس کی بنیاد عوام اور افواج کے باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان کو مختلف خطرات کا سامنا رہا ہے مگر ہر بار قوم نے متحد ہو کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ڈرون دہشت گردی کا یہ نیا رجحان وقتی طور پر تشویش کا باعث ضرور ہے مگر یہ پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی افواج، سیکورٹی ادارے اور عوام ایک صفحے پر ہیں اور یہی اتحاد دشمن کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تازہ ترین