• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برآمدات میں اضافے کیلئے حکومت نے گزشتہ کچھ عرصے میں جو سنجیدہ اقدامات کئے ہیں اس سے نہ صرف انڈسٹری کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ برآمدی منڈیوں میں پاکستانی برآمدکنندگان کی مسابقت میں بھی کسی حد تک بہتری آئی ہے۔ تاہم انڈسٹری کیلئے پیداواری لاگت میں اضافے کا چیلنج اب بھی برآمدات بڑھانے میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں ایکسپورٹ انڈسٹری پر عائد ایڈوانس ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے اور ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر سے بھی ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے پیداواری استعداد میں اضافہ کرناممکن نہیں ہو پارہا ۔ دوسری طرف عالمی سطح پر جاری سیاسی حالات بھی مستقل طور پر غیر یقینی کا شکار ہیں جسکی وجہ سے برآمدی آرڈرز کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بہتری کیلئے اگرچہ حکومت نے ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے بجلی کی قیمت کم کرنے کے علاوہ انٹرسٹ ریٹ میں بھی کمی کی ہے تاہم یہ سہولت لوکل انڈسٹری کو بھی ملنی چاہیے تاکہ ہر سطح پر کاروباری سرگرمیوں میں بہتری لا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار مہیا کیا جا سکے۔ اسکے ساتھ ساتھ برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کیلئےملک میں فوری طور پر ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے تاکہ طویل المدت بنیادوں پر معاشی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹیکس ریفنڈز کے اجرا میں تاخیر جیسی رکاوٹوں کو دور کر کے 60 ارب ڈالر کی آمدنی کو دوگنا کرنےکے تناظر میں ایکسپورٹ ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کرنے کیلئے گزشتہ ماہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں تشکیل دی گئی اس کمیٹی کو برآمدات میں اضافے کیلئے تجاویز کا جائزہ لینے کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں وزارت منصوبہ بندی نے بھی گزشتہ ماہ سول اور عسکری قیادت کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پر انحصار ختم کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ میں اس بات پر زور دیا تھا کہ اگلے چار سال میں برآمدات کو دوگنا کرکے 60 ارب ڈالر اور اگلے دس سال میں برآمدات کا حجم سو ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے ایکسپورٹ ایمرجنسی کا نفاذ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں وزارت منصوبہ بندی کی طرف سے وزیر اعظم کو برآمدی صنعتوں کیلئےخصوصی ہاٹ لائن قائم کرنے اور 30 دنوں کے اندر ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے وزیر اعظم کا خصوصی ڈیش بورڈ بنانے کی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر بھی یہ بات سنجیدگی سے محسوس کی جا رہی ہے کہ معاشی مشکلات کے سبب بار بار دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے سےبچنے کا واحد راستہ برآمدات میں اضافہ ہی ہے۔ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اگر آئندہ چند سال کے دوران پاکستان نے اپنی برآمدات کو 60 ارب ڈالر سے زیادہ نہ بڑھایا تو بڑھتی ہوئی آبادی اور غربت کی شرح میں اضافے کے باعث ہمیں دوست ممالک سے مزید قرض لینا اور دوبارہ آئی ایم ایف پروگرام میں جانا پڑے گا جسکی وجہ سے ملک کی معیشت پہلے ہی آئی سی یو میں پہنچ چکی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اس وقت بھی دوست ممالک کے قلیل مدتی قرضوں کی مد میں تقریباً 13 ارب ڈالر کا مقروض ہے جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت لیا گیا قرض اس کے علاوہ ہے۔

ایسے میں معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے ضروری ہے کہ غیر ضروری سرکاری تعطیلات کا خاتمہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے قومی تعطیلات کو مزدوروں کی مشاورت سے اختیاری قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی طرف سے اچانک کی جانیوالی سرکاری تعطیلات کے باعث برآمدی صنعتوں میں پیداواری عمل میں تعطل کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اسی طرح سب سے زیادہ برآمدی صلاحیت کے حامل سیکٹرز کو درپیش مسائل یا مشکلات کم کرنے کیلئے بھی ترجیحی اقدامات ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے ماضی میں اپنی سربراہی میں اجلاس بلانے کی جو روایت شروع کی تھی اسے دوبارہ بحال کرنا چاہئے۔

وزارت تجارت اور وزارت خارجہ کو پاکستانی سفارتی مشنوں کو تجارتی مشن میں تبدیل کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ برآمد کنندگان کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک میں موجود سفارتی عملہ بھی برآمدات میں اضافےکیلئے فعال کردار ادا کر سکے۔ اس سلسلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی متحرک کرناہوگا تاکہ انہیں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں اضافے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کیساتھ ساتھ برآمدی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی سہولیات بھی میسر آ سکیں۔ منصوبہ بندی، صنعت و پیداوار، خارجہ امور اور تجارت کی وزارتوں کو ایک مربوط حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ویلیو ایڈیشن، مصنوعات اور منڈیوں کے تنوع اور عالمی مارکیٹ شیئر میں اضافہ کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ گزشتہ 24 سال کے دوران ہماری برآمدات میں بمشکل چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ بنگلہ دیش، ویتنام، چین اور انڈیا کی برآمدات میںاس عرصے کے دوران 20 سے 30فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسلئے اگر پاکستان میں اب بھی ایکسپورٹ ایمرجنسی کے نفاذ میں تاخیر کی گئی تو ترقی کی شرح میں بہتری کی بجائے مزید تنزلی کا اندیشہ ہے۔

تازہ ترین