جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات، پاکستان کے اصولی فلسطین نواز موقف، اور سوشل میڈیا پر گردش کرتےسازشی نظریات نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں حقیقت اور قیاس آرائی میں فرق کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔تازہ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی پردھان منتری نریندرمودی دوروزہ سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچ چکے ہیں، انٹرنیٹ پر گردش مختلف رپورٹس کے مطابق مودی سرکارنے اسرائیل کے ساتھ مجموعی طور پرآٹھ اعشاریہ چھ بلین ڈالرز کے دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دیدی ہے جسکے تحت تباہ کُن بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل اور آئس بریکر میزائل سسٹم سمیت جدید جنگی ڈرون طیاروں کی خریداری شامل ہے، کچھ مبصرین کا دعویٰ ہے کہ بھارتی پردھان منتری اسرائیلی قیادت کو ڈرون طیاروں کی تیاری کیلئے بھارت میں فیکٹری لگانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس حوالے سے مختلف رپورٹس میں یہ بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ بھارت اپنی عسکری دفاعی حکمت عملی کو اسرائیلی پلے بُک ڈیفنس ڈاکٹرائن کے تحت ازسرنو مرتب کرنے کیلئے اسرائیلی تعاون کا خواہاں ہے۔ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر دستیاب تجزیاتی مضامین میں اسرائیلی پلے بُک کی اصطلاح وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی رہی ہے جسکے مطابق اسرائیل اپنا دفاع یقینی بنانے کیلئے کسی ممکنہ خطرے سے قبل پیشگی حملے، جدید فضائی دفاعی ٹیکنالوجی آئرن ڈوم، میزائل دفاعی نظام، ڈرون نگرانی سسٹم، جاسوسی نیٹ ورک، انٹلیجنس، مخصوص اہداف پر محدود کارروائی اور سب سے بڑھ کر عوامی رائے عامہ اور عالمی سفارتکاری پر اثرانداز ہونے کیلئے بیانیہ گھڑنے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے ایوان ِ بالا سینیٹ میں اسرائیلی وزیراعظم کے حالیہ اشتعال انگیز بیان کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منطورکرلی گئی ہے، عالمی میڈیاکے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اتوار کو کابینہ اجلاس کے دوران یہ بیان داغا کہ اسرائیل بھارت کے ساتھ ملکر شدت پسند مخالفین کا مقابلہ کرنے کیلئے مشرقِ وسطیٰ کے اندر یااردگرد دفاعی اتحاد کا ایک نیا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو بنیادی طور پر ایک ’ہیکساگون یعنی چھ فریقی اتحاد ہوگا۔ چند روز قبل اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے ایک اور اشتعال انگیز بیان نے بھی میڈیا پر بھونچال برپا کردیا تھا جسکے مطابق خطے میں ایک نیا محوراُبھر رہا ہے جس میں ترکیہ، قطر، اخوان المسلمین اور جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان شامل ہیں، اگرچہ یہ بیان بظاہر مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صف بندیوں کے تناظر میں دیا گیا، تاہم پاکستان کاتذکرہ عالمی مبصرین نےبھارتی پردھان منتری کےدورہ اسرائیل کے تناظر میں حساس نوعیت کا قرار دیا کہ ایک تو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکاری اور ایٹمی قوت رکھنے والا پاکستان روزاول سے مظلوم فلسطینیوں کا پُرزور حمایتی ہے، دوسرےپاکستان کی بہادر افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا ساری دنیا ماننے پر مجبور ہے۔ یہ امر باعث دلچسپی ہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے ہفتہ وار بریفنگ میں مذکورہ بیان کو قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے یہ کہہ کر تبصرہ کرنےسے انکار کردیا گیاکہ پاکستان کسی ایسے ملک کے عہدیدار کے بیان پر تبصرہ نہیں کرئیگا جسے وہ تسلیم نہیں کرتا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں اسرائیل کو بھی بانی ممبران کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد سوشل میڈیا پراِن خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ امن بورڈ کی سربراہی کیلئے اسرائیلی صدر کو نامزد کر سکتے ہیں، اگر ایسا ہوجاتا ہے تو پھر پاکستان سمیت ایسے متعدد ممبران ممالک کا سفارتی مستقبل کیا ہوگا جو اسرائیل کے وجود سے انکاری ہیں؟ میری نظر میں آج اکیسویں صدی میں معلومات کی ترسیل جہاں تیز ترین ہو چکی ہے، وہیں افواہوں اور سازشی نظریات نے بھی غیر معمولی رفتار اختیار کر لی ہے،حالیہ دنوں چند اہم بین الاقوامی معاملات بالخصوص مشرق وسطیٰ سے متعلق جوخبریں اور بیانات منظرعام پر آئے اور پھرعالمی میڈیا پر سنسنی خیزتبصروں کا جو سلسلہ شروع ہوگیا ،میں بطور محب وطن پاکستانی انکا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ایک زمانے میں بھارت کا شمار فلسطینی صدر یاسر عرفات کے قریبی دوستوں میں ہوا کرتا تھا،نوے کی دہائی میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کے باوجود بھارتی حکمرانوں کا وطیرہ تھا کہ وہ دورہ اسرائیل کے ساتھ فلسطینی قیادت کے ساتھ بھی ملاقاتیں کرتے تھے، تاہم گزشتہ ایک دہائی سے مودی سرکار نےمظلوم فلسطینی عوام کی کمر میں چھُرا گھونپتے ہوئے اپنے آپ کومکمل طور پر اسرائیل کی جھولی میں ڈال دیاہے، یہی وجہ ہے کہ ماضی کی طرح مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل بھی فقط دفاعی تناظر میں دیکھا جارہا ہے جبکہ بعض حلقے اس دورے کو خفیہ عسکری اتحاد، علاقائی ممالک کے خلاف کسی نئے بلاک کی تشکیل، یا خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی سازش سے جوڑرہے ہیں۔ میری نظر میں نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ محض ایک دوطرفہ سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ دونوں کے مابین بڑھتی قربتیں ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ ہے، اگر بھارت اسرائیل سے جدید حملہ آور ٹیکنالوجی حاصل کرتا ہے توخطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، پاکستان کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑ سکتی ہے اوراسلحے کی نئی دوڑ تیز ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی قیادت کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں بھی ایسے پاکستان مخالف بیانات کو فوری طور پر ممکنہ فوجی کارروائی یا عالمی دباؤ کی تیاری سے جوڑا جاتا رہا ہے، تاہم پاکستان نے ہر موقع پر اپنے آپ کو ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پرمنوایاہے کہ ہمارا جوہری پروگرام مضبوط اور منظم کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت چلتا ہے، اسی طرح پاکستان کی مضبوط دفاعی صلاحیتوں کا عالمی برادری کو بخوبی ادراک ہے۔پاکستانی سینیٹ میں اسرائیل مخالف قرارداد کی متفقہ منظوری اور فارن آفس کی جانب سے اسرائیلی قیادت کے بیان پر تبصرے سے انکار کوعالمی میڈیا پر مختلف زاویوں سے پیش کیا جارہا ہے،تاہم میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے اسرائیلی قیادت کے قابلِ مذمت بیانات کے خلاف بروقت ایکشن لیتے ہوئے اسکی سفارتی اہمیت زیرو کر دی ہے، پاکستان نےایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ اشتعال انگیز مفروضوں کو خطے کی بیانیاتی سیاست کا حصہ سمجھتے ہوئے محتاط سفارتی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔میری نظر میں سوشل میڈیا پر گردش کرتی سازشی تھیوریاں وقتی طور پر سنسنی پیدا کر سکتی ہیں، مگرریاستی سطح پر پالیسی سازی ہمیشہ حقائق، دستاویزی شواہد اور قومی مفاد کی بنیاد پر ہوتی ہے،تاہم ہمیں یہ امر نہیں بھولنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر منظم انداز میں قیاس آرائیوں پر مبنی سازشی تھیوریاں رائے عامہ کو ہموار اورسیاسی بیانیے کو تقویت دینے کیلئے بھی پھیلائی جاتی ہیں۔میں آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہوں کہ صدر ٹرمپ جنگوں کو رُکوانے کیلئے وائٹ ہاؤس آئے ہیں اور وہ کسی صورت ایسی ناپسندیدہ صورتحال پیدا نہیں ہونے دیں گےجسکےمنفی اثرات سے انکے قائم کردہ بورڈ آف پیس کا شیرازہ بِکھرے اور عالمی امن خطرے میں پڑجائے۔