اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغیر وجہ اپنی مرضی سے بینک اکاؤنٹ بلاک کرنے کی غلطی تسلیم کرنے پر ایک نجی بینک کو 3 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ بینک بغیر مصدقہ قانونی وجہ کے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس بلاک یا منجمد نہیں کر سکتے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے نجی بینک کو ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست گزار کی قانونی چارہ جوئی پر آنے والے 3 لاکھ روپے کے اخراجات 1 ماہ کے اندر ادا کر کے عمل درآمد رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرائے۔
فیصلہ این سی سی آئی اے کی انکوائری کے دوران شہری کا بینک اکاؤنٹ ازخود بلاک کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر جاری کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اسٹیٹ بینک مستقبل میں بغیر وجہ اکاؤنٹس بلاک کر کے شہریوں کو متاثر کرنے سے روکنے کے اقدامات کرے، مناسب ہو گا کہ اسٹیٹ بینک موجودہ معاملے کا جائزہ لے اور تمام بینکوں کے لیے گائیڈ لائنز جاری کرنے پر غور کرے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احتیاطی تدابیر سے متعلق گائیڈ لائنز میں واضح کیا جائے کہ قانونی جواز کے بغیر کسی شہری کو اپنے بینک اکاؤنٹ کے استعمال سے نہیں روکا جا سکتا، اسٹیٹ بینک ایسا میکنزم بھی بنا سکتا ہے جس سے اکاؤنٹ ہولڈرز کو غیر ضروری طور پر متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
عدالت نے نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار کا اکاؤنٹ زیرِ التواء درخواست کے دوران بحال ہو چکا ہے اس لیے مزید ہدایت جاری کرنے کی ضرورت نہیں تاہم قرار دیا کہ بینک نے غیر سنجیدہ اور بے وجہ کارروائی کرتے ہوئے اکاؤنٹ بلاک کیا جس کے باعث شہری کو عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے حلف نامے کے ذریعے بتایا کہ وکیل اور مقدمے پر اس کے 3 لاکھ روپے خرچ ہوئے، عدالت نے بینک کو یہ رقم بطور اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بینک کا ایسا طرزِ عمل ناصرف بینکاری اصولوں کے دائرے سے باہر ہے بلکہ آئین کے طے شدہ اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شہری کو اس کی پراپرٹی سے محروم کرنا یا اس کی مالی آزادی پر پابندی عائد کرنا صرف قانون کے مطابق ہی ممکن ہے۔
عدالت نے کہا کہ موجودہ کیس کے حقائق بینک کی لاپروائی ظاہر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں شہری کے ملکیتی حقوق میں مداخلت ہوئی۔
فیصلے کے مطابق بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت شہری کی پراپرٹی ہے اور کسی بھی شخص کو مضبوط قانونی وجہ کے بغیر اپنی پراپرٹی تک رسائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بینک اپنے صارفین کی جمع پونجی امانت کے طور پر رکھتے ہیں اس لیے ان پر امانت، مناسب احتیاط اور قانونی لین دین کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے خلاف مالیاتی فراڈ کی انکوائری این سی سی آئی اے میں شروع ہوئی تھی، این سی سی آئی اے نے شہری کے بینک کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے بینک کو ای میل کی جس پر بینک نے اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کرنے کے ساتھ ازخود اکاؤنٹ بھی بلاک کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ این سی سی آئی اے نے جواب میں تسلیم کیا کہ اس نے شہری کا اکاؤنٹ بلاک کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی تھی، دوسری جانب بینک نے بھی اپنی غلطی مان لی کہ اس نے احتیاطاً خود ہی اکاؤنٹ بلاک کیا تھا۔
عدالت نے یاد دلایا کہ ڈویژن بینچ کے فیصلے کے مطابق این سی سی آئی اے بھی بغیر قانونی جواز کسی بینک اکاؤنٹ کو بلاک یا فریز کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتا۔