تاریخ کے اوراق جب الٹتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیوں کی گرد میں لپٹے ہوئے فیصلے آج کے افق پر نئی صورتوں میں ابھر رہے ہوں۔ طاقت کی سیاست کبھی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی،دائروں میں سفر کرتی ہے اور اپنے مفادات کی قوس بناتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ آج جب دنیا کی نظریں ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی سمت اٹھ رہی ہیں اور واشنگٹن کی بازگشت صحرا کی وسعتوں میں سنائی دیتی ہے تو بات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی۔ اصل منظر یہ ہے کہ عالمی بساط پر مہرے کس ترتیب سے رکھے جا رہے ہیں اور آنے والے مرحلے کی تیاری کیسے ہو رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کو اگر سطحی بیانات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ طاقت کے اظہار اور دباؤ کی حکمت ایک ساتھ چلتی ہے۔ ایران کے بارے میں سخت مؤقف ہو یا خلیجی ریاستوں کے ساتھ دفاعی معاہدے،ہر قدم کے پیچھے مفاد کی ایک باریک مگر نمایاں لکیر دکھائی دیتی ہے۔بڑی طاقتیںاپنے فیصلے جذبات سے نہیں بلکہ حساب کتاب سے کرتی ہیں۔ اسی حساب کتاب کے پیش نظرخطے کی نئی صف بندی جنم لیتی ہے۔ایران کے گرد کھنچتی ہوئی سرحدیں صرف عسکری نوعیت کی نہیں بلکہ معاشی دباؤ سے بھی عبارت ہیں۔ پابندیاں، جوہری معاہدے سے علیحدگی اور خلیج میں بحری نقل و حرکت یہ سب اقدامات ایک وسیع تر منصوبہ بندی کا حصہ محسوس ہوتے ہیں۔
بلا شبہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب کسی خطے میں اسلحہ اور فوجی قوت کا انبار لگنے لگے تو اس کے اثرات سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہتے بلکہ پورے ماحول پر سایہ فگن ہو جاتے ہیں۔خلیج کی سرزمین اپنے دامن میںسعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر اور شام وغیرہ جیسی تہذیبوں کی داستانیں سمیٹے ہوئےہے ۔ مسئلہ مگریہ درپیش ہے کہ موجودہ عہد میں تہذیبی رشتوں سے زیادہ اہمیت تزویراتی مفادات کو حاصل ہو چکی ہے۔ عسکری اڈے، دفاعی معاہدے اور اربوں ڈالر کے ہتھیار ایک ایسا حصار بناتے ہیں جس میں تحفظ کا احساس بھی ہے اور انحصار کی مجبوری بھی۔ طاقت کی موجودگی کبھی خالی اعلان نہیں ہوتی یہ خاموش پیغام بھی ہوتی ہے اور مستقبل کی سمت کا اشارہ بھی اسےخیال کیا جانا چاہئے۔
مثال کےطورپریہ گمان کر لینا کہ" خطرہ صرف ایک سمت سے ہے اور باقی سب محفوظ ہیں" ایساسوچنادرحقیقت عالمی سیاست کی پیچیدگیوں کو سادہ بنا دینا ہے۔ قوت جب کسی خطے میں جڑ پکڑ لے تو اس کا دائرہ اثر رفتہ رفتہ وسیع ہوتا جاتا ہے کیونکہ دفاع اور اثر و رسوخ کے درمیان لکیر اکثر دھندلا جاتی ہے۔ایک غیرجانبدارانہ رائےقائم کی جائےتو پورے منظر میں اسرائیل کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ’وسیع تر اسرائیل‘ کا تصور خواہ سیاسی بحث کا حصہ ہو یا محض ایک خیال اس کا حوالہ بارہا سامنے آتا ہے۔ چونکہ امریکہ اور اسرائیل کا تعلق عسکری تعاون، اطلاعاتی اشتراک اور سفارتی حمایت سے جڑا ہوا ہے اس لیے ہر پیشرفت کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔یقینی طورپراس تناظر میں یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ عالمی تعلقات یک رخے نہیں ہوتے۔ امریکہ کے اپنے داخلی مسائل، معاشی ترجیحات اور انتخابی تقاضے اس کی خارجہ حکمت کو متاثر کرتے ہیں۔ تیل کی منڈیاں، اسلحہ سازی کی صنعت اور داخلی سیاست یہ سب عوامل فیصلوں کی سمت طے کرنے میں شریک رہتے ہیں۔ ظاہرہےاس حوالےسےفوجی نقل و حرکت کو فوری جنگ کا پیش خیمہ سمجھ لینا بھی قرینِ احتیاط نہیں۔
تمام ترموجودہ صورت حال کااہم پہلو یہ ہے کہ مسلم دنیا اس صورت حال کو کس بصیرت سے دیکھ رہی ہے۔ کیا وہ منتشر آوازوں میں بات کر رہی ہے یا اس ضمن میں کسی مشترکہ حکمت پر غور بھی ہو رہا ہے؟ تاریخ شاہد ہے کہ اندرونی انتشار بیرونی دباؤ کو تقویت دیتا ہے۔چنانچہ ضروری ہے کہ جذباتی ردعمل کے بجائے تدبر کو اختیار کیا جائے۔ یعنی نہ ہر قدم کو حتمی معرکہ سمجھا جائے اور نہ ہر خطرے کو سرسری لیا جائے۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہی ہے کہ منظر کے پس منظر کو ہرصورت جانچااورنہایت باریک بینی سے سمجھا جائے، طاقت کے توازن کو پرکھا جائے اور مستقبل کی سمت کا تعین کیاجائے۔یہ سچ ہے کہ وقت کی روانی یکساں نہیں رہتی۔
آج جو غالب ہے کل نئی مصلحتوں کے جال میں گھر سکتا ہےلیکن وہ قومیں جو اپنی داخلی بنیادیں مضبوط کر لیتی ہیں وہ عالمی شورش میں بھی اپنی جگہ قائم رکھتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کاتازہ ترین منظرنامہ بھی اسی طویل داستان کا ایک باب ہے، جس کا انجام صرف ہتھیاروں کی گھن گرج سے نہیں بلکہ حکمت، اتحاد اور اجتماعی شعور سے وابستہ ہے۔
دریا کے کنارے کھڑے ہو کر پانی کی سطح پر ابھرتی لہروں کو دیکھیں تو وہ بے ترتیب دکھائی دیتی ہیں، گہرائی میں ایک باقاعدہ بہاؤ جاری رہتاہے۔ عالمی سیاست بھی بسااوقات اسی طرح چلتی رہتی ہے۔بظاہر ہنگامہ خیز اور اندر خامشی۔ بارہا غور کرنےکےباوجود اس بحث کاسب سےاہم ترین نکتہ پھربھی یہی سامنےآتا ہے کہ مسٹرٹرمپ کی بچھائی گئی شطرنج کی اس گیم میں مسلم دنیا کےرہنمااس مشکل ترتیب کو کس حد تک سمجھ پاتے ہیں اور اپنی تدبیر کو کس سمت لے جاتے ہیں۔