• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی رینج کیا ہے؟ یہ کتنے طاقتور ہیں؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ایران نے جنیوا میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے اور ان مذاکرات میں ایران کے میزائلوں کا ذخیرہ ایک اہم موضوع رہا ہے۔

یہاں ایران کے میزائلوں کی صلاحیتوں اور ان کی رینج پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

بیلسٹک میزائل کیا ہوتا ہے؟

بیلسٹک میزائل راکٹ کی طرح چلنے والا ہتھیار ہے جو اپنے ہدف کو زمین سے نشانہ بنا سکتا ہے، اس میں روایتی دھماکا خیز مواد یا ممکنہ طور پر حیاتیاتی، کیمیائی یا جوہری گولہ بارود موجود ہوتا ہے۔

یہ میزائل مختلف اقسام کے ہوتے ہیں، ان کی بنیادی اقسام میں شارٹ رینج، میڈیم رینج، انٹرمیڈیٹ رینج اور بین البراعظمی رینج بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔

ایرانی میزائلوں کی اقسام اور رینج کیا ہے؟

مغربی طاقتیں ایران کے بیلسٹک میزائلوں کو مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کے لیے خطرہ اور جوہری ہتھیاروں کے لیے ممکنہ ترسیل کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔

امریکا کے نیشنل انٹیلی جنس آفس کے ڈائریکٹر کے مطابق ایران کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور ان کی خود ساختہ حد 2 ہزار کلو میٹر ہے۔

ایرانی حکام کا اپنے بیلسٹک میزائلوں کی رینج کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ ملک کی حفاظت کے لیے کافی ہے کیونکہ اس حد کے ساتھ یہ اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران کے میزائلوں کے ذخیرے کا بڑا حصہ تو تہران اور اس کے آس پاس ہی موجود ہے اور ملک کے مختلف صوبوں میں کم از کم 5 ایسے شہر ہیں جہاں میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے جن میں کرمانشاہ اور سمنان بھی شامل ہیں۔

سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق ایران کے پاس موجود میزائلوں کے ذخیرے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے متعدد میزائل شامل ہیں جو اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس ذخیرے میں 2 ہزار کلو میٹر کی رینج والا سجیل میزائل، 1 ہزار 700 کلو میٹر کی رینج والا عماد میزائل، 2 ہزار کلو میٹر کی رینج والا غدر میزائل، 1 ہزار 300 کلو میٹر کی رینج والا شہاب 3 میزائل، 2 ہزار کلو میٹر کی رینج والا خرمشہر اور  1 ہزار 350 کلومیٹر کی رینج والا ہووی زا میزائل شامل ہے۔

ایرانی میڈیا نے اپریل 2025ء میں ایک گرافک شائع کیا تھا جس میں 9 ایرانی میزائل دکھائے گئے تھے اور یہ بتایا تھا کہ یہ میزائل اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایرانی میڈیا کا سجیل میزائل کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ 17 ہزار کلو میٹر  فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی رینج 2 ہزار 500 کلومیٹر ہے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان کے خیبر میزائل کی رینج 2 ہزار کلو میٹر جب کہ حج قاسم میزائل کی رینج 1 ہزار 400 کلو میٹر ہے۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل شہاب 1 کی رینج 300 کلو میٹر، ذوالفقار کی رینج 700 کلو میٹر، شہاب 3 کی رینج 800 سے 1000 کلو میٹر کے درمیان ہے۔

علاوہ ازیں عماد 1 میزائل جو ابھی بنایا جا رہا ہے اس کی رینج 2 ہزار کلو میٹر جبکہ ایک اور سجیل میزائل ماڈل جسے تیار کیا جا رہا ہے اس کی رینج کا اندازہ 1 ہزار 500 سے 2 ہزار 500 کلو میٹر لگایا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید