• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ہمیشہ سے مختلف قومیتوں کا گہوارہ رہا ہے اور یہاں رہنے والے تمام لوگوں نے مل کر اس دھرتی کو آباد کیا ہے۔ سندھ کی اصل طاقت اس کی وحدت اور اس کی تاریخی شناخت ہے۔ جب بھی سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بات کی جاتی ہے تو یہ صرف ایک انتظامی تجویز نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک سیاسی سوچ کارفرما ہوتی ہے جو سندھ کی اجتماعی شناخت کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ سندھ کے عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور سندھ کراچی کے بغیر ادھورا ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی سیاست ایک بار پھر اسی پرانے نعرے کے گرد گھومتی دکھائی دے رہی ہے جس میں سندھ کو شہری اور دیہی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس جماعت کی قیادت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سندھ کے عوام اب اس سیاست سے آگاہ ہو چکے ہیں جس میں محرومیوں کا تاثر پیدا کر کے لسانی بنیادوں پر حمایت حاصل کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ کی تقسیم کا نعرہ عوامی مسائل کا حل نہیں بلکہ ایک سیاسی ہتھکنڈا ہے۔

سندھ کے عوام کیلئے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہی عناصر دراصل ان قوتوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں جو اٹھارویں آئینی ترمیم کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کے وفاقی نظام کی بنیاد ہے جس نے صوبوں کو ان کے حقوق دیے اور مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا توازن قائم کیا۔ اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو تعلیم، صحت، بلدیات اور دیگر اہم شعبوں میں اختیار ملا جس سے وفاق مضبوط ہوا۔ سندھ کے عوام اس ترمیم کو اپنی سیاسی اور معاشی خودمختاری کی ضمانت سمجھتے ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والے عناصر دراصل اسی سوچ کو تقویت دیتے ہیں جو صوبوں کے اختیارات کو واپس مرکز کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ جب کراچی کو الگ صوبہ بنانے یا انتظامی یونٹ بنانے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت حاصل شدہ صوبائی اختیارات کو کمزور کیا جائے۔ سندھ کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جو جماعتیں خود کو شہری سندھ کی نمائندہ کہتی ہیں وہ کیوں ایسے بیانیے کو تقویت دیتی ہیں جو صوبائی خودمختاری کے خلاف جاتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صوبائی خودمختاری اور وفاق کے استحکام کیلئے جدوجہد کی ہے۔ سندھ کے عوام کو یاد ہے کہ صوبوں کے حقوق کیلئے سب سے زیادہ آواز اسی جماعت نے اٹھائی اور اسی جماعت کی قیادت میں اٹھارویں ترمیم منظور ہوئی۔ سندھ کے عوام کے نزدیک صوبائی خودمختاری صرف ایک آئینی مسئلہ نہیں بلکہ ان کے تاریخی حقوق کا سوال ہے۔

کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ یہ زمینی حقائق سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ کراچی سندھ کا معاشی مرکز ضرور ہے لیکن اس کی معیشت پورے سندھ سے جڑی ہوئی ہے۔ اندرون سندھ کی زراعت، صنعتوں کیلئے خام مال فراہم کرتی ہے جبکہ کراچی کی بندرگاہ پورے صوبے کی تجارت کا ذریعہ ہے۔ اگر کراچی کو الگ کیا جائے تو یہ ایک ایسا انتظامی بحران پیدا کرے گا جسکے اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کراچی میں قائم سرکاری دفاتر اور اداروں سے سب سے زیادہ فائدہ شہری آبادی خصوصاً اردو بولنے والے طبقے کو ہوتا ہے۔ صوبائی سیکریٹریٹ، کارپوریشنز، وفاقی دفاتر، تعلیمی ادارے اورمالیاتی ادارے کراچی میں موجود ہیں جہاں بڑی تعداد میں اردو بولنے والے نوجوان ملازمت کرتے ہیں۔ سندھ کے دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو اکثر کراچی آ کر رہائش اور روزگار کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ شہری آبادی کو ان سہولیات تک زیادہ آسان رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود یہ تاثر دینا کہ شہری آبادی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سندھ کے عوام یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر واقعی کراچی کے شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہوتی تو کیا اتنے بڑے پیمانے پر سرکاری دفاتر اور ادارے کراچی میں قائم ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہری مرکز ہے اور یہاں موجود سرکاری ادارے پورے ملک کے شہریوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان اداروں میں کام کرنے والوں کی بڑی تعداد اردو بولنے والے طبقے سے تعلق رکھتی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کراچی میں مواقع کی کمی نہیں بلکہ مواقع کی تقسیم کا تاثر سیاسی طور پر پیدا کیا جاتا ہے۔

گورنر ہاؤس جیسے آئینی ادارے کو اگر سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے تو اس سے صوبے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ گورنر کا منصب وفاق کی نمائندگی کرتا ہے اور اس منصب کو سندھ کی تقسیم کے بیانیے سے جوڑنا نہ صرف نامناسب بلکہ خطرناک بھی ہے۔ وفاق کی مضبوطی اسی میں ہے کہ صوبوں کی وحدت کا احترام کیا جائے۔

سندھی قوم پرست سوچ رکھنے والے حلقوں کے نزدیک سندھ کی وحدت ایک ناقابل تقسیم حقیقت ہے لیکن یہ سوچ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے وفاق کو مضبوط بنانےکیلئے ہے۔ سندھ کے عوام پاکستان کے وفادار ہیں اور وہ ایک مضبوط وفاق چاہتے ہیں، لیکن مضبوط وفاق اسی صورت ممکن ہے جب صوبوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔

وقت آ گیا ہے کہ سندھ کے تمام باشندے اس حقیقت کو سمجھیں کہ ان کے مفادات مشترک ہیں۔ سندھ کو تقسیم کرنے یا کراچی کو الگ کرنے کی باتیں دراصل عوام کے مسائل کا حل نہیں بلکہ سیاسی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔ سندھ کی وحدت، صوبائی خودمختاری اور وفاق پاکستان کی مضبوطی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی حقیقتیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو کمزور کرنا دراصل سب کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔

تازہ ترین