تتلی کے پروں پر لکھا مارچ کا مہینہ آغاز ہوا ،لاہور کی سڑکوں پر گل نشتر کے درختوں پر سرخ پھول بہار دکھا رہے ہیں۔ فیض صاحب کے الفاظ میں بہار آئی تو بھولے بسرے خواب اور گلاب عدم سے لوٹ آتے ہیں ۔خواب اور گلاب کے راستے عذاب اور سراب کی راہ پر پیچ سے ہوکر گزرتے ہیں اور قریہ تعبیر تک جاتے جاتے اس میں دو چار بڑے سخت مقام آتے ہیں۔ بہار ہماری دہلیزوں پر دستک دے رہی ہے مگر شہر نگاراں کا موسم خوش کن نہیں ہے دل سے دہلیز تک بے امن موسم کی اجارہ داری ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر افغانیوں کی احسان فراموشی جنگ کے شعلے بھڑکا چکی ہے ادھر ایران پر امریکی حملے کے بادل منڈلا رہے ہیں مگر بہار کو تو اپنے وقت پر آنا ہی ہے۔ غزہ کے لہو لہو جنگ زدہ ویرانوں سے بھی بہار کے رنگ پھوٹ رہے ہیں۔ یاقوتی پھول بہار کے موسم کی نشانی ہے ۔ جنگ کے قہر زدہ موسم ہی کیوں نہ ہوں گل لالہ ہر بہار میں جبر کی سنگلاخ زمینوں سے سر اٹھاتا ہےاور اہل غزہ کو موسم بہار کی نوید سناتا ہے۔گل لالہ کے سرخ پھول میں اندر ایک سیاہ نشان ہوتا ہے اور سیاہ رنگ کے دائرے کے گرد سرخ پتیوںکی جھالر تنی ہوتی ہے یہ پھول جتنا حسین ہے اتنا ہی سخت جان بھی اسی لیے گل لالہ کو فلسطین کا قومی پھول کہا جاتا ہے ۔ یہ یاقوتی پھول بھی صدیوں سے اس سرزمین پر بسنے والے لوگوں کے ساتھ صہیونی جبر کے خلاف اس مزاحمت کا حصہ ہے اور عالمی جبر اور ظلم کے مقابل اہل غزہ کے ساتھ جنگ میں شریک ہےمزاحمت کا یہ یاقوت سرزمین فلسطین پر ہر اس جگہ سے سر اٹھاتا ہے جہاں اہل فلسطین کا لہو بہا ۔یہ لہو طرابلس کے اسی لہو کا تسلسل ہے جو ایک نظم میں اقبال نے عالم خواب میں رسالت مآب حضرت محمدﷺ کے حضورپیش کیا۔ ’حضور دہر میں آسودگی نہیں ملتی ؍تلاش جس کی ہو وہ کلی نہیں ملتی ؍مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں؍ جو چیز اس میں ہے وہ جنت میں بھی نہیں ملتی ؍جھلکتی ہے تیری امت کی آبرو اس میں؍طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں‘ نوے کی دہائی تک غزہ میں پھولوں کی برآمد منافع بخش کاروبار تھی یہاں بہار کے موسم میں اتنے پھول کھلتے تھے کہ یہاں سے پھولوں کی تجارت ہوتی تھی۔گلاب اور کارنیش کےرنگ رنگ کے پھول یورپی منڈیوں میں بھیجا کرتے تھے۔2007 غزہ پر لگنے والی پابندیوں سے پھول سرحدوں پر پڑے پڑے مرجھانے لگے راستے بند ہو گئے تجارت کہاں سے ہوتی ہے ۔صہیونی جبر نے اہل فلسطین پر زندگی کے راستے اور دروازے بند کرنے شروع کر دیے۔ ظلم اتنا بڑھا کہ حالیہ جنگ میں ماؤں کی گودوں میں کھلے پھول مرجھانے لگے۔انسانی حقوق کے عالمی چارٹرکی دھجیاں بے حسی کی آگ میں راکھ ہو گئیں۔
2026 کا رمضان المبارک ہے ۔جو اہل غزہ بے گھری کے عالم میں اپنے گھروں کے ملبے پر گزار رہے ہیں اور خیموں میں بسر ہوتی زخم زخم زندگی میں بھی رمضان کے استقبال کو اپنی پرانی چیزوں سے لالٹینیں بنا کر اچھے وقتوںکے رمضان سے جڑی تہذیبی روایتوں کو زندہ رکھ کر دنیا کو حیرت میں ڈالتے ہیں۔عرب کے مصور ہوں یا مغرب کے رنگوں سے اظہار کرنے والے فنکار وہ اس سرخ پھول کو جبر مزاحمت اور فلسطین کی طویل جدوجہد آزادی کی علامت کے طور پر اپنے کینوس پر پینٹ کرنا ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔ لیلیٰ شاہ فلسطین کی سرزمین پر پیدا ہونے والی وہ عظیم آرٹسٹ ہےجس نے اپنی زندگی میں بے تحاشہ ایسی تصویریں بنائیں جس میں وہ یاقوتی پھول کھلا ہوا دنیا کو امید اور مزاحمت کا پیغام دے رہا ہے۔ایلیسن فوڈ ایک غیر مسلم مصور ہیں انہوں نے اس پھول کو بلاک پرنٹ کے آرٹ ورک میں ایسے استعمال کیا کہ اہل ذوق دنگ رہ گئے۔اہل فلسطین کے لیے یہ سرخ پھول ان کے اظہار کا ایک بلیغ استعارہ ہے۔ دسمبر 2023 میں ایک منفرد انداز کا احتجاج ہوا یہ احتجاج نیویارک سٹی کے اسٹاک ایکسچینج کے دفتر کے باہر تھا ۔ فلسطین پر جبر اور ظلم کیخلاف آواز اٹھانے والے سینکڑوں مزاحمت کاروں نے مل کر کاغذ کے بیس ہزار سرخ یاقوتی پھول بنائے اور اسے نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے باہر رکھ دیا۔ ہرپھول فلسطینی مزاحمت اور امید کی روشن علامت تھا اور ان کے اندر کی اس توانائی کا اظہارتھا جو انہیں خواب دیکھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہ پھول ہر اس شہید کے وجود کی علامت ہے جو صہیونی جبر میں جان سے گئے۔ اس وقت جب بات کہنے پر پابندی ہو سچ بولنا جرم ہو تو سرخ سبز اور سیاہ رنگ کا یہ پھول فلسطینی پرچم کی علامت بن کر" چاند کو گل کریں تو ہم جانیں "کی آواز لگاتا ہے۔میں نے سوچا ہے کہ اس موسم بہار میں جب دل اداس ہے تو میں بھی کینوس پر گل لالہ کا پھول پینٹ کروں گی میں کوئی باقاعدہ مصور نہیں ہوں لیکن ایسے ہی کسی بہت اداس موسم میں، میں نے جب رنگوں کے ساتھ اظہار کرنے کی کوشش کی تو مجھے اس میں ایک تھراپی جیسا سکون محسوس ہوا۔یہ موسم بہار کی ہلکی گرم ہوتی دوپہر ہے، وقت ہو تو فضا میں بہار موسم کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے، ارد گرد کھلے ہوئے پھولوں کو سراہا جا سکتا ہے، صحنوں میں بہار اتر چکی ہے۔ بجا کہ دور و نزدیک سے کشیدگی اور جنگ کی خبریں ہیں اور ہم خدشے و خوف کی دیوار کے پاس دیکھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں مگر فلسطین کے گل لالہ سے اتنا تو ہم نے سیکھا ہے کہ جبر مزاحمت خوف اور خدشے کا موسم، امید اورامن خواب دیکھتے گزارا جاتا ہے۔