پاکستان میں دہری شہریت کا مسئلہ وقتاً فوقتاً زیر بحث آتا رہا ہے، مگر حالیہ اطلاعات نے اس بحث کو ایک نئی سنگینی دے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک فہرست کے مطابق بائیس ہزار سے زائد حاضر سروس سرکاری افسران دہری شہریت رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور امریکہ کی شہریت رکھتی ہے، اور بعض افسران فیڈرل سیکرٹری جیسے اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں۔ یہ صورتحال سنسنی خیزہی نہیں بلکہ سنجیدہ قومی مکالمے کی متقاضی ہے۔آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 63(1)(c) کے تحت کوئی بھی شخص اگر کسی غیر ملکی ریاست کی شہریت اختیار کرلے تو وہ پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کا اہل نہیں رہتا۔ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلوں میں اس اصول کی توثیق کی کہ دہری شہریت قانون سازی کے منصب کیساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ آئینی منطق واضح ہے:مقننہ میں دہری وفاداری قبول نہیں۔ اسی طرح مسلح افواج کے افسران اپنی سروس شرائط کے تحت غیر ملکی شہریت اختیار نہیں کر سکتے۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان غیر مشروط وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مستقل انتظامیہ یعنی سول سروس کو استثنا کیوں حاصل ہو؟ کیا ریاستی اختیار گریڈ کیساتھ تبدیل ہو جاتا ہے؟ ہر سرکاری ملازم، خواہ وہ کسی بھی سطح پر ہو، ریاستی طاقت کا نمائندہ ہوتا ہے۔
شہریت صرف سفری سہولت نہیں بلکہ ایک قانونی و سیاسی بندھن ہے۔ غیر ملکی شہریت حاصل کرتے وقت حلفِ وفاداری لیا جاتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی سرکاری ملازم بھی پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کا عہد کرتا ہے۔ یہ معاملہ کسی فرد کی حب الوطنی پر شبہ کرنیکا نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کا ہے۔ریاستی ڈھانچہ اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اسکے ستون غیر مبہم ہوں۔ اگر حلف دو ریاستوں کے نام پر ہو تو اصولی تضاد پیدا ہوتا ہے، چاہے عملی طور پر کوئی مسئلہ پیدا نہ بھی ہو۔ ریاستی خدمت ایک امانت ہے، محض پیشہ نہیں۔ایک اہم پہلو وہ طریقۂ کار ہے جسکے ذریعے یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ افسران اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک جاتے ہیں، اکثر اوقات سرکاری معاونت سے۔ بیرونی تعلیم یقیناً فائدہ مند ہے، لیکن اگر یہی راستہ مستقل رہائش اور بعد ازاں شہریت کے حصول کا ذریعہ بن جائے، اور پھر افسر وطن واپس آ کر ریاستی منصب سنبھال لے تو یہ نظام کی کمزوری کی علامت ہے۔
کسی ملک کی شہریت حاصل کرنے کیلئے مخصوص مدت تک وہاں قیام ضروری ہوتاہے۔ اگر سرکاری افسر اسی دوران شہریت حاصل کر لے اور بعد ازاں دوبارہ ریاستی اختیار سنبھال لے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمت مستقل وابستگی ہے یا عارضی انتظام؟اگر غیر ملکی شہریت بطور حفاظتی بندوبست حاصل کی جائے تو یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ مستقبل کیلئے متبادل راستہ محفوظ رکھا جا رہا ہے۔ ریاستی خدمت اس ذہنیت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔یہ بحث صرف اعلیٰ عہدوں تک محدود نہیں ہونی چاہئے۔ ہر حاضر سروس سرکاری ملازم ریاستی اختیار استعمال کرتا ہے۔ خواہ وہ ٹیکس افسر ہو، پولیس کا عہدیدار، ریگولیٹری ادارے کا رکن یا وزارت میں پالیسی ساز۔ ہر عہدہ ریاستی ذمہ داری ہے۔بین الاقوامی کشیدگی، پابندیوں یا سفارتی تنازعات کی صورت میں دہری شہریت نظریاتی یا قانونی پیچیدگی پیدا کر سکتی ہے۔ بیرونی دائرۂ اختیار یا مفادات کا ٹکراؤ ادارہ جاتی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگرچہ عملی طور پر ایسا کم ہی ہو، مگر اِمکان ہی ریاستی ساکھ کیلئے کافی ہے۔ بھارت اور چین دنیا کی دو بڑی سمندر پار کمیونٹیز ہیں۔ بھارت دہری شہریت کی اجازت نہیں دیتا۔ بیرون ملک مقیم افراد کو اوورسیز سٹیزن آف انڈیا یا این آر آئی کا درجہ مل سکتا ہے، مگر بھارتی شہریت برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ چین بھی دہری شہریت تسلیم نہیں کرتا۔ وہاں قانونی طور پر ایک ہی شہریت معتبر ہے۔ ان ریاستوں نے سہولت پر نہیں بلکہ خودمختاری کے اصول پر فیصلہ کیا ہے۔یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ بحث سمندر پار پاکستانیوں کیخلاف نہیں۔ ہماری بیرون ملک مقیم برادری سالانہ چالیس ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر وطن بھیجتی ہے، جو معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن ایک نجی شہری اور ایک حاضر سروس سرکاری افسر میں بنیادی فرق ہے۔ ذاتی سطح پر دہری شہریت انفرادی انتخاب ہو سکتا ہے، مگر ریاستی منصب پر فائز شخص کیلئے یہ اصول اور پالیسی کا سوال ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ہر فرد کو اپنی مرضی کی زندگی اختیار کرنے کا حق ہے، مگر دورانِ سروس معیار مختلف ہونا چاہئے۔
اصلاح کا ناگزیر راستہ
اس معاملے کا حل جزوی یا مبہم نہیں ہونا چاہئے۔ اصول سادہ اور یکساں ہونا چاہیے۔حاضر سروس سرکاری ملازم کیلئے دہری شہریت پر مکمل پابندی۔ تمام افسران سے غیر ملکی شہریت کی لازمی اور شفاف تفصیل طلب کی جائے۔ رضاکارانہ طور پر غیر ملکی شہریت ترک کرنے کیلئے معقول مہلت دی جائے۔ غیر ملکی شہریت برقرار رکھنے کی صورت میں سروس کا خاتمہ۔سروس قوانین میں واضح قانونی ترمیم اور پارلیمانی نگرانی۔قانون یکساں ہو، مستقبل کیلئے ہو اور کسی مخصوص فرد کیخلاف نہیں بلکہ اصول کے تحت ہو۔آخر میں سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے قانون سازوں اور فوج سے غیر مشروط وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ کیا وہی معیار اپنی مستقل انتظامیہ پر لاگو نہیں ہونا چاہئے؟ خود مختاری وضاحت مانگتی ہے۔ ادارہ جاتی طاقت یکسانیت سے پیدا ہوتی ہے۔ عوامی اعتماد اسی وقت بحال ہوتا ہے جب اصول سب کیلئےبرابر ہوں۔ اگر پاکستان ایک مضبوط، باوقار اور خود اعتماد ریاست بننا چاہتا ہے تو اسے یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے ہر حاضر سروس سرکاری ملازم کی وفاداری غیر منقسم ہو ایک شہریت، ایک ریاست، ایک عہد۔واضح رہے کہ یہ بحث کسی فرد کیخلاف نہیں بلکہ ریاست کے حق میں ہے۔