اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر محض آٹھ ماہ بعد دوبارہ حملہ کر دیا۔ دنیا کو گو مگو کی کیفیت میں رکھ کر ٹرمپ کبھی ایرانی حکومت کی تبدیلی کا نعرہ لگاتے تو کبھی آیت اللہ علی خامنائی کے خلاف کھڑے نظر آتے،کبھی جنگیں روکنے کے وعدوں پر منتخب ہونے کے باعث عالمی دباؤ پر ایران سے مذاکرات کا ڈول ڈالتے نظر آتے تھے۔ ایران کو جنگ سے خوفزدہ کرنے کے واسطے خطے میں ایئر کرافٹ کیریئر، ڈسٹرائرز اور فریگیٹ لا کھڑے کیے۔ اسرائیل میں اپنے ایف 22 طیارے پہنچا دیے جبکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے اڈوں پر لڑاکا طیاروں کی لائنیں لگا دیں۔ ہر ممکن اور قابل عمل رعایت دینے پر تیار اور امن کا خواہاں ایران لیکن اپنے دفاع کے حق سے دستبردار ہونے کو تیار ہوا نہ اپنے ولایت فقہی نظام سے پیچھے ہٹنے کو راضی ہوا۔ ادھر "شیطن یاہو" جو امریکہ کی نکیل تھامے اسے جدھر چاہے موڑتا ہے فوراً ایران پر چڑھ دوڑنے کے لیے اکستا رہا ۔ صدر ٹرمپ ڈھیلے پڑنے لگے تو "شیطن یاہو" نے امریکہ کا ہنگامی دورہ کر کے ٹرمپ کو دوبارہ جنگ کی پٹڑی پر چڑھا دیا۔ صدر ٹرمپ کو امریکی عوام کے ردِ عمل کی پیشِ نظر جنگ میں پہل کرنے پر مائل نہ پا کر "شیطن یاہو" نے مشترکہ حملے کا راستہ نکال لیا۔پہلے ہی حملے میں آیت اللہ خامنئی کے گھر و دفتر کے احاطے پر 30 بنکر بسٹر بم مارے۔لڑکیوں کے اسکول پر بم مار کر 200 بچیوں کو شہید کر دیا۔30 سے زیادہ شہروں کو نشانہ بنایا۔ ایران کی جانب سے فوراً جوابی کارروائی شروع ہوئی کیونکہ شمالی اسرائیل میں دھماکے سنے گئے جبکہ بحرین، قطر، سعودی عربیہ، کویت اور یو اے ای میں بھی امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی اطلاع ہے۔حیران کن طور پر مشرق وسطیٰ کے کئی شہری علاقوں پر مبینہ طور پر ایران نے حملے کئے جس سے مقامی آبادی متنفر ہوئی۔ادھر صدر ٹرمپ اور "شیطن یاہو "ایرانی عوام کو بھڑکا رہے ہیں کہ ہم بہادر ایرانیوں کے لیے ان حملوں سے حالات سازگار بنا رہے ہیں اور انہیں چاہیے کہ حکومت کمزور ہونے پر اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ امریکہ ایران کے درمیان مذاکرات کا ڈھونگ جوہری صلاحیت ختم کرنے اور 400 کلو گرام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر شروع ہوا، پھر اسرائیلی بقاء کے لئے ایران سے میزائل پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا۔ ایران کی امن کی خواہش کو کمزوری سمجھتے ہوئے اس پر مزید ولایتِ فقہی نظام الٹانے کے خواب دیکھنے شروع کر دیے۔ بار بار رجیم تبدیل کرنے کے لئے بیانات آرہے ہیں حالانکہ رجیم تبدیل کرنے سے ولایتِ فقہی نظام تبدیل نہ ہوگا۔ رجیم کے معنی ایسا حکومتی نظام جو عموماً آمرانہ، جابرانہ یا غیر جمہوری ہو اور کسی مخصوص دورِ اقتدار کے لئے ہو۔ایران کا نظامِ حکومت سو فیصد جمہوری ہے جبکہ یہ کسی مخصوص شخصیت، وقت یا دور کے لئے بھی نہیں۔ کبھی اعلان کیا جاتا تھا کہ آیت اللہ کو مار دیں گے، گرفتار کر لیں گے، کبھی اسرائیلی پٹھو رضا پہلوی کو برسرِاقتدار لانے کا منصوبہ بنایا گیا۔" شیطن یاہو" اور ٹرمپ دراصل ایران کی جوہری صلاحیت اور میزائل پروگرام سے خائف نہیں بلکہ ولایتِ فقہی نظام کی کامیابی سے گھبرا گئے ہیں۔انہیں یہ علم تھا کہ ایران جوہری صلاحیت کا حامل نہیں، ویسے بھی اسرائیل کی بقاء کے لیے خطے میں لولی لنگڑی و طفیلی حکومتیں قائم کر کے ان کے معدنی وسائل پر وینزویلا کی طرز پر امریکہ کا قبضہ ان کا حقیقی مطمعٔ نظر ہے۔ اسی لیے ایران کی خود مختاری انہیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
پاکستان نے زچ ہو کر افغانستان پر ٹارگٹڈ آپریشن شروع کر دیے ہیں۔ دہشت گردی کے باعث بگڑتے حالات کے باوجود دوست ممالک کی درخواست اور اخوت و بھائی چارے کے مدِ نظر پاکستان نے بے انتہا ضبط، صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا۔ ترکیہ میں افغان طالبان سے مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں، ان کے دروازوں کے رنگ، محلوں و شہروں تک کی ایسی تفصیل پیش کی کہ طالبان وفد ششدر رہ گیا۔ بہرحال اپنے سہولت کاروں سے اجازت نہ ملنے پر مذاکرات ناکام کر کے مزید مہلت مانگی گئی ۔اسی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان حکومت نے دہشت گردوں کو ٹھکانے بدل کر گھنی آبادیوں میں بسا دیا۔ حال ہی میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافے اور برادر ممالک کی طالبان پر اثر انداز ہونے میں ناکامی پر، پاکستان نے مجبوراً یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ اب طالبان حکومت پاکستان کو مذاکرات کی طرف بلا رہی ہے لیکن ماضی میں ان کی چالیں دیکھتے ہوئے ہمیں مذاکرات سے پہلے فساد کی جڑ ٹی ٹی پی اور داعش کا صفایا کرنا ہوگا۔ دونوں ملکوں کی سرحد کے درمیان 50 کلومیٹر کا بفر زون قائم کرنا ہوگا وگرنہ کینسر کی مانند یہ مرض دوبارہ پھیل جائے گا۔ قوم مزید اپنے بہادر سپوتوں کی لاشیں اٹھانے کو تیار نہیں۔ بس! اب بہت ہو گیا!افغان طالبان ٹی ٹی پی اور داعش کے سامنے بے بس ہیں یاپاکستانی خون انہیں ارزاں لگ رہا ہے تو ہمیں یہ کام خود کرنا ہوگا۔ مذاکرات دہشت گردوں کے قلع قمع ہونے، افغان ہوائی اڈوں، اسلحہ ڈپووں کی تباہی اور عسکری صلاحیت کے خاتمے کے بعد ہی شروع کئے جائیں۔ ادھر "موذی" نے اسرائیل کا دورہ کیا تو "شیطن یاہو" اور اس کی بیگم نے ایئرپورٹ پر اسکا استقبال کیا۔ اظہارِ یکجہتی میں بیگم یاہو نے نارنجی جسے ہندو "بھگوا" رنگ کہتے ہیں پہنا تھا جبکہ"موذی" نے واسکٹ میں بھگوا رنگ کا رومال لگایا ہوا تھا۔ دونوں ابلیسی بھائی یوں گلے ملے جیسے بچپن میں کسی میلے میں بچھڑنے پر سالوں بعد ملے ہوں۔ایران پر حملے سے پہلے ہندوستانی ایماء پر افغانستان سے پاکستان میں شر انگیزیاں بڑھا کر پاکستان کو دوسرے محاذ پر مصروف کیا گیا تاکہ ایران کو پاکستان کی جانب سے ریلیف یا تعاون نہ مل سکے۔ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے ہندوستان کے علاوہ اسرائیل اور امریکہ کی آشیر باد بھی اب روز ِروشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے۔
صدر ٹرمپ ناقابلِ اعتبار ہیں، جھوٹ بولتے اور دھوکہ دیتے ہیں لیکن اپنی خامیوں کو اعلیٰ حکمتِ عملی گردانتے ہیں۔ ٹیرف لگا کر یا ٹیرف لگانے کی دھمکیاں دے کر سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے ذاتی مال بناتے ہیں۔ جبکہ "شیطن یاہو" اور موساد انہیں ذاتی زندگی کی غلطیوں اور کمزوریوں پر ایپسٹین فائلز پر بلیک میل کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کے مفاد کے برخلاف اسرائیلی ایماء پر ایران پر جنگ مسلط کر کے، امریکہ کی سپر طاقت حیثیت کو داؤ پر لگایا ہے۔ایران اگر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو خاطر خواہ نقصان پہنچاتا ہے یا صرف 12 ارب ڈالر کے ایئر کرافٹ کیریئر کو ناکارہ کر دیتا ہے تو امریکی ہاتھی گھٹنوں کے بل گر جائے گا۔ آیت اللہ خامنئی کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی۔ اپنی قیادت سے ایرانیوں کو جو شکایات تھیں وہ اتنی اہم ہستی کی شہادت پر دوبارہ اپنے نظریات پر یکسو اور اکھٹے ہوگئے ہیں۔ایران کی ہزاروں سال کی تہذیب نے انہیں حوصلہ اور تدبر کرنا سکھایا ہے۔ وہ اپنی بقاء اور سلامتی کے حوالے سے بہت حساس اور ہوشیار ہیں۔چونکہ ایرانی قوم اپنی خود مختاری اور نظریات کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے اسلئے فتح بھی اسی کی ہوگی۔انشا اللّٰہ۔
؎ تو ہے میت، یہ ہنر تیرے جنازے کا امام
نظر آئی جسے مرقد کے شبستاں میں حیات!