چین کے کاروباری دوستوں پر برا وقت ہے۔ چین نے طے کرنا ہے کہ اس نے ایک کے بعد ایک دوست کو یونہی مار کھاتے دیکھتے رہنا ہے یا پھر کروٹ بھی بدلنی ہے۔جس چیز کانام کبھی القاعدہ ہوا کرتا تھاوہ آج کل شام میں حکومت کررہی ہے۔جسےطالبان کہتے تھے وہ افغانستان میں برسر قتدار ہے۔وینزویلا کے صدر کو اچکا جاچکا ہے۔ایران میں رجیم چینج کی عوامی کوشش میں ناکامی کے بعد سید خامنہ ای کو براہ راست نشانہ بنایا جاچکا ہے۔پاکستان اور افغانستان باہم الجھے ہوئے ہیں۔یہ الجھائو عالمی طاقتوں کو خطے میں کھلی دعوت دے رہا ہے۔چین کیا سوچ رہا ہے۔ ہم نظریوں اورعقیدوں میں الجھے ہوئے لوگ ہیں۔کوئی مولوی کے آنے پہ خوش تو کوئی مولوی کے جانے پہ خوش۔طاقت کو مگر اس سے سروکار نہیں۔یہ حجاب، یہ حقوق، یہ آزادی اور یہ پابندی۔یہ سب عام حالات کی جگالیاں ہیں۔جنگوں میں شہری آزادیوں کا سوال بنیادی نہیں ہوتا۔بنیادی سوال زندگی کا ہوتا ہے۔جب سر ہی نہیں رہیں گے تو حجاب پہنانے اور اتارنے کا سوال کس کیلئے کریں گے۔ایران کی مہسا امینی کا نوحہ تو ہم پڑھ لیں گے مگر پھول جیسی ان سو بچیوں کا کیا کریں گے جنکے چیتھڑے جنگ کے آغاز میں ہی اڑا دیے گئے ہیں۔جنگ آتی ہے تو نہ ختم ہونیوالی تنگی اور ناپائیداری ساتھ لاتی ہے۔امریکا افغانستان اور عراق کے شہریوں کو زندگی دینے گیا تھا۔مل گئی؟جو ہاتھ میں تھا وہ بھی نہیں رہا۔جنگ کی قیمت سب کو ادا کرنی ہوتی ہے۔کیا مولوی کیا لبرل۔نظریاتی ذہن اس مجموعی اثر سے مگر غافل ہو جاتا ہے۔یہی اسکی عیاشی بھی ہوتی ہے۔ایران رہا ایک طرف، ہمارے ہاں افغانستان کے معاملے کو دیکھنے کا رجحان بھی نظریاتی ہے۔کسی کے تجزیے میں جب امریکا کو افغانستان میں شکست ہوئی جیسی سطر نظر آجائے توحیرانی ہوتی ہے۔امریکا کو شکست؟ خیر سے اب ہمارے پریشان قوم پرست دوست بھی اس مغالطے کا شکار ہو چکے ہیں۔اول تو انہیں اس بات پر فخر ہی نہیں کرنا چاہیے کہ افغانستان طاقتوں کا قبرستان ہے۔فخر کرنا بھی ہے تو پھر کم ازکم طالبان اور امریکا والے معاملے کو قبرستان والے زمرے میں نہیں رکھنا چاہیے۔بیٹھے بٹھائے انہوں نے تصور کرلیا ہے کہ طالبان در اصل پشتون فریڈم فائٹر تھے جنہوں نے افغان سرزمین کی جنگ لڑی ہے۔توبہ خدایا پاکہ!! اگر یہ سچ ہے، تو پھر جو لوگ اس جنگ کا حصہ نہیں تھے، انکے بارے میں بھی کچھ ارشاد کرنا چاہیے۔
طالبان آئے نہیں تھے، طالبان لائے گئے تھے۔لائے بھی نہیں گئے تھے، باقاعدہ چھوڑے گئے تھے۔امریکا کو ایک دن جانا تھا۔افغانستان اس کے گھر کا کوئی کمرہ نہیں تھا۔دور پردیس میں لگایا ہوا ایک بیس کیمپ تھا۔اس نے ایک دن سمٹنا تھا۔طاقت اپنا بیس کیمپ یک لخت اکھاڑ کر نہیں جاتی۔پیچھے ایسا بندوست چھوڑکر جاتی ہے جو اسکے مفادات کو خود کار طریقے سے تحفظ فراہم کرتا رہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد سے لیکر اب تک کی مشق یہ ہے کہ طاقت پیچھے تنازعہ چھوڑ کرجاتی ہے۔یہ فلسطین اسرائیل، یہ پاک افغان، یہ چین بھارت اور پاک بھارت، یہ سب چھوڑے ہوئے تنازعے ہیں۔یہ تنازعے خطے میں کسی بھی بڑی تجارتی سرگرمی کیلئے رکاوٹ ہیں اور یہی تنازعے طاقت کیلئے مداخلت کا جواز بھی ہیں۔
طالبان حکومت کو پہلے دن سے اس سوال کا سامنا ہے کہ دنیا سے خود کو کیسے منوایا جائے۔خود کو منوانے کا یہ چیلنج کیا افغانستان کو ہے؟ نہیں۔پھر کس کو ہے؟ طالبان کو۔افغانستان گاڑی ہے اور طالبان ڈرائیور ہیں۔گاڑی کے کاغذات مکمل ہیں۔وہ کہیں بھی آنا جانا کرسکتی ہے۔طاقت نے چن کر ایسے ڈرائیور کو ڈرائیونگ سیٹ پربٹھا دیا ہے جسکے پاس لائسنس نہیں ہے۔ساتھ لائسنس آفس کو بھی بتادیا ہے کہ اسکو لائسنس جاری نہیں کرنا ہے۔ڈرائیور کو صرف دائرے میں گاڑی کے مزے لینے کی اجازت ہے۔یہ ڈرائیور صرف تنازعے کی وجہ بن سکتا ہے، تنازعے کو ختم کرنے کا نہیں سوچ سکتا۔سوچے گا تو ٹریفک وارڈن اسے روک کر لائسنس مانگ لے گا۔پاکستان کہتا ہے افغان طالبان ٹی ٹی پی کی حمایت کررہی ہیں۔پاکستان کیا، انٹرنیشنل کرائسس گروپ جیسے ادارے بھی یہ بات کرچکے ہیں۔پاکستان کو یہ بھی لگتا ہے کہ طالبان کا اختیار کردہ ’اسلامائزڈ نیشنل ازم‘ بھی ٹی ٹی پی کوطاقت فراہم کررہا ہے۔اب پاکستان چاہتا ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو لگام ڈالیں۔دوسری طرف طالبان کو لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی کی مخالفت ہمیں دو سطحوں پر مہنگی پڑسکتی ہے۔ایک تو ہمارے اپنے ہی پرانے لڑاکے اور بااثر لیڈر سوال اٹھائیں گے کہ کیا ہم نے اس دن کیلئے قربانیاں دی تھیں کہ ہم اپنے ہی جیسا موقف رکھنے والی ہم نام و ہم کار جماعت سے برات کا اعلان کردیں گے؟ دوسرے یہ کہ ٹی ٹی پی ردعمل میں داعش کا حصہ بن جائے گی۔یوں اس مشکل میں اضافہ ہوجائے گا جو داعش کی صورت میں داخلی طور پر پہلے سے افغانستان میں طالب حکومت کیلئے موجود ہے۔اب تجزیہ کار دیکھنا چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں طاقت کس کے ساتھ کھڑی ہے۔یہ سوال پرسوں خود طاقت سے ہوا تو اس نے کہا، پاکستان ٹھیک ہی توکر رہا ہے۔تجزیہ کار نے اسکا سادہ سا مطلب یہ نکالا کہ طاقت سیدھے سبھائو پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔نہیں، خدا لگتی یہ ہے کہ اس تنازعے میں طاقت صرف تنازعے کے ساتھ کھڑی ہے۔
خاکم بدہن! عجیب سا ایک سوال ذہن میں بار بار اٹھتا ہے۔جس طرح دہشت گردی کو جواز بناکر طاقت افغانستان میں اتری تھی، اسی طرح تنازعے کو بنیاد بناکر وہ پختونخوا کی طرف آنے کا تو نہیں سوچ رہی؟ یا فقط اس تنازعے سے کام چلانے کا سوچ رہی ہے جو اس نے چین کے راستے میں کامیابی سے بچھا دیا ہے؟ بہر دوصورت چین کی حالت اس لشکر جیسی ہوگئی ہے جسکے سامنے آگ ہے اور پیچھے سمندر ہے۔آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور سمندر میں بیڑے کھڑے ہیں۔اندریں حالات مولوی، ہارڈ کور لبرل اور پریشان قوم پرست کیا سوچ رہے ہیں، یہ تو واضح ہے۔اب یہ بھی تو واضح ہو کہ چین کیا سوچ رہا ہے۔