پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ محض ہمسائیگی کی تاریخ نہیں بلکہ آزمائشوں، غلط فہمیوں اور مسلسل کشیدگی کی داستان بھی ہے۔ اگر اس مسئلے کی جڑوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف عدم استحکام کی کوششیں کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ 1960ءکی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ اس زمانے میں کابل کی حکومت نے پاکستان کے خلاف پشتونستان کے مسئلے کو ہوا دی اور سرحدی علاقوں میں مداخلت کا راستہ اختیار کیا۔ اس پالیسی نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا اور ایک ایسی فضا پیدا کی جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ اصولی موقف اختیار کیا کہ پاکستان کی سرحدی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو صاحب کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول خودمختاری اور برابری تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کو ایک مضبوط اور باوقار ریاست کے طور پر اپنی پوزیشن واضح رکھنی چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ بھٹو صاحب کے نزدیک ایک کمزور پاکستان نہ خطے کیلئے مفید ہو سکتا تھا اور نہ ہی اپنے عوام کے لیے۔
بعد کے برسوں میں حالات مزید پیچیدہ ہوتے گئے۔ افغانستان میں جنگیں ہوئیں، عالمی طاقتوں نے مداخلت کی اور پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔ پاکستان نے ہر دور میں افغانستان کے عوام کی مدد کی۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی گئی، انہیں روزگار اور تعلیم کے مواقع فراہم کیے گئے ۔ مگر اس کے باوجود پاکستان کو مسلسل سیکورٹی خطرات کا سامنا رہا۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دہشت گردی کے خطرے کو بہت پہلے محسوس کر لیا تھا۔ وہ بار بار یہ کہتی تھیں کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر افغانستان میں ایک مستحکم اور ذمہ دار حکومت قائم نہ ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان تک ضرور پہنچیں گے۔ بینظیر بھٹو کا وژن یہ تھا کہ پاکستان ایک جمہوری اور اعتدال پسند ریاست کے طور پر خطے میں امن کا کردار ادا کرے، مگر ساتھ ہی اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے حالات دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ بینظیر بھٹو کے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرحدی علاقوں میں حملے، سیکورٹی اہلکاروں کی شہادتیں اور عام شہریوں کا نشانہ بننا ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ پاکستان بار بار یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کیلئے استعمال ہونے سے روکے، مگر اس مسئلے کا کوئی مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔
26 فروری 2026کے حالیہ واقعات نے صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں اچانک اضافہ ہوا اور دونوں طرف سے کارروائیوں کی خبریں سامنے آئیں۔ اطلاعات کے مطابق جھڑپوں میں جانی نقصان بھی ہوا اور سرحدی آبادی خوف و ہراس کا شکار رہی۔
یہ صورتحال صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور سفارتی چیلنج بھی ہے۔ پاکستان کو ایک طرف اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے اور دوسری طرف خطے میں امن کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جس کی ضرورت شہید بھٹو، شہید بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی سیاست میں نظر آتی ہے۔ آصف علی زرداری نے ہمیشہ مفاہمت اور برداشت کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے بارہا کہا کہ پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے چاہئیں کیونکہ خطے کا امن پاکستان کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔ مگر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
آج پاکستان کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس مسلسل خطرے کا مقابلہ کیسے کرے۔ کیا صرف فوجی اقدامات کافی ہوں گے یا ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کیلئے سیاسی بصیرت اور سفارتی مہارت بھی ضروری ہے۔ پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے یہ مسئلہ مؤثر انداز میں اٹھانا ہوگا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ افغانستان سے آنے والی دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کا مسئلہ ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ افغانستان کو یہ پیغام واضح طور پر دیا جائے کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان نے ہمیشہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، مگر صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر پاکستان کی سرزمین اور عوام کو مسلسل نشانہ بنایا جائے گا تو ریاست کو اپنا دفاع کرنا ہی ہوگا۔ اگر افغانستان کی حکومت سنجیدگی سے یہ فیصلہ کر لے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔آج کی صورتحال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مضبوط، متحد اور خودمختار پاکستان ہی دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کی، یہی وہ راستہ ہے جس پر شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی اور یہی وہ پالیسی ہے جسے آصف علی زرداری آگے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان کو امن کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں مگر ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنانا ہوگا کیونکہ ایک محفوظ پاکستان ہی ایک مستحکم پاکستان ہو سکتا ہے۔