• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طب بہت ترقی کرچکی ہے۔دنیا بھر میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ ،لیور ٹرانسپلانٹ، کڈنی ٹرانسپلانٹ اور لنگز ٹرانسپلانٹ سمیت کئی اعضاء کی پیوند کاری ہورہی ہے۔ عالمی طاقتوں کا محبوب مشغلہ مگر رجیم چینج کے ذریعے ’’ہیڈ ٹرانسپلانٹ‘‘ یعنی ناپسندیدہ حکمران کو ہٹا کر من پسند شخص کو برسراقتدار لانا ہے۔قیام پاکستان کے چند برس بعد ایک ایسے ہی رجیم چینج آپریشن نے پاکستان میں پہلی فوجی حکمرانی کی راہ ہموار کی تھی۔عراق میں شریف مکہ کے پوتے شاہ فیصل حکمران تھے جو اردن میں تخت نشین شاہ حسین کے کزن تھے۔شاہ حسین نے شاہ فیصل کے ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے پر دستخط کر رکھےتھے جولائی 1958ء میں شاہ فیصل نے 42سالہ میجر جنرل عبدالکریم قاسم کی سربراہی میں فوجی دستے اردن روانہ کیےتاکہ شاہ حسین کیلئے ممکنہ بغاوت کو کچلا جا سکے۔میجر جنرل عبدالکریم قاسم کی قیادت میں پیشقدمی کر رہی فوج نے اچانک منزل تبدیل کرکے واپس بغداد کا رُخ کرلیا۔میجر جنرل عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف کی قیادت میں یہ فوجی دستے 14جولائی1958ء کی بغیر کسی مزاحمت کے بغداد میں داخل ہوگئے اور وہاں قبضہ کرلیا۔ایک شاہی باورچی جو جان بچا کر انقرہ کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوا اس نے فوجی انقاب کی رودادد سنائی تو یہ تفصیل ٹائم میگزین میں شائع ہوئی۔

باغی فوج نے 23سالہ بادشاہ فیصل اور ان کے چچا 46سالہ ولی عہد شہزادہ عبداللہ کو قتل کردیا ۔شاہی محل کی کئی خواتین کو بھی ماردیا گیا۔عراقی وزیراعظم نوری السعیدی جو بھیس بدل کر برقع پہن کر چند خواتین کے ساتھ فرار ہونے کی کوشش میںپکرے گئے اور پھر ان کی لاشوں کو عبرت کے طورپر نہ صرف سڑکوں پر گھسیٹا گیا بلکہ کئی دن تک اُلٹا لٹکا کر رکھا گیا۔باغی فوجی افسروں میجر جنرل عبدالکریم اور کرنل عبدالسلام عارف نے عراق کو سینٹو یعنی سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن کے معاہدے سے الگ کرنیکا اعلان کیا تووائٹ ہائوس اور پینٹا گان میں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔جنرل ایوب خان بغداد پیکٹ سے متعلق استنبول میں ہونیوالے اجلاس میں موجود تھے ،جب انہیں عراق میں ہونیوالی فوجی بغاوت کی خبر ملی ۔شاہ ایران بھی اس اجلاس میں شریک تھے ،انہوں نے ایوب خان کو ایران اور پاکستان پر مشتمل کنفیڈریشن تشکیل دینے کی پیشکش کی جسکے سربراہ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی ہوں اور دونوں ملکوں کی مشترکہ فوج کے سپہ سالار جنرل ایوب خان ہوں ۔ایوب خان نے شاہ ایران کو اس بات کا کوئی حتمی جواب نہ دیا ۔ ایوب خان یہ پیشکش ہرگز قبول نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ تو خود بادشاہ سلامت بننے کے خواہاں تھے۔عراق کی فوجی بغاوت نے ایوب خان کے دیرینہ منصوبے کو ایک نئی جہت بخشی۔اگرچہ صدرمیجرجنرل اسکندر مرزا 1959ء میں ایوب خان کی مدت ملازمت میں دی گئی دوسری توسیع ختم ہونےپر ان کے جانشین کا فیصلہ کرچکے تھے ،جنرل خالد شیخ کو افواج پاکستان کا نیا کمانڈر انچیف تعینات کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا تھا،افواج پاکستان میں جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا چیئرمین لگانے کا خیال سب سے پہلے اسکندر مرزا کے ذہن میں آیا اور یہ طے پایا کہ جنرل ایوب خان کو ریٹائرمنٹ کے بعدCJCSC لگا دیا جائے۔ جنرل ایوب خان نے بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعیناتی پر اسکندر مرزا کا شکریہ بھی ادا کیا مگریوب خان کے ارادے کچھ اور تھ ۔

اس دور کے امریکی ڈی کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس کی روشنی میں امریکی محقق اور مورخ رابرٹ جے میک موہن نے ایک زبردست کتاب تحریر کی جسکا نام ہے ’’The Cold War on the Periphery The United states,India and Pakistan ‘‘1994ء میں شائع ہونیوالی اس تصنیف کے مطابق بغداد کی فوجی بغاوت نے امریکی حکام کی سوچ بدل ڈالی ۔واشنگٹن میں کھلبلی مچ گئی اور اس خوف کے بادل منڈلانے لگے کہ کہیں پورے خطے میں سویت یونین پنجے گاڑنے میں کا میاب نہ ہو جائے۔امریکہ کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے صدر آئزن ہاور کو اس بات پر قائل کرلیا کہ پاکستان کی کلیدی فوجی اتحادی کی حیثیت برقرار رکھی جائے اور افواج پاکستان کی تربیت ،اسلحہ اور وسائل سے متعلق ضروریات فوری طور پر پوری کی جائیں ۔ رابرٹ جے میک موہن کے مطابق 1958ء کے ابتدا میں امریکی محکمہ خارجہ نے آئزن ہاور کو تجویز دی تھی کہ پاکستان کیلئے فوجی امداد میں کمی کی جائے کیونکہ پاکستان آرمی کاکردار مشکوک ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے اندازہ لگایا کہ اب پاکستان سے رابطوں کی اہمیت اس کے محض ’الیکٹرانک لسننگ‘ یعنی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنیکی ایک چوکی ہونے تک رہ گئی ہے جسے امریکہ سویت میزائل صلاحیت اور ہوائی اڈوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ یہ معلومات اگر امریکہ کو مل جائیں تو پاکستان کو سوویت علاقوں پر ’یو۔2‘ جاسوس طیاروں کی پروازوں کے اڈے کے طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہونیوالے ان واقعات کی روشنی میں پاکستان کی سٹرٹیجک اہمیت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔عراق کی بغاوت نے پاکستان کو ملٹری سیٹلائٹ ریاست کے درجے سے ہٹا دینے پر مُصِر واشنگٹن کو اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ یکم اگست 1958 میںامریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سیکریٹری آف سٹیٹ ڈولس نے رپورٹ دی کہ پاکستان، ترکی اور ایران کے وزرائے اعظم ’بڑی مایوسی کا شکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان تینوں کو فوجی اور معاشی امداد میں اضافہ کر کے امریکی حمایت کا یقین دلانے کی ضرورت ہے۔ جوائنٹ چیف آف سٹاف نے اس بات سے اتفاق کیا۔یوں پاکستان میں عنان اقتدار سنبھالنے کے منتظر جنرل ایوب خان کی قسمت کا ستارہ چمک اُٹھا۔امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کا مقصد رجیم چینج تھا تو یہ منصوبہ ناکام ہوچکا کیونکہ رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کی ’’ہیڈ ٹرانسپلانٹ ‘‘کے ارادے خاک میں مل گئے۔

تازہ ترین