• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نشاط آپا اقبال ٹاؤن میں ہمارے ہمسائے میں رہتی تھیں۔ شاندار کوٹھی، ہینڈسم میاں ، خوبصورت دو بچے اور خود بھی ماہ پارہ ہی تھیں۔ اپنی سنجیدہ اور رکھ رکھاؤ کی طبیعت کی وجہ سے وہ سب کی نشاط آپا تھیں۔ میں نے سنا ہے انھیں یونیورسٹی کے زمانے میں بھی سب نشاط آپا ہی کہتے تھے اور انھیں آپا کہلانا اچھا لگتا تھا۔ نشاط آپا بہت رقیق القلب تھیں۔ شروع شروع میں تو کسی کا دکھ دیکھ یا سن کر آبدیدہ ہو جاتی تھیں مگر بعد میں انھوں نے دکھی قسم کے ڈرامے بھی دیکھنا شروع کر دیئے۔ ان ڈراموں میں ہیرو ہیروئن اتنا نہیں روتے تھے جتنا نشاط آپا روتی تھیں۔ اب ان کے سرہانے دکھی پریم نگری کے افسانوی مجموعے بھی نظر آنا شروع ہو گئے ۔ ان کے ذوق گریہ کو دیکھ کر ان کی ایک دوست نے مصور غم علامہ راشد الخیری کی کتابیں بھی تحفہ میں دے ڈالیں۔ ان کے شوہر کے ایک دوست نے جو ہر وقت خوف خدا سے لرزیدہ لرزیدہ رہتے تھے ’’موت کا منظر‘‘ اور ’’حسن پرستوں کا انجام‘‘ ایسی لرزہ خیز کتا بیں بھی انھیں پڑھنے کیلئے دیں۔

یہ کتابیں نشاط آپا کے ذوق گریہ کو مہمیز دینے والی تھیں، چنانچہ ان کا بہت سا وقت ان کتابوںکے مطالعے اور آنسو بہانےمیں گزرتا۔وہ کسی جاننے والی فیملی کے کسی فرد کی وفات کا سنتیں تو سب کام چھوڑ کر تعزیت کیلئے ان کے ہاں پہنچ جاتیں۔ لوگ آہ وزاری کرتے،اہلِ خانہ کو دلاسا دینے کی کوشش کرتے اور اہل خانہ نشاط آپا کو صبر کی تلقین کرتے نظر آتے ۔ کئی دفعہ نشاط آپا سڑک پر سے گزرتے ہوئے پورچ میں پھوڑی، بچھی دیکھتیں تو کار سڑک کے کونے میں کھڑی کر کے اہل خانہ سے تعزیت کیلئے انکے ہاں چلی جاتیں۔ جب جنازہ اٹھتا تو نشاط آپا کی آہ و بکا سن کرنا واقف لوگ سمجھتے کہ یہ خاتون شاید مرحوم یا مرحومہ کی کوئی قریبی عزیز ہے۔ اس دوران نشاط آپا نے مجالس عزا میں بھی شرکت شروع کر دی۔ مصائب اہل بیت کے ذکر پر انکے آنسو روکےنہیں رکتے تھے۔ اسی طرح پوری دنیا میں کہیں کوئی تباہی ہوتی ، کوئی وبا پھوٹتی، لوگوں کے دکھوں کی کہانیاں عام ہوتیں، ملبوں تلے میتوں کو نکالنے کا منظر ٹی وی پر دکھایا جاتا تو نشاط آپا کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب آ جاتا۔ دیکھتے دیکھتے انکی اس انسان دوستی کی شہرت پورے شہر میں پھیل گئی، چنانچہ اگر کوئی بے سہارا شہر میں فوت ہو جاتا اور اس کی میت پر کوئی رونے والا نہ ہوتا تو فلاحی تنظیمیں نشاط آپا کو گھر سے لے جاتیں اور یوں اس بے صدا گھر سے رونے کی آوازیں آنے لگتیں۔ جب یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا اور ان کا گھر، گھر کی بجائے ماتم کدہ بنتا نظر آیا، بچے نظر انداز ہونے لگے، گھر کا سسٹم اتھل پتھل ہو کر رہ گیا، نشاط آپا کا شوہر شادی شدہ ہونے کے باوجود خود کو رنڈوا محسوس کرنے لگا، آپا کے والدین ، بہن بھائی، دوسرے عزیز واقارب سے بھی نشاط آپا کا تعلق برائے نام رہ گیا تو سب کو اس صورتحال پر شدید تشویش ہوئی، چنانچہ اس مسئلے پر اہلِ خاندان کی میٹنگ ہوئی جس میں طے پایا کہ نشاط آپا کا غم واندوہ اب نارمل نہیں لگ رہا بلکہ نفسیاتی مسئلہ بن گیا ہے، چنانچہ کسی ماہر نفسیات سے مشورہ کیا جانا چاہئے۔ شہر کے ایک بہت بڑے ماہر نفسیات سے ٹائم لیا گیا اور نشاط آپا کے شوہر اپنی زوجہ کو لے کر اس کے کلینک پر گئے ۔ پتہ چلا ڈاکٹر صاحب ایک جنازے میں شرکت کیلئے گئے ہوئے ہیں، بس آنے ہی والے ہیں، چنانچہ تھوڑی دیر بعد وہ آ گئے۔ نشاط آپا کے شوہر نے انھیں بتایا کہ ان کی بیگم شروع سے رقیق القلب تھیں، لوگوں کا دکھ محسوس کرتیں اور انکے مداواکیلئے سب کچھ کر گزرتی تھیں، چنانچہ پورے خاندان ہی میں نہیں، پورے علاقے میں لوگ انکی بہت قدر اور عزت کرتے تھے۔ مگر رفتہ رفتہ ان میں تبدیلی آنا شروع ہوئی اور پھر اس کے بعد آپا کے شوہر نے پورا مسئلہ بہت تفصیل سے بیان کیا۔اس بیان کے دوران ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں نم ہونا شروع ہوئیں اور پھر انھوں نے دہاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا۔ انھیں بہت مشکل سے چپ کرایا گیا۔ جب نشاط آپا کےنفسیاتی پرابلم کے حوالے سے کچھ مزید باتیں بتائی گئیں تو ڈاکٹر صاحب نے ایک بار پھر رونا شروع کر دیا اور اس بار روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ڈاکٹر صاحب کیلئے جب مریضہ کے دکھ درد کا بیان برداشت سے باہر ہو گیا تو انھوں نے آپا کے شوہر کو اشارے سے خاموش ہونے کیلئے کہا۔ اس کے بعد انھوں نے با آواز بلند گریہ شروع کر دیا۔ اس گر یہ میں نشاط آپا کی آہ وزاری بھی شامل تھی۔ دونوں کیلئے ایک دوسرے کا دکھ برداشت سے باہر تھا۔ اس دوران کلینک کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو ڈاکٹر صاحب پر ایک بار پھر گر یہ طاری ہو گیا۔ اللّٰہ اللّٰہ ایسے درد مند لوگ اب کہیں نظر نہیں آتے ۔ جسے دیکھو وہ نا امیدی کی بجائے امید کی بات کرتا ، ہنسنے کو رونے پر ترجیح دیتا ہے۔ کیا ہم سب کو اپنی موت یاد نہیں رہی ؟ جب ایک قبر کھودی جائے گی اور ہمیں منوں مٹی میں دفنا دیا جائے گا، ہمیں عذاب قبر بھی یاد نہیں۔ ہائے اللّٰہ! ہائے اللّٰہ! بس اس سے آگے بات نہیں ہو رہی۔ میں نشاط آپا کے پاس جا رہا ہوں کہ ہمارے درمیان وہی ایک درد دل رکھنے والی خاتون ہیں۔

تازہ ترین