• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہندو مقدس رامائن کے مطابق زمانہ قدیم میں لنکا عسکری لحاظ سے ایک مضبوط ، طاقتوراور ناقابلِ شکست ریاست تھی لیکن جب لنکا کا بادشاہ راون اپنے اندرونی اختلافات کے سبب دفاعی رازوں کی حفاظت نہ کرسکاتو پھر لنکا تمام تر طاقت کے باوجود شکست سے دوچار ہوگیا،اس وقت سے یہ کہاوت" گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے" زبانِ زدعام ہوگئی کہ جب اندرونی رازدار ہی خفیہ معلومات مخالفین کو مہیا کر دے توپھر مضبوط سے مضبوط قلعہ بھی ڈھے جاتا ہے۔ آج ہماری سرحد کے پار ایران پر عالمی قوتوں کے ہولناک حملوں کے تناظر میں میڈیا پر منظرعام پر آنے والی مختلف رپورٹس سے ایسا ثابت ہوتا ہے کہ ماضی میں یہ محاورہ محدود سطح پر اندرونی چپقلش یا راز افشا ہونے کے تناظر میں بولا جاتا تھا، مگر اب گھر کا بھیدی کوئی انفرادی قریبی شخص نہیں بلکہ ہماری جیب میں موبائل فون، گھر کے اندر باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ اور دیگر ڈیجیٹل سیکیورٹی آلات بھی ہو سکتے ہیں جن پر ہم سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیاکی متعدد رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوںمیں مصنوعی ذہانت پر مبنی متحرک خودکار جنگی سسٹم نے اپنے عسکری اہداف کی شناخت اورحملے کے وقت کا ایسا درست تعین کیا کہ دوسری طرف موجود انسان کو سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔عمومی طور پر یہی سمجھا جارہا ہے کہ محفوظ ترین مقام میں مقیم ایران کے سپریم لیڈر جنکے درست ٹھکانے کا علم ایران کی اعلیٰ قیادت کوبھی نہیں ہوتا تھا،اُن سے ملاقات کرنے والوں کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کرانکے پاس لے جایا جاتا تھا، انکے متعلق معلومات امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے اندرونی جاسوسوں غداروں کی مدد سے حاصل کیں اور پھربظاہر اسرائیل نےمیزائل برسانے شروع کردیے، تاہم میں نے جتنے عالمی اخبارات کا مطالعہ کیا ،مجھے حیران کُن طور پر حقیقت اسکے بالکل برعکس نظر آرہی ہے۔ میری رائے میں جس طرح ایرانی قیادت ڈٹی ہوئی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کو نشانہ بنانا کسی اندرونی غدار کی کارستانی نہیں ہے،تاہم انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ضرور ہے جب کسی ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کسی انسان نے نہیں بلکہ اے آئی روبوٹس نے کیا ہے،اس حوالے سے اے آئی کلاوڈ کا تذکرہ عالمی میڈیا کی زینت بنا ہے جسکے مصنوعی دماغ نے ایرانی قیادت کو بے رحمانہ طریقے سے نشانہ بنایا، اے آئی نے تہران کی سڑکوں، چوراہوں، پبلک مقامات پر نصب سیکورٹی کیمروں ،سیٹلائیٹ، موبائل فون سگنلز اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی مدد سے چند لمحوں میں تجزیہ کرکے اپنی جنگی حکمت عملی مرتب کرلی، اے آئی نے اپنے ہدف پر جنگی میزائل داغنے کی ترتیب کا فیصلہ ایسے درست انداز میں کیا کہ انسانی دماغ چکرا کر رہ گیا، زمین پر موجود ایرانی قیادت کو اپنے سپریم کمانڈر کی شہادت کی اطلاع کنفرم کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے جبکہ اے آئی نے آخری لمحات کی ڈیجیٹل تصاویربھی بروقت حاصل کرکے دنیا کو حیران کردیا۔عالمی میڈیا کا کہناہے کہ تہران کے ٹریفک کیمروں کو کئی برس قبل ہی ہیک کر لیاگیا تھا، ایرانی دارالحکومت میں نصب سیکورٹی کیمروں کی ریکارڈ کردہ تصاویر اور ویڈیوزکو خفیہ طریقے سے اسرائیل میں موجود سرورز میں محفوظ کرکے تجزیہ کیا جاتا تھا،ایران نے یہ کیمرے بظاہراپنی سیکورٹی کیلئے نصب کیے تھے لیکن درحقیقت یہ گھر کے بھیدی ایرانیوں کی روزمرہ سرگرمیوں، ملاقاتوں کےاوقات کار، گاڑیاں پارک کرنے کے مقامات سمیت دیگر اندرونی حساس اطلاعات اسرائیل کو مہیا کررہے تھے، برطانوی اخباردی فنانشل ٹائمزنے اسرائیلی خفیہ ادارے کے عہدیدار کا یہ بیان اپنی تہلکہ خیز رپورٹ میں شامل کیا ہے کہ ہم اسرائیلی ہیک شدہ کیمروں سے حاصل کردہ ڈیٹا کی وجہ سےتہران کو ایسے اچھے سے جانتے ہیں جیسے مقبوضہ یروشلم سے جانکاری رکھتے ہیں۔ایران مخالف ہیکنگ کی کاروائیاں صرف سیکیورٹی کیمروں تک محدود نہیں تھیں بلکہ اسرائیل ساختہ اے آئی نےاپنا مشن کامیاب بنانے کیلئے ایران میں موبائل فون سگنل میں خلل ڈالنے، انٹرنیٹ کی بندش اور ریڈارسسٹم کو جام کرنےجیسے اقدامات بھی کیے ۔میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ برس کے عسکری تصادم کے بعد ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی جان کو شدید خطرات لاحق ہوچکے تھے، ایسے نازک حالات میں اعلیٰ سطح کےدفاعی اجلاس میں شرکت کیلئے سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ عسکری قیادت کا ایک چھت تلے جمع ہونا ایران کی جانب سے حد سے زیادہ خوداعتمادی کی عکاسی کرتا تھا، یقینی طور پر ایرانی حکام یہ اندازہ لگانے سے قاصر رہے کہ اس بار حملہ آور قوتیں انسان نہیں بلکہ انکا پالا مصنوعی ذہانت کی بے رحم ڈیجیٹل مشینوں سے پڑے گاجو آناًفاناََ تباہی مچا دیں گی۔میں ماضی میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کرچکا ہوں کہ اب اکیسویں صدی میں جنگ کا روائتی طریقہ کار یکسر بدل چکا ہے، دورِجدید کی جنگ میں جنگی طیارے، خودکار ڈرون، تباہ کُن ہتھیاروں سے لیس میزائل اہم ضرور ہیں، لیکن اصل فیصلہ کن کردار اندرونی معلومات اور آرٹیفشل انٹلجنس پر مبنی تجزیہ ادا کرتاہے، اب ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل ویڈیوکو مکمل دیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اے آئی خودکار انداز میں مطلوبہ مواد کا تجزیہ پیش کرسکتا ہے، چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی حرکت کا سراغ لگا سکتی ہےاورالگورتھم کی مدد سے درست فیصلہ سازی کی جاسکتی ہے۔ ماضی کی روایتی جنگوں میں دھماکوں کی دھمک سنائی دیتی تھی، حملے سے قبل نقارہ جنگ بجایا جاتا تھا، سائرن بجتے تھے لیکن آج کی سائبر جنگ میں خاموشی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے، نادیدہ طور پرویب سرور ہیک ہوجاتے ہیں، غیرمحسوس انداز میں قیمتی ڈیٹا چُراکر بیک اپ کہیں اور اپ لوڈ کردیا جاتا ہے، کسی کوکانوں کان خبر نہیں ہوتی اورپس منظر میں سات سمندر پار دشمن ڈیجیٹل بھیدیوں کی مدد سے ہر نقل و حرکت کی لائیو نگرانی کرتے ہوئے اے آئی کی مدد سے تباہ کُن جنگی حکمت عملی مرتب کرلیتاہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ زمانہ قدیم میں لنکا کے بادشاہ کو گھر کے بھیدیوں کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور آج کی جدید دنیا میں ایران کو ہیک شدہ سرکاری کیمروں، اندرونی ڈیٹا لیکج اور ڈیٹا سرورز تک غیرملکی رسائی کی صورت میں ڈیجیٹل بھیدیوں نے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، ایران کےاپنے نصب کردہ سیکورٹی انفراسٹرکچر نے حملہ آوروں کیلئےحساس معلومات کامستند ذریعہ بنکر صدیوں پرانی

کہاوت کو ایک مرتبہ پھر سچ ثابت کردکھایا ہے ۔ اس وقت ہمیں پاکستان کے مقبول ٹی وی چینل جیونیوز سمیت دیگر سیٹیلائٹ ٹیلی وژن نشریات کی مبینہ ہیکنگ کے حالیہ واقعے کو قومی سلامتی کو درپیش ڈیجیٹل خطرات کی ایک جھلک سمجھ کراے آئی کے میدانِ جنگ میں اپنا ڈیجیٹل دفاع ناقابلِ تسخیر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

تازہ ترین