امریکی فضائی کمپنی یونائیٹڈ ایئر لائنز نے مسافروں کے لیے اپنی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دورانِ پرواز موبائل یا دیگر آلات پر بغیر ہیڈفون کے آواز یا ویڈیو چلانے والے مسافروں کو طیارے سے اتارا جا سکتا ہے اور ان پر مستقل سفری پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی کمپنی نے 27 فروری کو اپنے پیسنجر معاہدے میں نئی شق شامل کی ہے۔
نئی شق کے تحت عملے کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ایسے مسافروں کو سفر سے روک سکتے ہیں یا انہیں پرواز سے ہٹا سکتے ہیں جو بلند آواز میں مواد چلا کر دوسرے مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔
اگر کسی مسافر کے رویے کی وجہ سے کمپنی کو نقصان یا اضافی خرچ برداشت کرنا پڑے تو اس کی مالی ذمے داری بھی اسی مسافر پر عائد کی جا سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی پہلے بھی مسافروں کو ہیڈ فون استعمال کرنے کی ہدایت دیتی تھی تاہم طیاروں میں انٹرنیٹ اور تفریحی سہولتوں میں اضافے کے بعد اس اصول کو باضابطہ طور پر تحریری شکل دی گئی ہے تاکہ عملے کو واضح اختیار حاصل ہو اور پرواز کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مسافر اپنے ہیڈ فون ساتھ لانا بھول جائے تو اسے فوری طور پر پرواز سے نہیں اتارا جائے گا، طیارے میں دستیاب ہونے کی صورت میں مسافروں کو مفت کانوں میں لگانے والے آلات بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
عملہ پہلے مسافر کو ہیڈ فون استعمال کرنے کی ہدایت کرے گا، اگر مسافر ہدایت ماننے سے انکار کرے تو اِسے طیارے سے اتارا جا سکتا ہے۔
بار بار خلاف ورزی یا سنگین صورتِ حال میں کمپنی ایسے مسافر پر مستقل سفری پابندی بھی عائد کر سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس اقدام کا مقصد دورانِ پرواز نظم و ضبط برقرار رکھنا اور تمام مسافروں کے لیے پُرسکون اور محفوظ ماحول یقینی بنانا ہے۔