آج آٹھ مارچ ہے دنیا بھرمیں عورتوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اور یہ محض اتفاق ہے کہ اس بار عورتوںکے عالمی دن پر خاص نعرہ جاری کیا گیاہے(For Women and Girls Rights, Equality and Action) حقوق، انصاف اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع تمام خواتین اور لڑکیوں کیلئے ۔عورتوں اور لڑکیوںکیلئے انصاف مساوات اور اس کے حصول کیلئے عمل کا نعرہ اس وقت لگایا جا رہا ہے جب فروری کی اٹھائیس کو ایران کے صوبے ہرمزگان کےایک چھوٹے سے شہرمیناب میںواقع بچیوں کےپرائمری اسکول پرامریکی میزائل حملے میں ایک سو ستر سے زیادہ بچیاںشہید کردی گئیں ۔اس دنیا میں جہاں امن کے عالمی اداروں میںجنیوا معاہدے کی گرد آلود فائلیں موجود ہیں جس میں جنگوں میں شہری آبادیوں پر حملہ کرنا بچوں اور عورتوں کو بارود کا نشانہ بنانا۔ جنگی اصول کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے اس بےرحم دنیا میں ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ کا آغاز پھولوں کی کیاری کو بارود کی آگ میں روند کر کیا گیا۔اسکول کی سات سے بارہ سال کی بچیوں کو اپنے گھروں سے ماؤں کو الوداع کہے زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو گھنٹے گزرے ہوں گے اسکول میں شاید پڑھائی کا پہلا گھنٹہ شروع ہو چکا ہو جماعت میں کام کرتی ہوئی بچیاں اپنی اپنی کاپیوں پر جھکی ہوئی بے خبر تھیں کہ اسکول کی محفوظ چار دیواری میں اپنے بے ضرر وجود کے ساتھ وہ چند ثانیوں میں ظالموں کے ظلم کا نشانہ بننے والی ہیں۔امریکی اسرائیلی میزائل اسکول پر گرا اور دیکھتے ہی دیکھتے 170 سے زائد بچیاں شہید ہو گئیں ۔یہ سنگین جنگی جرم پوری دنیا کے سامنے دن کی روشنی میں ہوا افسوس کہ عالمی میڈیا میں اس جرم کو رپورٹ کرتے ہوئے انتہا درجے کے شرمناک تعصب کا مظاہرہ کیا گیا ایک عالمی میڈیا کی رپورٹ سنی جس میں حد درجہ ڈھٹائی سےبچیوں کے اسکول پر ہونیوالے میزائل حملے کو رپورٹ کرتے ہوئےمبینہ حملہ قرار دیاگیا۔کیا یہ شرمناک بات نہیں کہ ایک جنگی جرم ہوا جسے پوری دنیا نے دیکھاوہاں ماری جانے والی بچیوں کی لاشیں موجود تھیں انکےجلے ہوئےبستے تھے، انکی لاشیں اٹھائی گئیں انہیں دفنایا گیا ، اس کے باوجود ایک عالمی میڈیا اس جنگی جرم کو مبینہ واقعہ قرار دے رہا ہے حالانکہ صحافت میں مبینہ کا لفظ کسی ایسے واقعے کو رپورٹ کرتے ہوئے لکھتے ہیں جس کو کسی ایک فریق یا کسی ایک فرد نے رپورٹ کیا ہو یعنی کسی ایک فرد نے یہ کہا کہ فلاں جگہ یہ واقعہ ہوا اور اس کی ابھی تحقیق ہونا باقی ہےکہ وہ واقعہ ہوا یا نہیں ہوا ۔ اسلئے احتیاط کے طور پر لفظ مبینہ استعمال کیا جاتا ہے لیکن عالمی میڈیا انتہا درجے کا متعصب ہے اسکول پر ہونیوالے میزائل حملے کو رپورٹ کرتے وقت بھی مبینہ کا لفظ استعمال کیا گیا ۔ اسرائیل اور امریکہ نے اس حملے کے بارے میں کہا ہے کہ انہیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ ایسا کوئی حملہ ہوا ہے جبکہ ایران نے اسےامریکی میزائل کا حملہ ہی قرار دیا ۔ اس سے پہلے فلسطین میں اسرائیل نے تاریخ کا بدترین جنگی جرم روا رکھا ۔ڈیجیٹل دور نے دنیا بھر میں بیٹھے لوگوں کو کیمرے کی آنکھ سے ظلم کی انتہا سہتے ہوئے بچے اور عورتوں کی تکلیف اور کرب کے مناظر دکھائے لیکن اسکے باوجود مغربی میڈیا میں اس ظلم کو تعصب کی وجہ سے اس شدت کے ساتھ رپورٹ ہی نہیں کیا گیا۔اس کا اظہار کمیٹی آف پروٹیکٹ جرنلسٹ کی ایک عالمی تنظیم کی چیف ایگزیکٹو صحافی جوڈی جنس برگ نے الجزیرہ پر انٹرویو دیتے ہوئے کیا کہ ہم شرمندہ ہیں مغربی میڈیافلسطینی صحافیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کو تعصب کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انہیں اس طرح سے رپورٹ نہیں کرتا جیسے مغربی دنیا کے کسی صحافی کی تکلیف اور مسائل کو رپورٹ کیا جاتا ہے مجھے نوم چومسکی کا خیال آتا ہے جو میڈیا کارپوریٹ سسٹم کے جرات مند ناقد ہیں بیسویں صدی کا سب سے بڑے ماہر لسانیات اور امریکہ کے استعماراتی ایجنڈوں کے ناقداس بوڑھے دانشور کو امریکی مین اسٹریم میڈیا پر آنے کی اجازت نہیںمغربی میڈیا کے اس تعصب کیلئے منتخب انسانیت(Selective humanity) کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ہم اپنے اپنے نظریات اور تعصبات کی عینک لگا کر انسانیت اور ان سے جڑے رویوں کو دیکھتے ہیں یہ صرف مغربی میڈیا کا ہی مسئلہ نہیں ہے یہ رویہ ہمیں اپنے دیسی ماحول میں بھی واضح دکھائی دیتا ہے۔ایران کی بے گناہ بچیوںکے پھولوں جیسے وجود جنگ کے ایندھن بنا دیے گئے وہ اپنے پہلو میں اپنے بستے لیے اپنی کتابوں پر جھکی ہوئیں بہیمانہ طریقے سے شہید کردی گئیں مگر دنیا میں بچیوں کی تعلیم کیلئے آواز اٹھانے والی وہ آوازیں ان کے حق میں خاموش رہیں جنہیں بچیوں کی تعلیم کیلئے کام کرنے پر نوبل انعام تک دیے گئے میرا اشارہ ملالہ یوسفزئی زئی کی طرف ہے۔میناب کی پھولوں جیسی بچیاں ایسے دوغلے کرداروں سے سوال کر رہی ہیں بولتے کیوں نہیں میرے حق میں.... آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟ غزہ کی بچیوں پر ڈھائی تین سال سے ڈھائے جانیوالےمظالم پر بھی انکی مجرمانہ خاموشی ہمیں باور کراتی ہے کہ ایسے کردار امتیازی انسانیت مینٹی جیسی شرمناک ویکسی نیشن دے کر ہی پروان چڑھائے جاتے ہیں جن کا بولنا اور خاموش رہنا اپنے آقاؤں کی اشیر باد کے اشارہ ابرو پر ہوتا ہے۔یہ دنیا ایک عالمی سرکس کی مانند دکھائی دیتی ہے آئے روز کوئی نہ کوئی عالمی دن منایا جاتا ہے عورتوں کے حقوق کا دن ،عورتوں پر تشدد کے خلاف سال کے آخری دو مہینوں میں پورے 10دن عالمی سطح پر منائے جاتے ہیں لیکن اسکے باوجود عالمی استعماری قوتیں،جنگی جنون میں وحشت وظلم کے نئے باب رقم کرتی چلی جاتی ہیں امن کا کوئی عالمی ادارہ اور اس ادارے کی فائلوں میںدرج انسانی حقوق کے چارٹر اس دستِ وحشت وبربریت کو روک نہیں پاتے تو پھر یہ دنیا اپنے مفادات کے مطابق’ امتیازی انسانیت‘ کے مجرمانہ تعصب پر مبنی ایک عالمی سرکس کے علاوہ اور کیا ہے!