سوال: نماز میں خيالات کا آنا کیسا ہے، اکثر خيالات آتے رہتے ہیں؟
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب: نماز کے آداب میں ہے کہ اسے پوری یک سوئی، توجہ اور خشوع وخضوع سے ادا کیا جائے، نماز کے دوران یہ تصوّر ہو کہ گویا اللّٰہ ربّ العزت کو دیکھ رہا ہوں، یہ نہ ہو سکے تو یہ تصور ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور میں ان سے مناجات کر رہا ہوں۔
اگر غیر اختیاری طور پر خیالات آ جائیں تو یاد آتے ہی فوراً نماز کی طرف متوجہ ہو جائیں، خیالات کو حتیٰ الامکان دور کرنے کی کوشش کریں، ان کی طرف توجہ نہ دیں، اس کوشش کے بعد بھی غیر اختیاری کوئی خیال آئے اس پر مؤاخذہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے نماز فاسد ہوتی ہے، البتہ نماز میں جان بوجھ کر دنیاوی خیالات لانا یا توجہ و تنبّہ کے بعد بھی قصداً دنیاوی خیالات میں منہمک رہنا منع ہے، اس سے نماز کے اجر و ثواب میں کمی ہوتی ہے، نماز میں خیالات سے بچنے کے لیے ان باتوں کا اہتمام کیجیے:
(1) طہارت کا اہتمام کیجیے، یعنی استنجا اور وضو سنّت و آداب کی مکمل رعایت رکھتے ہوئے کیجیے، نیز کپڑوں کی پاکی کا بھی اہتمام ہو۔
(2) جماعت شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے مسجد پہنچ جائیں، نماز سے پہلے کی سنّتیں ادا کریں اور جتنی دیر نماز کے انتظار میں بیٹھیں، دل میں اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا تصور کر کے یہ سوچیں کہ ابھی مالک الملک (بادشاہوں کے بادشاہ) کے دربار میں میری حاضری ہے۔
(3) اس دھیان سے ہر نماز ادا کریں کہ ممکن ہے یہ میری زندگی کی آخری نماز ہو، دوبارہ موقع نہ ملے۔
(4) نماز کے دوران جو کچھ پڑھا جائے، اس کے الفاظ اور معانی کی طرف دھیان رکھیں، یعنی تلاوت کے وقت اس کے معانی پر غور کریں اور بقیہ ارکان میں جو تسبیحات پڑھی جاتی ہیں، انہیں پڑھتے ہوئے ان کے معانی پر غور کریں۔
بطورِ خاص سورۂ فاتحہ پڑھتے سنتے وقت یہ حدیث شریف ذہن میں رکھیں، رسول اللّٰہ ﷺنے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے نماز (یعنی فاتحہ) اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا، اسے ملے گا، جب بندہ کہتا ہے: (الحمد للّٰه ربّ العالمین) سب تعریف اللّٰہ ہی کے لیے جو تمام جہانوں کا رب ہے، تو اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی۔ جب بندہ کہتا ہے: (الرحمن الرحیم) جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ پھر جب بندہ کہتا ہے: (مالک یوم الدین) روزِ جزا کا مالک ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ پھر جب بندہ کہتا ہےکہ (إیاك نعبد و إیاك نستعین ) ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں) تو اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ یہ (حصہ)میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے مانگا اور جب وہ کہتا ہے کہ (اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین أنعمت عليهم غیر المغضوب عليهم و لا الضالین) ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دیجیے، ان لوگوں کا راستہ جن پر آپ نے انعام فرمایا، جن پر نہ آپ کا غضب ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے) تو اللّٰہ فرماتا ہے کہ یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کا ہے جو اس نے مانگا۔
(5) ہر رکن ادا کرتے وقت اس کی سنتوں اور آداب کا خیال رکھیں، مثلاً: رکوع میں نگاہ دونوں پاؤں کی انگلیوں پر ہو، کہنیاں پہلو سے جدا ہوں، دونوں ہاتھ گھٹنوں پر اس طرح ہوں کہ ان کی انگلیوں کا رُخ زمین کی طرف ہو اور ہاتھوں کی انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑا ہوا ہو، ہاتھ گھٹنوں پر محض رکھے ہوئے نہ ہوں۔
نیز مرد کو چاہیے کہ رکوع میں اس طور پر اچھی طرح جھکے کہ اس کا سر، کمر اور سرین برابر ہوں، وغیرہ۔
(6) جس عمل میں مشغول ہوں اس کے بعد آنے والے عمل کی طرف توجہ رہے کہ اب یہ عمل کرنا ہے، ان باتوں کا اہتمام کریں گے تو ان شاء اللّٰہ نماز میں دھیان حاصل رہے گا، ابتدا میں محنت کرنی ہو گی، آہستہ آہستہ مشق ہو جائے گی اور دھیان بھی نہیں بٹے گا۔