تہران اور بیروت میں حالیہ ہائی پروفائل حملے ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد مہارت کے بجائے امریکی خفیہ ایجنسیوں پر منحصر ہے۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق فروری 2026ء میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت کو اسرائیل نے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا مگر یہ امریکی سی آئی اے کے تعاون اور ایران کی اندرونی سیکیورٹی کمزوری کی وجہ سے ممکن ہوا۔
عرب میڈیا کے مطابق سی آئی اے نے آیت اللّٰہ خامنہ ای کی نقل و حرکت کا مہینوں تک جائزہ لیا اور حملے کے وقت کا تعین اور فیصلہ اسرائیل کے ساتھ مل کر کیا، امریکی ڈرونز اور ٹاماہاک میزائلز نے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔
اسی طرح ستمبر 2025ء میں حسن نصراللّٰہ کے قتل میں بھی امریکی ساختہ بم استعمال ہوئے۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کی 2024ء میں شہادت مقامی معاونین کے ذریعے ممکن ہوئی، موساد نے ایرانی سیکیورٹی نظام کی اندرونی کمزوریوں اور شہری خفیہ معلومات کا فائدہ اٹھایا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے حالیہ کامیاب حملے صرف موساد کی تنہا مہارت نہیں بلکہ داخلی اور بین الاقوامی تعاون کا نتیجہ ہیں، اسرائیل نے تہران اور لبنان میں مقامی مخالفین اور تجارتی دھوکہ دہی کا بھی فائدہ اٹھایا ہے۔