• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2 مارچ 2026ءکو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر آصف علی زرداری کا خطاب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم مرحلے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، صدر مملکت کا یہ خطاب محض آئینی تقاضہ نہیں بلکہ قومی سمت کے تعین کا ایک اہم ذریعہ بھی تھا۔ اس خطاب میں ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا گیا جو جمہوری طور پر مستحکم، معاشی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر متحد ہو۔ یہ پیغام واضح تھا کہ ملک کی ترقی کا راستہ صرف جمہوری اداروں کی مضبوطی اور قومی اتفاق رائے سے ہو کر گزرتا ہے۔صدر زرداری کے خطاب میں وفاقی ہم آہنگی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان مختلف ثقافتوں، زبانوں اور علاقوں کا مجموعہ ہے اور یہی تنوع دراصل ملک کی طاقت ہے۔ اگر وفاق مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا۔ انہوں نے صوبوں کے حقوق کے احترام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو قومی استحکام کے لئے ضروری قرار دیا۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں قومی سلامتی کے مسئلے کو بھی نہایت سنجیدگی سے بیان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو امن کو ترجیح دیتی ہے لیکن اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے اور اس مقصد کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن کمزوری کا تاثر پیدا نہیں ہونے دے گا۔

معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ عام آدمی اس وقت مشکلات کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ نے عوام کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام کے بغیر سیاسی استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کو یاد دلایا کہ عوام نے انہیں اپنی مشکلات کے حل کے لئے منتخب کیا ہے۔ اس لئے پالیسی سازی میں عام آدمی کو مرکزیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو قومی ترجیح قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان معاشی استحکام حاصل کرسکتا ہے۔صدر مملکت نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی متوازن مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول خودمختاری کا احترام اور باہمی تعاون ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں دیکھے اور دہشت گردی کے خلاف اس کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا، لیکن قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خطاب کا ایک اہم پہلو قومی یکجہتی کا پیغام تھا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اتحاد کی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے انہیں جمہوری انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوام کی خدمت ہونا چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت عوام کے مسائل کو اپنی ترجیح بنا لے تو پاکستان بہت جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

صدر مملکت نے اپنی تقریر میں عام آدمی کے مسائل کو مرکزی حیثیت دی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی اصل ذمہ داری کمزور طبقات کی مدد کرنا ہے تاکہ معاشرے میں انصاف قائم ہوسکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی کا اصل مطلب صرف بڑے منصوبے نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں بہتری ہے۔ اگر ایک مزدور، کسان اور محنت کش اپنی زندگی میں بہتری محسوس کرے تو یہی اصل کامیابی ہوگی۔

انہوں نے اپنی تقریر میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی ان لوگوں کی قربانیوں کی بدولت قائم ہے جو دن رات ملک کے دفاع کے لئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہداء کے خاندانوں کے لئے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

صدر زرداری کا خطاب دراصل اس سیاسی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے جس کی بنیاد عوامی سیاست پر رکھی گئی ہے۔ اس سوچ کے مطابق ریاست کا مقصد عوام کی خدمت اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ جمہوریت سے ہو کر گزرتا ہے اور جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لئے تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔یہ خطاب امید اور اعتماد کا پیغام تھا۔ اس میں مایوسی کے بجائے مستقبل کے امکانات پر زور دیا گیا۔

صدر مملکت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کو درپیش مسائل عارضی ہیں اور قومی اتحاد کے ذریعے انہیں حل کیا جاسکتا ہے۔ ان کا یہ پیغام کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام اور جمہوری ادارے ہیں، ایک ایسی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے جو ملک کو استحکام کی طرف لے جاسکتی ہے۔یوں 2 مارچ 2026 کا صدارتی خطاب صرف ایک رسمی کارروائی نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی اور قومی وژن کا اظہار تھا جس میں جمہوریت، وفاق، معیشت اور قومی سلامتی کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا دکھایا گیا۔ یہ خطاب اس یقین کا اظہار تھا کہ اگر پاکستان کے عوام اور قیادت متحد ہو جائیں تو کوئی بھی چیلنج ناقابل عبور نہیں رہتا۔

تازہ ترین